ڈاکٹر صغریٰ صدف کے خلاف سوشل میڈیا پر جاری منفی پروپیگنڈے کی شدید مذمت کرنا ہر اُس شخص کا اخلاقی فرض ہے جو ادب، تہذیب اور سچائی کی قدر جانتا ہے۔ پنجابی ادب کی خدمت کوئی معمولی کارنامہ نہیں یہ ایک ایسی ریاضت ہے جس میں عمر بھر کا خلوص، فکری دیانت اور زبان و ثقافت سے غیر معمولی محبت درکار ہوتی ہے۔ ڈاکٹر صغریٰ صدف اُن نابغہ روزگار شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے نہ صرف پنجابی زبان کی آبیاری کی بلکہ اسے علمی، ادبی اور سماجی سطح پر ایک باوقار شناخت دلانے کے لیے شب و روز محنت کی۔
وہ محض ایک لکھاری نہیں بلکہ ایک ادارہ ہیں ایک ایسی جری، باوقار اور بااصول خاتون جنہوں نے قلم کو صرف اظہار کا وسیلہ نہیں بلکہ شعور، مزاحمت اور حق گوئی کا استعارہ بنایا۔ بطور کالم نگار انہوں نے ہمیشہ اُن موضوعات پر قلم اٹھایا جن سے اکثر لوگ مصلحت، خوف یا سماجی دباؤ کے باعث گریز کرتے ہیں۔ انہوں نے ہر اچھوتے، حساس اور مشکل موضوع کو غیر معمولی فکری جرأت کے ساتھ چھیڑا اور معاشرے کے اُن پہلوؤں کو سامنے لائیں جن پر گفتگو ناگزیر تھی۔
خاص طور پر عورت کے تشخص، وقار اور شناخت کے حوالے سے ان کی جدوجہد لائقِ تحسین ہے۔ انہوں نے مردانہ غلبے والے سماجی ڈھانچے میں عورت کی آواز کو نہ صرف زندہ رکھا بلکہ اسے مضبوط، مؤثر اور باوقار انداز میں پیش کیا۔ ان کی شخصیت جرأت، استقامت اور خودداری کی ایک روشن مثال ہے۔
ایسی بے داغ علمی و ادبی خدمات رکھنے والی شخصیت کے خلاف سوشل میڈیا پر کردار کشی، الزام تراشی اور منفی پروپیگنڈا انتہائی افسوسناک، قابلِ مذمت اور اخلاقی دیوالیہ پن کی علامت ہے۔ یہ رویہ صرف ایک فرد پر حملہ نہیں بلکہ ادب، تہذیب اور فکری آزادی پر حملہ ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ بعض ناتربیت یافتہ، غیر مہذب اور سماجی و اخلاقی اقدار سے عاری عناصر اپنی ذاتی محرومیوں، تعصبات اور ذہنی پسماندگی کو نفرت انگیز مہمات کے ذریعے ظاہر کر رہے ہیں۔
ایسے عناصر شاید یہ نہیں جانتے کہ عظیم شخصیات کی توقیر کو سستی پروپیگنڈا مہمات سے مجروح نہیں کیا جا سکتا۔ تاریخ ہمیشہ کردار، خدمت اور اخلاص کو یاد رکھتی ہے، جبکہ بہتان تراشی، حسد اور کردار کشی وقت کی دھول میں گم ہو جاتے ہیں۔
ہم واضح طور پر یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ ڈاکٹر صغریٰ صدف کے خلاف جاری ہر منفی مہم قابلِ نفرت ہے اور اسے فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔ اختلافِ رائے ہر مہذب معاشرے کا حصہ ہے، مگر اختلاف کے نام پر تہذیب، شائستگی اور اخلاقیات کی تمام حدیں پار کر دینا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
ڈاکٹر صغریٰ صدف جیسی شخصیات قوموں کا سرمایہ ہوتی ہیں۔ ان کا احترام دراصل زبان، ادب اور تہذیبی ورثے کا احترام ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ادبی حلقے، سنجیدہ قارئین اور باشعور افراد نہ صرف ان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کریں بلکہ ہر قسم کی کردار کشی اور جھوٹے پروپیگنڈے کے خلاف مضبوط آواز بلند کریں۔
قلم کی حرمت، علم کی عظمت اور کردار کی سچائی بالآخر ہر بہتان پر غالب آتی ہے اور یہی تاریخ کا فیصلہ بھی ہے۔

