اسلام آباد(نمائندہ خصوصی):چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے دنیا کو خبردار کیا ہےکہ بھارت کی جانب سے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنا نہایت سنگین اقدام ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ پاکستان اپنے وجود کے لئے پیدا ہونے والے اس خطرے کا ہر ممکن طریقے سے مقابلہ کرے گا،پاکستان اپنے پانی، اپنے عوام، اپنے معاہدے، اپنی خودمختاری اور اپنے مستقبل کا ہر قیمت پر دفاع کرے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کوسندھ طاس معاہدے سے متعلق بین الاقوامی سیمینار سےاپنے کلیدی خطاب میں کیا۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم آج ایک نہایت نازک وقت میں جمع ہوئے ہیں، ایسے وقت میں جب دنیا کو ایک بار پھر یہ احساس دلایا گیا ہے کہ آبی گزرگاہ صرف جغرافیہ نہیں بلکہ طاقت، تجارت، خوراک، توانائی اور زندگی کا نام ہے،دنیا نے دیکھا کہ آبنائے ہرمز ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کا مرکز بن گئی، پاکستان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے ذریعے اس عالمی معاشی شہ رگ کو دوبارہ کھولنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں ایران اور امریکہ جنگ بندی پر آمادہ ہوئے، آبنائے ہرمز کی بندش دراصل ایک آبی گزرگاہ کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی مثال تھی۔انہوں نے کہا کہ جس طرح آبنائے ہرمز کی بندش کے ساتھ ایران اور امریکہ کے درمیان نہ امن قائم ہو سکتا تھا اور نہ جنگ بندی، اسی طرح سندھ طاس معاہدہ کی بحالی کے بغیر بھارت اور پاکستان کے درمیان بھی پائیدار جنگ بندی ممکن نہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے گزشتہ موسم گرما میں پاکستان پر بلاجواز حملے کے بعد سندھ طاس معاہدہ سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا، یہ وہ جنگ تھی جسے دنیا نے بھارت کی شکست کے طور پر تسلیم کیا، حتیٰ کہ بھارت کے قریبی اتحادی بھی پاکستان کی جانب سے بھارتی طیاروں کو مار گرانے کی تعداد پر حیران رہ گئے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی اس کامیابی نے خطے کی جغرافیائی
سیاست کو تبدیل کر دیا ہے، بھارت کو خطے کا واحد سکیورٹی فراہم کنندہ بنانے کا تصور دم توڑ چکا اور دنیا اب آگے بڑھ چکی ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگرچہ پاکستان نے جنگ بندی کی مکمل پاسداری کی لیکن بھارت نے ایسا نہیں کیا، جنگ بندی کے واضح اور تحریری نکات کے مطابق دونوں ممالک کو ایک غیرجانبدار مقام پر ملاقات کر کے تمام تنازعات پر بات کرنا تھی جبکہ اس دوران معمول کے تعلقات بحال کئے جانے تھے، جن میں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی بحالی بھی شامل تھی مگر بھارت نے ایسا نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ اب پاکستان کے لئے یہ ایک اہم سوال ہے کہ کیا ایسی جنگ بندی برقرار رکھی جا سکتی ہے جس میں بنیادی مسائل حل ہی نہ کئے جائیں؟ اگر آبنائے ہرمز بند ہو تو امن ممکن نہیں، تو پھر بھارت جب پاکستان کی بقاءکے لئے خطرہ بنا ہوا ہے تو پاکستان سے مستقل جنگ بندی کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟بلاول بھٹو نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد، نئی دہلی، واشنگٹن، بیجنگ، لندن اور اقوام متحدہ میں کسی کو بھی اس بارے میں کوئی ابہام نہیں ہونا چاہئے کہ یہ کوئی تکنیکی یا انتظامی تنازعہ نہیں، نہ ہی یہ صرف دونوں ممالک کے واٹر کمشنرز کے درمیان اختلاف ہے بلکہ یہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ پاکستان پر کوئی احسان نہیں تھا بلکہ تقسیمِ ہند کے بعد ایک سنجیدہ بین الاقوامی معاہدہ تھا تاکہ پنجاب اور سندھ کے دریا غصے، انتقام یا سیاسی دباؤ کے رحم و کرم پر نہ چھوڑ دیئے جائیں۔انہوں نے یاد دلایا کہ عالمی بینک کے مطابق معاہدے کے تحت دریائے سندھ، جہلم اور چناب پاکستان کے حصے میں آئے جبکہ مشرقی دریا بھارت کے لئے مختص کئے گئے، البتہ دونوں ممالک کو محدود حد تک ایک دوسرے کے دریاؤں سے استفادے کی اجازت دی گئی۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ جب بھارت کہتا ہے کہ وہ اس معاہدے کو معطل کر رہا ہے تو وہ صرف اجلاس ملتوی نہیں کرتا بلکہ پاکستان کے وجود کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لئے دریائے سندھ صرف نقشے پر موجود ایک دریا نہیں بلکہ ہماری روٹی، ہماری کپاس، ہماری گندم، سندھ کے کھیت، پنجاب کے باغات، خیبر پختونخوا کے چشمے، بلوچستان کی نہریں، صبح سویرے کھیتوں میں کام کرنے والا کسان، پانی بھرنے والی مائیں، روٹی کھانے والے بچے، کارخانوں کے مزدور اور فصل سے پہلے کی جانے والی دعائیں ہیں۔بلاول بھٹو نے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی روکنا کسی حکومت پر دباؤ ڈالنا نہیں بلکہ پوری قوم کے وجود کو خطرے میں ڈالنا ہے، پاکستان کے کروڑوں عوام کی زندگی اس دریا سے وابستہ ہے اور نہ کوئی حکومت، نہ پارلیمنٹ، نہ عدالت، نہ فوج اور نہ ہی کوئی سیاسی جماعت یہ حق رکھتی ہے کہ وہ اس قومی زندگی کی علامت پر خاموش رہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنے پانی کے خلاف ہونے والے ہر اقدام کو صرف سفارتی مسئلہ یا معمولی اختلاف نہیں بلکہ قومی سلامتی پر حملہ سمجھنا ہو گا کیونکہ یہ ریاست کی بنیادوں پر حملہ ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ پاکستان جنگ چاہتا ہے، ہم جنگ نہیں چاہتے کیونکہ اس خطے میں ہم بہت سے بیٹوں کو دفن کر چکے ہیں اور بے شمار خون بہتے دیکھ چکے ہیں، ہم مہم جوئی کی قیمت اور غلط اندازوں کے المناک نتائج سے بخوبی واقف ہیں۔انہوں نے کہا کہ امن کا مطلب ہتھیار ڈال دینا نہیں، ضبط کا مطلب بے عملی نہیں، سفارتکاری خاموشی کا نام نہیں اور صبر کا مطلب کسی کو اجازت دینا نہیں،اگر بھارت چاہتا ہے کہ دنیا اس کی دھمکیوں کو سنجیدگی سے لے تو پاکستان کو بھی دنیا پر واضح کرنا ہوگا کہ ہماری بقا ء بھی اتنی ہی اہم ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا پیغام بالکل واضح ہونا چاہئے کہ اگر بھارت پاکستان کے جائز حصے کے پانی کو روکنے، موڑنے، اس میں ردوبدل کرنے یا اسے سیاسی دباؤ کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے معمول کا انجینئرنگ منصوبہ نہیں سمجھا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ہر سروے، ہر ٹینڈر، ہر نہر کی تجویز، ہر ڈیم کا منصوبہ اور ہر ایسا عملی قدم جو پاکستان کے لئے معاہدے کے تحت مقررہ پانی کے بہاؤ کو متاثر کرے، اسے قومی سلامتی کے لئے ایک واضح خطرے کی گھنٹی سمجھا جانا چاہئے۔ان کے مطابق ایسے ہر اقدام پر ریاست کو قانونی، معاشی، سیاسی، سفارتی، اطلاعاتی، قومی سلامتی اور اگر ضرورت پڑے تو عسکری سطح پر بھی مناسب ردعمل دینا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بھارت کو یہ موقع نہیں دینا چاہئے کہ وہ دباؤ بڑھاتا جائے جبکہ ہم صرف تشویش کے بیانات جاری کرتے رہیں، پانی کا گلا گھونٹنا پاکستان کے وجود کے لئے خطرہ ہے، اس لئے ہم اس وقت تک خاموش نہیں رہ سکتے جب تک منصوبے تیار ہوں، سرمایہ کاری ہو، ڈیزائن بنیں، ٹینڈر جاری ہوں اور یہ سب معمول کا حصہ بنا دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ کوئی قوم اس وقت نہیں جاگتی جب دریا خشک ہو جائے بلکہ وہ اس وقت بیدار ہوتی ہے جب اس کے مستقبل کو نقصان پہنچانے کے لئے پہلا پتھر رکھا جاتا ہے۔انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو ایسا کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہئے جس سے بھارت کے غیرقانونی مؤقف کو تسلیم کرنے کا تاثر ملے، ہمیں ہرگز یہ نہیں مان لینا چاہئے کہ بھارت کا یکطرفہ فیصلہ ناقابلِ واپسی حقیقت بن چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنی پالیسیاں اس بنیاد پر نہیں بنانی چاہئیں کہ سندھ طاس معاہدہ ختم ہو چکا ہے، اسی طرح ہمیں جلد بازی میں ایسے متبادل ڈیم یا منصوبے شروع نہیں کرنے چاہئیں جن سے دنیا کو یہ پیغام ملے کہ بھارت اپنے مقصد میں کامیاب ہو گیا ہے اور اب پاکستان اسی صورتحال کے مطابق خود کو ڈھال رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں ہرگز یہ تاثر نہیں دینا چاہئے کہ ہم میدانِ جنگ میں تو کامیاب ہوئے لیکن دریائے سندھ کے کنارے شکست تسلیم کر لی۔چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے واضح کیا کہ پاکستان کا مؤقف غیرمتزلزل رہنا چاہئے کہ سندھ طاس معاہدہ آج بھی برقرار ہے اور پاکستان کے حقوق بھی پوری طرح برقرار ہیں۔صرف اس لئے کہ بھارت نے ’’معاہدہ معطل‘‘ کرنے کی اصطلاح اختیار کر لی ہے، اس سے دریائے سندھ بھارت کا آلہ نہیں بن سکتا۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے یکطرفہ فیصلے سے پہلے جن آبی منصوبوں، ڈیموں، بیراجوں اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی جا چکی تھی، انہیں ان کی اپنی اہمیت کے مطابق جاری رکھا جانا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو اپنے ڈیم، آبی ذخائر، بیراج، نہری نظام اور سیلاب سے تحفظ کے منصوبوں کو مضبوط بنانا چاہئے کیونکہ پاکستان کو پانی کا محفوظ مستقبل درکار ہے، خواہ بھارت جارحیت کرے یا نہ کرے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو یہ فرق ہمیشہ ذہن میں رکھنا ہوگا کہ اپنی طاقت بڑھانا ایک بات ہے جبکہ بھارت کی بلیک میلنگ کو تسلیم کرنا بالکل دوسری بات ہے، قومی استحکام اور سفارتی ہتھیار ڈالنے میں واضح فرق ہے، اسی طرح پانی کی قلت کے لئے تیاری کرنا اور پانی کی چوری کو جائز مان لینا بھی دو الگ چیزیں ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو پانی کے تحفظ کے لئے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا، ہمیں جدید آبپاشی کا نظام اپنانا ہوگا، نہروں میں پانی کے ضیاع کو کم کرنا ہوگا، ڈریپ اریگیشن، جدید زرعی ٹیکنالوجی اور سمارٹ ایگریکلچر میں سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ہمیں پانی کے ہر قطرے کی قدر کرنی چاہئے، اس لئے نہیں کہ بھارت کو ہمارا پانی چرانے کا حق حاصل ہے بلکہ اس لئے کہ پاکستان پر اپنی آنے والی نسلوں کے مستقبل کی حفاظت فرض ہے۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو معاہدے کے دائرہ کار سے باہر موجود ہر ممکن آبی ذریعہ تلاش کرنا چاہئے،ہمیں اپنے ساحلی علاقوں میں سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے (ڈی سیلینیشن)، شہروں میں پانی کی ری سائیکلنگ، موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ آبی ذخائر، علاقائی آبی تعاون اور طویل المدتی بنیادوں پر وسطی ایشیا سے باہمی معاہدوں اور خودمختارانہ انتظامات کے ذریعے پانی لانے کے امکانات کا بھی سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ انجینئروں کو نئے خواب دیکھنے دیجیے، منصوبہ سازوں کو حساب کتاب کرنے دیجیے، سفارتکاروں کو مذاکرات کرنے دیجیے اور ریاست کو دور اندیشی اور تخلیقی سوچ کے ساتھ عملی اقدامات کرنے دیجیے۔انہوں نے کہا کہ قومی استحکام کو پسپائی نہ سمجھا جائے، انڈس واٹر ٹریٹی کا دفاع ہر فورم پر کیا جانا چاہئے، چاہے وہ عالمی بینک ہو، اقوام متحدہ، بین الاقوامی عدالتیں، ثالثی کے ادارے یا دنیا کے دوست ممالک، خواہ وہ اسلامی دنیا سے ہوں، مغربی ممالک، افریقی ریاستیں یا ایشیائی ممالک ہوں ۔انہوں نے کہا کہ آج دنیا کو ایک نئے بین الاقوامی قانون کی ضرورت ہے۔ بین الاقوامی بحری گزرگاہوں کے لئے ٹرانزٹ پیسج کے اصول موجود ہیں، جن کے تحت بحری جہازوں اور ہوائی جہازوں کو بلا رکاوٹ گزرنے کا حق حاصل ہے۔اسی طرح بین الاقوامی آبی قوانین اس اصول پر قائم ہیں کہ مشترکہ دریاؤں کے پانی کا منصفانہ اور معقول استعمال کیا جائے، دوسرے ممالک کو نمایاں نقصان نہ پہنچایا جائے اور ایسے اقدامات سے قبل پیشگی اطلاع دی جائے جو کسی دوسرے شریک ملک کے مفادات کو متاثر کر سکتے ہوں۔انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی انسانی قانون بھی اس حقیقت کو تسلیم کرتا ہے کہ پانی کی تنصیبات، نہریں اور آبپاشی کے نظام شہری آبادی کی بقاء کے لئے ناگزیر ہیں۔ بین الاقوامی کمیٹی برائے ریڈ کراس بھی واضح کر چکی ہے کہ پانی سے محروم کرنا جنگ کا ایک طریقہ ہے اور بین الاقوامی قوانین کے تحت اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا کہ تاہم موجودہ دور اس سے بھی زیادہ مؤثر اور جامع قانون سازی کا تقاضا کرتا ہے۔انہوں نے تجویز پیش کی کہ دنیا کو آبی گزرگاہوں کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے خلاف ایک نئے بین الاقوامی کنونشن کی ضرورت ہے۔ان کے مطابق یہ کنونشن آبنائے ہرمز جیسی عالمی بحری گزرگاہوں اور دریائے سندھ جیسے بین الاقوامی دریاؤں دونوں پر یکساں طور پر لاگو ہونا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ اس نئے معاہدے کے تحت کسی بھی ملک کو شہری آبادی کے پانی پر انحصار کو سیاسی دباؤ یا جبر کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے،اس کنونشن میں ایسے مؤثر طریقہ کار بھی شامل ہونے چاہئیں جن کے ذریعے کسی بھی ملک کی جانب سے یکطرفہ طور پر بین الاقوامی آبی معاہدے کو معطل کرنے کی کوشش پر فوری عالمی مداخلت اور عدالتی حکمِ امتناع ممکن ہو جبکہ ایسے تمام منصوبوں کی خودکار بین الاقوامی نگرانی کی جائے جو زیریں علاقوں میں رہنے والے عوام کی بقاء کے لئے خطرہ بن سکتے ہوں۔انہوں نے کہا کہ دنیا کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ پانی کے ذریعے دباؤ ڈالنا صرف غیر دوستانہ رویہ نہیں بلکہ جارحیت کی ایک نئی شکل ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر بیسویں صدی ایٹم بم کے خوف کی صدی تھی تو اکیسویں صدی میں دنیا کو اس نلکے سے بھی خوفزدہ ہونا چاہئے جس کا کنٹرول کسی دشمن کے ہاتھ میں ہو۔بھارت کے عوام کو مخاطب کرتے تے ہوئے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا کہ آپ کسی دوسرے قوم کی پیاس پر اپنی عظمت کی عمارت تعمیر نہیں کر سکتے،آپ اپنے آپ کو ایک عظیم تہذیب نہیں کہہ سکتے جبکہ دوسری تہذیب کے دریا کو یرغمال بنانے کی کوشش کریں،آپ جمہوریت کی بات نہیں کر سکتے جبکہ لاکھوں انسانوں کو آبی محاصرے میں رکھنے کی پالیسی اختیار کریں اور آپ ترقی کا دعویٰ نہیں کر سکتے جبکہ پانی کو ہتھیار بنا دیں۔انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ ہمارے دونوں ممالک کے قومی پرچموں سے بھی زیادہ قدیم ہے، اس دریا نے سلطنتوں، بادشاہوں، نوآبادیاتی حکمرانوں، فاتحین، جرنیلوں، وائسرائے، وزرائے اعظم اور صدور کو آتے جاتے دیکھا ہے مگر دریا ہمیشہ باقی رہا اور پاکستان بھی ہمیشہ قائم رہے گا۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہمیں اس تنازعہ کی اصل نوعیت کو سمجھنا ہوگا،یہ صرف سرحدوں تک محدود مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان کو مختلف محاذوں پر نشانہ بنایا جا رہا ہے، ہمارے خلاف پراکسیز، منفی پروپیگنڈا، معاشی دباؤ، سفارتی تنہائی کی کوششیں، ہائبرڈ وارفیئر، خوف کی سیاست اور اب پانی کی سیاست کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ دراصل جنگ کی ایک نئی شکل ہے، جب کوئی ریاست آپ کو تنہا کرنے، غیر مستحکم بنانے، دنیا میں بدنام کرنے، مسلسل نقصان پہنچانے اور آخرکار آپ کی زندگی کے بنیادی وسیلے یعنی دریا کو نشانہ بنانے کی کوشش کرے، تو یہ قومی بقا ءکے خلاف جنگ ہے۔انہوں نے کہا کہ جنگ صرف اس وقت نہیں ہوتی جب ہر روز گولیاں چل رہی ہوں بلکہ اصل پیمانہ یہ ہے کہ آیا کسی قوم کی زندگی، معیشت اور مستقبل کو نشانہ بنایا جا رہا ہے یا نہیں۔چیئرمین بلاول بھٹو نے زور دیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سیاسی جماعتوں، صوبوں، گروہی اختلافات اور چھوٹے چھوٹے تنازعات سے بالاتر ہو جائیں کیونکہ یہی اختلافات ماضی میں ہماری کمزوری کا سبب بنتے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ کسی ایک حکومت، سیاسی جماعت یا صوبے کی ملکیت نہیں بلکہ پورے پاکستان اور اس کی تاریخ کا مشترکہ ورثہ ہے۔انہوں نے اپیل کی کہ پارلیمنٹ میں اتحاد،واضح حکمت عملی، مضبوط عزم اور پوری حکومت میں فوری اور مؤثر اقدامات نظر آنے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا سے خیرات نہیں مانگتا بلکہ بین الاقوامی قانون پر عملدرآمد کا مطالبہ کرتا ہے۔ ہم ہمدردی نہیں بلکہ انصاف چاہتے ہیں اور ہم زندہ رہنے کے لیے کسی کی اجازت نہیں بلکہ اپنا قانونی حق مانگتے ہیں۔چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان کو دنیا کے سامنے واضح طور پر کہنا چاہئے کہ دریائے سندھ کو یرغمال نہیں بنایا جا سکتا، انڈس واٹر ٹریٹی کو کسی کے غرور کی بنیاد پر معطل نہیں کیا جا سکتا، دریا کو ہتھیار نہیں بنایا جا سکتا اور معصوم بچوں کی پیاس کسی پڑوسی ملک کی پالیسی نہیں بن سکتی۔انہوں نے بھارت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے اندرونی اختلافات کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے، ہمارے تحمل کو خوف نہ سمجھا جائے اور قانون کی بات کو ہماری بے بسی تصور نہ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے تقسیمِ ہند، جنگیں، دہشت گردی، تباہ کن سیلاب، آمریتیں، اقتصادی پابندیاں، سازشیں اور بے وفائیاں دیکھی ہیں، مگر آج بھی مضبوطی سے قائم ہے۔انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ نے ہمیں صبر، زرخیزی اور ثابت قدمی عطا ء کی ہے، اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان دریائے سندھ سے دستبردار ہو جائے گا تو وہ سندھ، پنجاب، خیبر پختونخوا، کشمیر، گلگت بلتستان اور ان خطوں کے ان لوگوں کو نہیں جانتا جو ہزاروں برس سے ان دریاؤں کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم امن چاہتے ہیں مگر باوقار امن، ہم بقائے باہمی چاہتے ہیں مگر غلامی یا سرنگوں ہونے کی قیمت پر نہیں۔انہوں نے کہا کہ اس سیمینار، اس شہر اور آج کے اس لمحے سے دنیا کو واضح پیغام جانا چاہئے کہ پاکستان اپنے پانی، اپنے عوام، اپنے معاہدے، اپنی خودمختاری اور اپنے مستقبل کا ہر قیمت پر دفاع کرے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی دفاعی حکمت عملی سے متعلق عوامی سطح پر موجود لٹریچر میں یہ بات پہلے ہی واضح کی جا چکی ہے کہ اگر کسی ملک کی معیشت کا گلا گھونٹنے کی کوشش کی جائے تو اسے قومی سلامتی کے انتہائی سنگین خطرات میں شمار کیا جاتا ہے، اور دریائے سندھ کے پانی کو روکنا بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔چیئرمین بلاول نے کہا کہ جب بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرتا ہے تو وہ صرف ایک بین الاقوامی معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا بلکہ پورے جنوبی ایشیا کو ایک خطرناک تزویراتی بحران کے دہانے پر لے آتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر ہم اپنے دریاؤں پر حملے کو فوجی حملہ تصور کرتے ہیں تو ہمیں اس کے مطابق اپنی قومی تیاری اور ردِعمل بھی اسی سنجیدگی سے ترتیب دینا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ دنیا کو یہ سمجھنا چاہئے کہ بھارت کا یہ اقدام کس قدر خطرناک ہے، کوئی بھی طاقت، خواہ کتنی ہی بڑی، متکبر یا طاقت کے نشے میں کیوں نہ ہو، پاکستان پر وجودی شکست مسلط نہیں کر سکتی۔انہوں نے مزید کہا کہ کوئی قوم اپنی بقا ء کا دفاع آخری لمحے میں نہیں بلکہ خطرے کی پہلی علامت پر شروع کرتی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ دریائے سندھ کوئی سودے بازی کی چیز نہیں اور نہ ہی ایسا ہتھیار ہے جسے بھارت کے ہاتھ میں دیا جا سکے۔ یہ پاکستان کی شہ رگ ہے اور اسے پھندا بنانے کی ہر کوشش ریاستِ پاکستان کی بقا ء کے خلاف خطرہ تصور کی جائے گی۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کا پیغام بھارت اور پوری دنیا کے لئے بالکل واضح ہونا چاہئے کہ جنوبی ایشیا میں امن اس وقت تک قائم نہیں رہ سکتا جب تک دریائے سندھ کو سیاسی دباؤ اور جارحیت کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوششیں بند نہیں ہوتیں۔انہوں نے کہا کہ اگر عالمی برادری آبی گزرگاہوں کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے خلاف مؤثر بین الاقوامی قوانین تشکیل نہیں دیتی تو دنیا کا ہر زیریں دھارےپر واقع ملک کسی نہ کسی دن بالائی دھارےپر موجود ریاست کے رحم و کرم پر ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو دنیا کے سامنے ایک مظلوم یا امداد کا طلبگار بن کر نہیں بلکہ ایک ذمہ دار ریاست کی حیثیت سے یہ مؤقف پیش کرنا چاہیے کہ بھارت نے جو راستہ اختیار کیا ہے وہ پورے خطے کو تباہی کی طرف لے جا سکتا ہے۔انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ انڈس واٹر ٹریٹی آج بھی مؤثر ہے، پاکستان کے حقوق برقرار ہیں اور پاکستان کبھی بھی دریائے سندھ سے دستبردار نہیں ہوگا۔چیئرمین بلاول نے کہا کہ پانی کی بندش کسی قوم کو صرف پیاس ہی نہیں دیتی بلکہ بھوک، فصلوں کی تباہی، بیماریوں، بڑے پیمانے پر نقل مکانی، معاشرتی انتشار اور انسانی بحران کو بھی جنم دیتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ہرگز یہ اجازت نہیں دینی چاہئے کہ دنیا اس معاملے کو صرف تکنیکی اصطلاحات میں دیکھے۔ بھارت اسے ’’معاہدے کا تنازعہ‘‘، ’’انتظامی معطلی‘‘،’’ہائیڈرو پاور منصوبہ‘‘، ’’ترقیاتی منصوبہ‘‘ یا ’’انجینئرنگ سروے‘‘ جیسے نام دے سکتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ جب کسی قوم کی زندگی کے بنیادی وسیلے پر بند باندھا جائے تو وہ محض ایک ڈیم نہیں رہتا بلکہ پوری قوم کے وجود پر حملہ بن جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ اس کے جائز پانی کو روکنے یا اس کا رخ موڑنے کی ہر کوشش کو جنگی اقدام تصور کیا جائے گا۔چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا کہ جو قوم اس وقت تک انتظار کرتی ہے جب تک اس کے دریا کا پانی خشک نہ ہو جائے، وہ بہت دیر کر چکی ہوتی ہے، اس لئے دریائے سندھ کو ہتھیار بنانے کی سمت اٹھایا جانے والا ہر قدم پاکستان کی قومی حکمتِ عملی، سفارتی اقدامات، قانونی کارروائی اور دفاعی تیاری میں اسی تناسب سے اضافہ پیدا کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان جنگ نہیں چاہتا لیکن اگر جنگ کی تیاری کی جا رہی ہو تو اسے بروقت پہچاننا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مؤثر دفاعی حکمتِ عملی اسی وقت قائم رہتی ہے جب مخالف کو یقین ہو کہ ہر سرخ لکیر عبور کرنے کی کوشش کے نتائج، خطرات اور سخت قومی ردِعمل سامنے آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے آپریشن سندور کے دوران انڈس واٹر ٹریٹی کو معطل کرنے کا اعلان کیا جبکہ پاکستان نے اس اقدام کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے قانونی چارہ جوئی کی تیاری کی اور واضح کیا کہ اگر پاکستان کے پانی کا رخ موڑنے یا اسے روکنے کی عملی کوشش کی گئی تو اسے جنگی اقدام سمجھا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ دنیا کو پاکستان کا یہ واضح مؤقف سن لینا چاہئے کہ ہم بھارت کو یہ اجازت نہیں دیں گے کہ وہ جارحیت کو انجینئرنگ، جبر کو ترقی، معاہدے کی خلاف ورزی کو قومی سلامتی اور دریائے سندھ پر قبضے کو معمول کا معاملہ بنا کر پیش کرے۔چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا کہ دریائے سندھ محض ایک دریا نہیں بلکہ پاکستان کی تہذیب، تاریخ اور بقا ء کی شہ رگ ہے، اس دریا کو خطرے میں ڈالنا دراصل پاکستان کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت یہ توقع نہ رکھے کہ وہ ایک طرف معاہدہ معطل کرے اور دوسری طرف معمول کے تعلقات برقرار رہیں۔انہوں نے کہا کہ دنیا نے ابھی حال ہی میں دیکھا ہے کہ جب آبنائے ہرمز کو ہتھیار بنایا گیا تو عالمی امن اور معیشت کس قدر متاثر ہوئی۔ اگرچہ آبنائے ہرمز کو عالمی معیشت کی شہ رگ کہا جاتا ہے کیونکہ وہاں سے توانائی کی ترسیل ہوتی ہے لیکن پاکستان کے لئے دریائے سندھ اس سے بھی کہیں زیادہ اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اس کا تعلق براہِ راست کروڑوں انسانوں کی زندگی سے ہے۔انہوں نے کہا کہ اسی لئے دنیا کو نئے بین الاقوامی قوانین کی ضرورت ہے تاکہ کسی بھی ایسی آبی گزرگاہ کو جس پر عام شہریوں کی زندگی کا انحصار ہو، سیاسی یا عسکری ہتھیار میں تبدیل نہ کیا جا سکے۔چیئرمین بلاول بھٹو نے زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اس دور میں پانی کے ذریعے جارحیت بھی اتنی ہی خطرناک اور غیر مستحکم کرنے والی ہے جتنی روایتی فوجی جارحیت ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو قانونی، سفارتی، سیاسی، موسمیاتی اور دفاعی ہر محاذ پر اپنی جدوجہد جیتنا ہوگی اور اس مقصد کے لئے قومی اتحاد بنیادی شرط ہے۔انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ سندھ کے کسان، پنجاب کے زمیندار، کراچی کے مزدور، بلوچستان کے خاندانوں، خیبر پختونخوا کے پہاڑوں اور پاکستان کے ہر بچے کے مستقبل کا مشترکہ اثاثہ ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ جب تک دریائے سندھ پاکستان کی سرزمین میں بہتا رہے گا، ہم کبھی سر نہیں جھکائیں گے،ہم مر جائیں گے مگر دریائے سندھ کسی کے حوالے نہیں کریں گے۔

