• پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home کالمز

یورپ و امریکا میں شدید گرمی کی اصل وجہ حصہ دوم و آخر

مسعود انور

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
جولائی 12, 2026
in کالمز
0
یورپ و امریکا میں شدید گرمی کی  اصل وجہ  حصہ اول
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

: دنیا بھر میں ہونے والی جنگوں نے صرف فریق ممالک کو ہی متاثر نہیں کیا ہے بلکہ اس کا اثر بالواسطہ طور پر پوری دنیا پر ہی پڑا ہے ۔ گولہ باری اور بارود برسانے سے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کئی گنا اضافہ ریکارڈ کیاگیا جو موسمیاتی تغیر کی اصل وجہ ہے ۔ 2019 کے ایک جائزے کے مطابق دنیا بھر میں ہونے والے فوجی تنازعات گرین ہاؤس گیسوں کے مجموعی اخراج کے ساڑھے پانچ فیصد کے براہ راست ذمہ دار تھے ۔ اگر دنیا بھر کی فوج کو ایک ملک تصور کرلیا جائے تو ان کی وجہ سے ہونے والا گرین گیسوں کا اخراج دنیا بھر میں چوتھے نمبر پر ہے ۔ پہلے نمبر پر امریکا، دوسرے پر چین اور تیسرے نمبر پر بھارت ہے ۔ اس سے دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلیوں کے ذمہ دار مجرموں کا پتا لگایا جاسکتا ہے ۔ جوں جوں دنیا بھر کے فوجی بجٹ میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ ویسے ویسے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں بھی اضافہ ہو رہا ہے ۔ ایک اسٹڈی کے مطابق فوجی بجٹ میں ہر 100 ارب ڈالر کا اضافہ 3 کروڑ 20 لاکھ ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے برابر گرین گیسوں کے اخراج کا باعث بنتا ہے ۔ 2019 میں دنیا بھر میں ہونے والے فوجی اخراجات 1.9 ٹریلین ڈالر تھے جو 2024 میں بڑھ کر 2.7 ٹریلین ڈالر پر پہنچ گئے ۔ اندازہ ہے کہ 2035 میں یہ اخراجات 6.6 ٹریلین ڈالر ہوں گے ۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہر سال موسمیاتی تبدیلیاں کیا تباہ کاری مچائیں گی ۔

یوکرین پر روس کے حملے کے پہلے تین برسوں میں 23 کروڑ 70 لاکھ ٹن کاربن ڈائی اکسائیڈ کے برابر گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج ہوا ۔ اس میں سے ایک تہائی اخراج براہ راست بمباری سے ، 27 فیصد بحالی کے کاموں سے اور 22 فیصد جنگ کے باعث لگنے والی آگ کی وجہ سے ہوا ۔ جنگ کی وجہ سے موسمیاتی تبدیلیوں کا جائزہ لینے والے ادارے Initiative on Greenhouse Gas Accounting of War (IGGAW) کے مطابق صرف روس یوکرین جنگ کے باعث دنیا کو 32 ارب ڈالر کے نقصانات کا اب تک سامنا کرنا پڑا ہے ۔غزہ کی کہانی یوکرین سے مختلف ہے ۔ ایک تو نقصان یکطرفہ ہے ، دوسرے جس جگہ بمباری کی گئی وہ انتہائی مختصر رقبہ ہے جس کی وجہ سے تباہ کاری کے اثرات کئی سو گنا بڑھ گئے ہیں ۔ غزہ میں ہونے والی بمباری سے گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج 33 کروڑ 20 لاکھ ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے برابر تھا ۔ شروع کے چار ماہ میں غزہ سے گرین ہاؤس گیسوں کا جو اخراج ہوا وہ 26 ممالک کے مجموعی اخراج سے بھی زیادہ تھا ۔ غزہ میں بجلی کی 70 فیصد ضروریات شمسی توانائی سے پوری کی جارہی تھیں ۔ اسرائیل نے یہ پورا نظام ہی تباہ کردیا ہے ۔ اس وقت غزہ میں بجلی پیدا کرنے کا واحد ذریعہ ڈیزل سے چلنے والے جنریٹر ہیں ۔ تخمینہ ہے کہ اس سے ایک لاکھ 30 ہزار ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے برابر گرین ہاؤس گیسوں کا مزید اخراج ہوگا ۔

امریکا اور اسرائیل نے نیا محاذ ایران کے خلاف کھولا ہے ۔ پہلے جون 2025 میں ایران کی ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ، اس کے بعد 28 فروری 2026 سے ایران پر مسلسل حملے جاری ہیں ۔ ان حملوں کے لیے وسیع پیمانے پر ڈرون ، ہوائی جہاز اور بیلاسٹک میزائیل استعمال کیے جارہے ہیں جبکہ ایرانی میزائیل اور ڈرون حملوں کو ناکام بنانے کے لیے Interceptors استعمال کیے جارہے ہیں ۔ جنگی ہوائی جہاز فضائی آلودگی کو بڑھانے کا یقینی ذریعہ ہیں جبکہ بیلاسٹک میزائیل اور interceptors میزائیل اوپری فضائی سطح خاص طور سے mesosphere اور stratosphere کو شدید نقصان پہنچانے کے حوالے سے جانے جاتے ہیں ۔ ایران میں نشانہ بنائے جانے والے اہداف بھی انتہائی اہم ہیں ۔ یہ فیکٹریاں اور ایٹمی تنصیبات بمباری کے بعد ماحول میں انتہائی زہریلے کیمیائی مادے چھوڑتی ہیں جو فضاء اور انسان دونوں کے لیے مہلک ثابت ہورہے ہیں ۔ ایران اور خلیجی ممالک میں تیل کی تنصیبات پر براہ راست بمباری نے انسانی صحت اور ماحول پر تباہ کن اثرات مرتب کیے ہیں ۔ تہران کے قریب ایک آئل ڈپو پر ہونےوالے حملے کے باعث یہاں پر سیاہ بارش ہوئی جبکہ مقامی آبادی میں سردرد اور سانس لینے میں تکلیف کی شکایات عام ہیں ۔ طویل مدت میں یہ فضائی آلودگی دل کے امراض میں بھی اضافہ کا باعث ہوگی ۔ اسرائیل اور امریکا کا ایران میں پسندیدہ ہدف ایٹمی تنصیبات ہیں ۔ اس کا مطلب ہے فضاء میں تابکار ذرات کی موجودگی ۔ اسرائیل اور امریکا دونوں کو معلوم ہے کہ فضاء میں موجود یہ تابکار ذرات محض ایک جگہ تک ساکن نہیں رہیں گے بلکہ یہ ہوا کے ساتھ پورے کرہ کو اپنی لپیٹ میں لیں گے ۔ پھر بھی ان اہداف پر بمباری جاری ہے ۔

اب ہم یہ سب جان چکے ہیں کہ مغربی یورپ اور شمالی امریکا قدرت کے جس قہر کا شکار ہیں ، یہ سب ان کا اپنا کیا دھرا ہے ۔ یہ بھی ہم جان چکے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلیوں کا جو سلسلہ آج سے 25 برس قبل شروع ہوا تھا ، اس کی رفتار اب تیز ہوچکی ہے اور وقت کے ساتھ اس میں مزید تیزی آئے گی ۔ خلیجی ممالک تو قحط ، سیلاب اور شدید موسم کا سامنا کریں گے ہی مگر یورپ اور امریکا بھی اپنی لگائی ہوئی اس آگ سے اب نہیں بچ سکیں گے ۔ غزہ میں ہونے والی بمباری کے اثرات بھی محض غزہ تک محدود نہٰں رہیں گے بلکہ اسرائیل بھی اس کا یکساں سامنا کرے گا ۔ شاید یہ قدرت کا خاموش انتقام ہے ۔ایسا نہیں ہے کہ یہ سب اچانک ہوگیا ہے ۔ ماہرین مسلسل اس کے بارے میں بتاتے رہے ہیں مگر انہیں قابل اعتناء نہیں سمجھا گیا ۔ .گارجین نے 9 جنوری 2024 کو رپورٹ Emissions from Israel’s war in Gaza have ‘immense’ effect on climate catastrophe کے عنوان سے شایع کی ۔ 5 دسمبر 2023 کو الجزیرہ نے Is Israel’s Gaza bombing also a war on the climate? کے عنوان سے رپورٹ شایع کی ۔ کوئین میری کالج لندن نے Is Israel’s Gaza bombing also a war on the climate? کے نام سے رپورٹ شایع کی ۔ اس طرح کی سیکڑوں تحقیقی رپورٹیں ہیں جو گزشتہ کئی برسوں سے شایع کی جارہی ہیں مگر ایسی تمام رپورٹوں کو دبا دیا گیا ۔ یورپ اور امریکا میں تباہی کے بعد آج بھی موسمیاتی تغیر کی تو بات کی جارہی ہے مگر اس کی اصل وجوہات اور اس کے مجرموں کا کہیں پر کوئی ذکر نہیں ہے ۔وقت آگیا ہے کہ کرہ ارض کی تباہی کے ذمہ دار اصل مجرموں کو پہچانا جائے اور ان کے خلاف موثر آواز بلند کی جائے ۔ اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہیے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھیے ۔ ہشیار باش ۔

پچھلی پوسٹ

حکومت جوڈیشل ٹاور منصوبے کی بروقت تکمیل کیلئے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی، وفاقی وزیر قانون

اگلی پوسٹ

دریائے سندھ پاکستان کی شہ رگ ہے، آبی حقوق کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، وزیراعلیٰ سندھ

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post
دریائے سندھ پاکستان کی شہ رگ ہے، آبی حقوق کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، وزیراعلیٰ سندھ

دریائے سندھ پاکستان کی شہ رگ ہے، آبی حقوق کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، وزیراعلیٰ سندھ

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • Hrajte své oblíbené kasinové hry kdykoli a kdekoli na svém chytrém telefonu nebo tabletu s Posido casino, které vám nabízí skvělou zábavu a příležitosti k výhře.

  • Εγγραφείτε εύκολα, πραγματοποιήστε γρήγορες καταθέσεις και απολαύστε ταχύτατες πληρωμές στο Vegashero, όπου η εμπειρία του online καζίνο σας περιμένει με συναρπαστική δράση.

  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper