کراچی ؛اسلام آباد( نمائندہ خصوصی)فیڈرل اردو یونیورسٹی کے طلبہ اور اساتذہ شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کے ساتھ پوری تندہی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ کراچی میں بعض عناصر کی جانب سے ملک کے معروف سائنسدان، یونسیکو ایوارڈ یافتہ وائس چانسلر کے ساتھ بدتمیزی قابل مذمت ہے۔ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری نے یونیورسٹی کا چارج سنبھالنے کے بعد اس ادارے کے حالات کافی حد تک سدھار لئے ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ طالب علموں کو اولین ترجیح قرار دیا ہے۔ ڈاکٹر شنواری خود کیمپس میں سٹوڈنٹس کے ساتھ گھل مل جاتے ہیں، یونیورسٹی کے مسائل، کلاسز کی صورت حال اور اساتذہ کی پرفامنس کے حوالے سے فیڈ بیک لیتے ہیں۔ انہوں نے سٹوڈنٹس کی اپلائیڈ لرننگ اور
اکیڈمک امور میں شراکت داری کی زبردست حوصلہ افزائی کی ہے۔ حالیہ دنوں میں شعبہ ماس کمیونیکشن کے زیر اہتمام او آئی سی (کامسٹیک) کے تعاون سے پاکستان کی اولین گرین جرنلزم کانفرنس اس کی تازہ مثال ہے۔ گرین جرنلزم کانفرنس کے حوالے سے انٹرنیشنل سطح پہ اچھا ریسپانس آ رہا ہے۔تنخواہوں کے ایشو کو بھی حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ موجودہ وائس چانسلر کے آنے کے بعد کافی حصہ تک حالات بہتر ہوئے ہیں۔ پہلے پانچ پانچ ماہ بھی سیلری لیٹ ہوتی رہی ہے۔اسلام آباد کیمپس اور کراچی کے دونوں کیمپسز میں سولر پینل لگانا اس دور کا اہم کارنامہ ہے۔ اسلام آباد کیمپس میں تقریبا سو فیصد بجلی اب یونیورسٹی خود پیدا کرتی ہے۔ کراچی میں بھی بلز میں کافی کمی واقع ہوئی ہے۔ایک ایسے دور میں جب ملک کی اہم یونیورسٹیز سے بعض تعلیمی پروگرامز بند ہو رہے ہیں، جامعہ اردو میں نئے ڈیپارٹمنٹس کامیابی کے ساتھ شروع ہو رہے ہیں۔ شعبہ فارمیسی اسلام آباد اس کی روشن مثال ہے۔ اب بائیو ٹیکنالوجی کا پروگرام بھی شروع کیا جا رہا ہے۔ قرشی کلینک بھی وائس چانسلر ڈاکٹر ضبط شنواری کی کاوشوں کا ثمر ہے۔ قرشی کلینک نہ صرف کیمپس کے اساتذہ اور طلبہ بلکہ قرب و جوار کے لوگوں کو بھی مفت ادویات اور چیک اپ کی سہولت دے دیا ہے۔ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری نے 2011 سے رکی ہوئی کانوکیشن کی سیریز شروع کر دی۔ کراچی اور اسلام آباد میں کانوکیشن کرایے۔ اسلام آباد میں اگلا کانوکیشن بھی جلد شروع ہونے والا ہے۔ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری یونیسکو ایوارڈ یافتہ عالمی سطح پہ مانے ہوئے سائنس کے پروفیسرز ہیں۔ انہوں نے اپنے انٹرنیشنل روابط کی بنیاد پہ فیڈرل اردو یونیورسٹی اور عالمی اداروں کے ساتھ کئی ایک سیمینارز اور کانفرنسز منعقد کرائی ہیں۔ گزشتہ ماہ روس کے شہر کازان میں اردو یونیورسٹی کی شریک میزبانی میں عالمی کانفرنس ہوئی، جس میں جامعہ اردو کے چھے اساتذہ سمیت تیس پاکستانی ماہرین نے شرکت کی۔ پاکستان کی وفاقی کابینہ کے اراکین بھی شریک ہوئے۔پروفیسر ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری ایک باوقار استاد اور با اصول منتظم کے طور پہ اس ادارے کو چلا رہے ہیں۔ لھذا ہم سب ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس تاریخی یونیورسٹی کے شان و شوکت کی تحفظ کے لیے یکجا ہیں۔
جن سے مل کر زندگی سے عشق ہو جائے وہ لوگ
آپ نے شاید نہ دیکھے ہوں مگر ایسے بھی ہیں