کراچی ( نمائندہ خصوصی )انجمن اساتذہ وفاقی اردو یونیورسٹی عبدالحق کیمپس اور گلشن اقبال کیمپس نے اج وفاقی اردو یونیورسٹی کے انتظامی بلاک میں پیش آنے والے واقعات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے یونیورسٹی کے چانسلر اصف علی زرداری، پرو چانسلر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے چئیرمین ڈاکٹر نیاز احمد اختر، وفاقی اردو یونیورسٹی کے ڈپٹی چئیر سینیٹ قاضی شیخ المقتدر سے اپیل کی ہے کہ وائس چانسلر ڈاکٹر ضابطہ خان شینواری کی جانب سے شعبہ سیاسیات کی صدر پروفیسر ڈاکٹر رانی ارم کے ساتھ کی جانے والی
نازیبا اور انتہائی نامناسب گفتگو اور ڈاکتر رانی ارم کی جانب سے وائس چانسلر کے خلاف ہراسانی کی درخواست پر سنجیدہ اور شفاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ دونوں انجمنوں نے مشترکہ بیان میں کہا کہ وائس چانسلر تنخواہوں، پیشن، ہاوس سیلنگ، بقایاجات اور میڈیکل کی بحالی کے مسئلے پر کراچی میں موجودگی کے دوران سنجیدہ اور معنی خیز مذاکرات سے کنارہ کشی اختیار کرتے رہے۔ اساتذہ اور ملازمین سے گفتگو کرنے کے بجائے انہون نے گلشن اقبال کیمپس سے اساتذہ سے مذاکرات کئے بغیر راہ فرار اختیار کرنے کو ترجیح دی۔ اساتذہ اور ملازمین کو امید تھی کہ اسلام آباد روانگی سے قبل وائس چانسلر سنجیدہ مذاکرات کرکے مسائل کے حل کا لائحہ عمل دیں گے۔ لیکن اس کے برعکس وائس چانسلر انتہائی نامناسب حالات میں اساتذہ کو دھتکارتے اور دھکے دیتے ہوئے گلشن اقبال کیمپس سے روانہ ہوگئے اور انہوں نے گذشتہ 11 دنوں سے تنخواہوں ، ہاوس سیلنگ، میڈیکل، پیشن اور بقایاجات کا مطالبہ کرنے والے اساتذہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے کے بجائے، ان کی تکالیف کا احساس کرنے اور ان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرنے کے بجائے ان کے ساتھ بدسلوکی اور ان کو ہراسان کرنے کا رویہ اختیار کیا۔ اساتذہ کو دھمکیاں دیں اور ان کے احتجاج کو خاندانی تربیت کی کمی قرار دیا۔ وائس چانسلر نے قرشی انڈسٹریز سے ملنے والی سی ایس ار کو خیرات قرار دے کر اساتذہ اور ملازمین کی عزت نفس کو شدید مجروح کیا۔ وائس چانسلر نے متعدد اساتذہ کو طلب کرکے تعلیمی دورانیہ مکمل کئے بغیر زبردستی امتحان منعقد کروانے کے لئے کہا۔دونوں انجمنوں نے مطالبہ کیا ہے وفاقی اردو یونیورسٹی میں فوری طور پر تعلیمی ایمرجنسی نافذ کی جائے، وائس چانسلر کو رخصت پر بھیج کر ان کے دور اقتدار کا احتساب کیا جائے۔ سولرائزیشن کے فنڈز کا آڈٹ کیا جائے اور سائنسی بنیادوں پر ارتھنگ کا عمل مکمل کرکے سولر پراجیکٹ کو طالب علموں، اساتذہ اور ملازمین کے لئے محفوظ بنایا جائے۔ دونوں انجمنوں نے وزیر اعظم پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وفاقی اردو یونیورسٹی کے لئے خصوصی فنڈز مختص کئے جائیں اور اس قومی ادارے کی تعمیر اور ترقی کے لئے خصوصی اقدامات کئے جائیں۔ وفاقی اردو یونیورسٹی کے لئےچاروں صوبوں سے مالی گرانٹ پر مشتمل خصوصی فنڈ قائم کیا جائے اور اس فنڈ کو مالیات کے ماہرین کی نگرانی میں اردو یونیورسٹی کی ترقی کے لئے استعمال کیا جائے۔

