کراچی(نمائندہ خصوصی)پر مرکزی صدر اہلِ سنت والجماعت پاکستان علامہ اورنگزیب فاروقی، کراچی ڈویژن کے صدر علامہ رب نواز حنفی، جنرل سیکریٹری علامہ تاج محمد حنفی، مولانا محی الدین شاہ الحسینی، مولانا عبدالرافع، مولانا عمر معاویہ، نے اپنے ایک بیان میں ریحان طارق کے پوڈکاسٹ میں جواد نقوی کی جانب سے سیدنا امیر معاویہ ؓ کی شان میں کی جانے والی گستاخانہ، اشتعال انگیز اور توہین آمیز گفتگو کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عمل کروڑوں اہلِ سنت مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح کرنے اور ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے کی مذموم کوشش ہے۔انہوں نے کہا کہ حضرت امیر معاویہ ؓ جلیل القدر صحابی، کاتبِ وحی، خال المؤمنین اور امت
مسلمہ کی عظیم شخصیت ہیں۔ ان کے مقام و مرتبہ کو مجروح کرنے، ان کی توہین کرنے یا ان کے خلاف نفرت انگیز گفتگو کرنے کی کسی بھی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی۔ تمام صحابۂ کرام ؓ امت مسلمہ کے لیے قابلِ احترام ہیں اور ان کی محبت و تعظیم ایمان کا حصہ ہے۔علامہ اورنگزیب فاروقی نے کہا کہ اگر مسلمانوں کے مقدسات، شعائر اسلام اور اکابر شخصیات کی توہین کو مسلسل نظر انداز کیا جاتا رہا اور دوسری جانب بین المسالک ہم آہنگی، احترامِ باہمی، رواداری اور "پیغامِ پاکستان” کے تقاضوں کی بات کی جاتی رہی تو ایسے تمام دعوے اپنی حیثیت اور معنویت کھو دیں گے۔انہوں نے اہلسنت والجماعت کی ناموسِ صحابہؓ کے تحفظ کے لیے دی جانے والی قربانیوں، جدوجہد اور مسلسل کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملک بھر کے علماء کرام اور دینی حلقے آئے روز ہونے والی گستاخیوں پر شدید تشویش رکھتے ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ مقدس شخصیات اور شعائر اسلام کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والوں کے خلاف حکومت اور ریاستی اداروں کی جانب سے مؤثر اور فوری قانونی کارروائی نظر نہیں آتی۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر قانون حرکت میں کیوں نہیں آتا؟ گستاخ عناصر گرفتار کیوں نہیں ہوتے؟ انہیں قرار واقعی سزا کیوں نہیں دی جاتی؟ اگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کریں گے تو ملک میں انتشار اور عدم استحکام کے خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔مرکزی صدر اہلسنت والجماعت پاکستان نے کہا کہ اصحابِ رسولؐ وہ عظیم شخصیات ہیں جن کے ذریعے دین ہم تک پہنچا۔ اسلام کا کوئی بھی رکن صحابۂ کرامؓ کے تذکرے اور خدمات کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔ ان ہستیوں کی توہین دراصل امت مسلمہ کے اجتماعی عقائد اور جذبات پر حملہ ہے۔انہوں نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ داخلہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ مذہبی منافرت، فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی اور مقدس شخصیات کی توہین میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے اور ان کے سہولت کاروں کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ ملک میں امن، استحکام، مذہبی ہم آہنگی اور باہمی احترام کی فضا برقرار رہ سکے۔علامہ اورنگزیب فاروقی نے خبردار کیا کہ اگر گستاخیوں کے سدباب کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو اہلسنت والجماعت ملک کے دیگر دینی و مذہبی طبقات کے ساتھ مل کر کراچی سے ایک بھرپور احتجاجی تحریک کا آغاز کرے گی جو پورے ملک تک پھیلائی جا سکتی ہے۔ تاہم ہماری اولین ترجیح یہ ہے کہ تمام معاملات قانون اور آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے حل کیے جائیں اور ملک کو انتشار سے بچایا جائے۔

