کراچی( نمائندہ خصوصی)ہمدرد فائونڈیشن پاکستان کی صدر محترمہ سعدیہ راشد کی میزبانی میں ہمدرد شوریٰ کراچی کا اہم اجلاس گزشتہ روز ’’بڑھتی ہوئی آبادی اور کم ہوتےوسائل:لمحہ فکریہ‘‘ کے موضوع پر اسپیکر جنرل(ر) معین الدین حیدر کی زیر صدارت ہمدرد کارپوریٹ ہیڈ آفس میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی مہمان مقررہ ڈپٹی ڈائریکٹرصوبائی محکمہ بہبودِ آبادی سندھ ڈاکٹر مہوش مبارک نے کہااگر اس نوجوان افرادی قوت کو معیاری تعلیم، بہتر صحت، ہنر اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں تو یہی آبادی ملک کی سب سے بڑی طاقت بن سکتی ہے۔بہ صورتِ دیگر یہی آبادی ہمارے لیے ایک بڑا معاشی اور سماجی چیلنج بھی ثابت ہو سکتی ہے۔آبادی میں تیزی سے اضافے کے اثرات صرف وسائل تک محدود نہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلی، صحت اور معیشت پر بھی نمایاں ہیں۔ ہر سال 14 لاکھ بچے پیدا ہو رہے ہیں۔ یہ تعداد ایک بڑے شہر کی آبادی کے برابر ہے۔ ان بچوں کے لیےا سکول، ہسپتال، رہائش، خوراک، صاف پانی، روزگار اور دیگر بنیادی سہولیات درکار ہوں گی۔ اگر وسائل اسی رفتار سے نہ بڑھیں تو مسائل میں مسلسل
اضافہ ہوتا جائے گا۔ ایران میں ہر 100 شادی شدہ جوڑوں میں سے 77 خاندانی منصوبہ بندی کے طریقے استعمال کرتے ہیں۔جبکہ پاکستان میں یہ اب بھی صرف 34 فیصد ہے۔ اس کامیابی کے پیچھے ایرانی حکومت کی مضبوط سرپرستی، مؤثر بنیادی صحت کا نظام، دیہی علاقوں میں قائم ہیلتھ ہاؤسز، شادی سے پہلے لازمی مشاورت اور فیملی پلاننگ کی خدمات کا اہم کردار ہے۔حکومت سندھ آبادی کے حوالے سے’’کنٹرول‘‘کی اصطلاح کی بجائے اب’’توازن‘‘پر زور دے رہی ہے۔ پہلے ہمارا نعرہ تھا’’دو بچے، خوشحال گھرانہ‘‘، لیکن وقت کے ساتھ اس پالیسی میں تبدیلی کی گئی اور اب یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ اصل مقصد بچوں کی تعداد اور خاندان کے وسائل کے درمیان توازن قائم کرنا ہے۔اگر کسی خاندان کے زیادہ بچے ہیں لیکن وہ انہیں معیاری تعلیم، اچھی صحت، مناسب خوراک اور بہتر زندگی کی تمام سہولیات فراہم کرنے کی استطاعت رکھتا ہے، تو یہ ان کا ذاتی فیصلہ ہے۔ تاہم بنیادی بات یہ ہے کہ ہر خاندان اپنی آمدنی، وسائل اور ذمےداریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبہ بندی کرے تاکہ ہر بچے کو بہتر مستقبل فراہم کیا جا سکے۔
محکمۂ بہبودِ آبادی نے حالیہ برسوں میں مردوں کی شمولیت پر خصوصی توجہ دی ہے۔ اس مقصد کے لیے ہر ضلع میں مرد ڈاکٹروں کو تعینات کیا جا رہا ہے اور مختلف مقامات پر مردوں کے لیے آگاہی مراکز قائم کیے گئے ہیں، جہاں انہیں خاندانی منصوبہ بندی اور ذمے دار والدین کے کردار سے متعلق معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔ اس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں اور مردوں کی دلچسپی میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔اس کے علاوہ متعدد قومی اور بین الاقوامی ادارے، جیسے عالمی ادارہ صحت اور مختلف غیر سرکاری تنظیمیں، محکمۂ بہبودِ آبادی کے ساتھ خاندانی منصوبہ بندی، عوامی آگاہی اور تولیدی صحت کے فروغ کے لیے تعاون کررہے ہیں۔حال ہی میں محکمے کی سہولیات اور خدمات کو ڈیجیٹائز کرنے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں نوجوانوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی ایک وائس کال اسسٹنٹ تیار کیا گیا ہے، جہاں نوجوان مکمل رازداری کے ساتھ تولیدی صحت اور خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق اپنے سوالات پوچھ سکتے ہیں۔ محکمہ کے مراکز میں QR کوڈ کے ذریعے اس سسٹم تک رسائی دی جاتی ہے، تاکہ آنے والے افراد پہلے اپنی معلومات حاصل کریں اور پھر ضرورت پڑنے پر ڈاکٹر یا تربیت یافتہ عملے سے براہِ راست مشورہ کریں۔ اس سے نہ صرف لوگوں کا وقت بچتا ہے بلکہ انہیں بہتر اور بروقت رہنمائی بھی ملتی ہے۔ڈاکٹر رضوانہ انصاری نے کہا کہ اگر ہم آبادی میں توازن پیدا نہیں کریں گے تو ترقی کی مطلوبہ رفتار حاصل نہیں کر سکیں گے۔ اسلام تعداد کے بجائے اولاد کی اچھی تربیت، صحت اور معیارِ زندگی پر زور دیتا ہے۔ پاکستان میں بھی خواتین کی معاشی خودمختاری اور بااختیار بنانے کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے ہیں، تاہم ابھی مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ خاندانی منصوبہ بندی کے پروگرام کی کامیابی کے لیے فیلڈ میں کام کرنے والی خواتین کو محفوظ ماحول فراہم کرنا ضروری ہے۔ اگر انہیں ہراسانی یا عدم تحفظ کا سامنا ہوگا تو وہ مؤثر انداز میں اپنی ذمے داریاں انجام نہیں دے سکیں گی۔ خواتین کی تعلیم، ہنر مندی اور معاشی خودمختاری انتہائی اہم ہے۔ جب تک خواتین تعلیم یافتہ اور بااختیار نہیں ہوں گی، وہ اپنی صحت، بچوں کی تعلیم اور خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق فیصلوں میں مؤثر کردار ادا نہیں کر سکیں گی۔ اکثر خواتین معاشی انحصار یا گھریلو دباؤ کی وجہ سے اپنی رائے کا اظہار بھی نہیں کر پاتیں۔ معاشرے میں مذہبی حوالے سے پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے مستند علماء کا کردار نہایت اہم ہے۔اجلاس سے جنرل (ر) معین الدین حیدر ، ڈپٹی اسپیکر کرنل(ر) مختار احمد بٹ، ظفر اقبال، پروفیسر ڈاکٹر جعفر احمد، مبشر میر، انجینئر پرویز صادق، انوار الحق صدیقی، انجینئر ابن الحسن، مظفر اعجاز، پروفیسر ڈاکٹر تنویر خالد، سینیٹر عبدالحسیب خان، سلطان چاولہ، پروفیسر ڈاکٹر عامر طاسین و دیگر شوریٰ اراکین نے بھی اظہار خیال کیا۔

