• پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home کالمز

اے ڈی خواجہ پر آغا خانیوں کی غیر قانونی بھرتیوں کا الزام

تحریر: نیاز احمد کھوسہ

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
June 13, 2026
in کالمز
0
اے ڈی خواجہ پر آغا خانیوں کی غیر قانونی بھرتیوں کا الزام
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

پچھلے دنوں ایک پوڈکاسٹ میری نظر سے گذرا جس میں سابقہ آئی جی سندھ جناب اے ڈی خواجہ کے دور میں پولیس کانسٹیبل کی بھرتیوں پر تنقید کی گئی تھی !! جیساکہ میں نے 40 سال تک پولیس، NAB اور Anti-Corruption کے ادارں میں ASI سے لیکر ایس ایس پی کے عہدں پر Serve کیا ہے اور پولیس کے اندرونی میکنیزم سے واقف ہونے کی وجہ سے جب ہم پولیس کی کوتاہیوں پر کھل کر تنقید کرتے ہیں تو میرا فرض بنتا ہے کہ سندھ پولیس کے خلاف تنقید اور الزامات پر جائزہ لیکر عوام کو اصل حقائق سے آگاہ کروں تاکہ اُن کو اصل صورت حال کا پتہ چل سکے اور پوڈ کاسٹ میں بتائی گئی صورت حال اُن کے سامنے آسکے !!!سال 2016/2017 میں سندھ پولیس میں کانسٹیبل کی 24736 ہزار Vacancies پر بھرتیاں کی گئی تھیں بھرتیوں کے عمل کے شفاف بنانے کیلئے سندھ پولیس کی تاریخ میں پھلی بار Army اور CPLC کے نمائندوں کو بھرتیاں کرنے والے بورڈ میں شامل کیا گیا تھا !!!

اور دوسرا سندھ پولیس کی تاریخ میں پہلی بار یہ امر یقینی بنایا گیا کہ جس ضلع میں بھرتی ہو امیدار وار کا Domicile اُسی ضلع اور میٹرک کی ڈگری سندھ کے کسی بورڈ سے ہونا ضروری ہو !!!! جسے بعد میں آنے والے آئی جی سندھ جناب ڈاکٹر کلیم امام صاحب نے ناقابل بیان وجھوہات پر میٹرک کی ڈگری سندھ کی کسی بورڈ والی شرط ختم کرکے پاکستان کے کسی بھی بورڈ سے پاس کردیا اور صرف Domicile کی Same ضلع کا ہونے کی شرط کو بحال رکھا!!! واضع رہے کہ دوسرے صوبوں میں صرف اُسے صوبے کی میٹرک کی ڈگری کا امیدار Eligibile ہے !

کراچی پولیس / Traffic Police اور CTD میں بھرتیوں کیلئے یہ خاص شرط رکھی گئی تھی کہ اُن کا ڈومیسائیل اور میٹرک کی تعلیمی ڈگری کراچی بورڈ سے ہونا لازمی ہے !!!!کراچی پولیس کے Vacancies 6785 تھیں جس میں کراچی کے Domicile اور کراچی بورڈ سے پاس شُدہ 4328امیدوار ہی کامیاب ہوسکے اور Traffic پولیس کے 4760 کی Vacancies میں صرف 1000 امیدوار کامیاب ہوسکے اور RRF (ExArmy) کی 2000 Vacancies میں صرف 1373 امیدوار ہی کامیاب ہوسکے !!! یہ تو سب کو معلوم ہے کہ پاکستان بننے کے بعد کراچی میں پورے پاکستان سے آئے ہوئے لوگ آباد ہیں جس میں سندھی/ اردو بولنے والے/ پشتون/ گلگتی/بلتستانی / بلوچ / سرائکی / پنجابی / بھاری / پاکستان ، بنگلہ دیش اور بھارت سے آکر کراچی میں آباد ہو گئے ہیں اور اب اُن کی 4th نسل کراچی میں جوان ہوری ہے !!! اوپر بیان کی گئی قوموں کے باپ اور دادا کی قبریں کراچی میں ہیں اور ظاہر ہے اُن قومیتوں کے پیدا ہونے بچوں کے ڈومیسائل اور تعلیمی اسناد کا تعلق کراچی بورڈ اور کراچی یونیورسٹی سے ہے !!!! جب یہ بچے کراچی میں پیدا ہوئے ہیں تو ان کے ڈومیسائل بھی کراچی کے بنے گیں !!! واضع رہے کہ ڈومیسائل پولیس نہیں بناتی !!!

ہم فرض کر لیتے ہیں کہ کسی امیدوار نے جعلی ڈومیسائیل اور میٹرک کی کراچی بورڈ کی ڈگری بنا لی اور بھرتی کیلئے بورڈ کو درخواست دے دی !!! بورڈ نے Domicile اور تعلیمی ڈگری متعلقہ اداروں سے تصدیق کروالی اور امیدار نے Physical & Written امتحان بھی پاس کرلیا تو اس میں آئی جی یا بھرتی کرنے والے بورڈ کا کیا قصور ہے ؟؟؟؟

ہم اتنے تنگ نظر اور حاسد کیوں ہوگئے ہیں آگر ہزاروں خالی جانے والی آسامی پر آگر کچھ غریب پٹھان، گلگتی یا بلتستانی بھرتی ہوگئے تو کیا قیامت آگئی ؟؟؟؟بھرتیوں کے بورڈ اور قوائد اور ضوابط کی منظوری اُس وقت کے ایڈیشنل آئی جی کراچی جناب مُشاق مھر / ایڈیشنل آئی جی CTD جناب ثنااللہ عباسی / ایڈیشنل آئی جی ٹریفک جناب خادم حسین بھٹی اور آئی جی سندھ جناب اے ڈی خواجہ صاحب نے دی تھیاور بھرتیوں کے بورڈ کی سربراہی اُس وقت کے ایک ایڈیشنل آئی جی آپریشن جناب آفتاب پٹھان/ ایڈیشنل آئی جی جناب مشتاق مھر / تین ڈی آئی جیز / ایک ایس ایس پی / ایک Army اور ایک CPLC کا نمائندہ میمبر تھےاُس وقت کی بھرتیوں میں سے 6 ہزار کانسٹیبل کی Vacancies بچ گئی تھیں جن میں مناسب امیدوار نہیں مل سکے اور اب 10 سال بعد اُس وقت کے آئی سندھ جناب اے ڈی خواجہ پر الزام عائد کیا جارہا ہے کہ انھوں نے کراچی پولیس میں تین سو گلگتی اور بلتستانی بھرتی کیئے !!! جبکہ کراچی پولیس کی 6 ہزار Vacancies میں سے صرف 4 ہزار امیدوار ہی دستیاب ہو پائے تھے !!! اور ٹریفک پولیس کی 4 ہزار آسامیوں سے صرف ایک ہزار امیداوار پاس ہو پائے تھے

میں یہ تسلیم کرتا ہوں کہ بھرتیوں میں پشتون، بلتستانی اور گلگتی ضرور ہیں اور یہ لوگ اس لیئے ہیں کہ پہلے تو یہ لوگ کراچی میں پیدا ہوئے، کراچی میں تعلیم حاصل کی اور Physical Fitness میں پٹھان اور گلگتی ہم سب سے زیادہ مضبوط اور Rough Tough ہیں!!! پڑھائی اور کتابی مقابلے میں بھلے دوسری قوموں کے لوگ اُن سے آگے ہوں مگر Physical Race and Fitness میں ہم پٹھان اور بلوچ کا مقابلہ نہیں کرسکتے کیونکہ اللہ پاک نے اُن کو پہاڑی علاقوں کیلئے بنایا ہے اور پہاڑی علائقوں میں رہنے والی قومیں جن میں بلوچ قوم بھی شامل ہیں یہ لوگ سخت جان ہوتے ہیں !!!!میں نے اپنی 40 سال کی نوکری میں یہ دیکھا ہے کہ پولیس کانسٹیبل پولیس میں سب سے زیادہ مظلوم طبقہ ہے !!!! جس کے گھر میں کچھ نہیں ہوگا وہ بیچارہ کانسٹیبل بھرتی ہوگا اور جتنی مشکل نوکری پولیس کانسٹیبل کی ہے اُس کا ہم اندازہ نہیں کرسکتے !!!!ایک بار میرے ایک گن مین کا والد صاحب فوت ہوگیا تھا !!! میں اپنے بیٹوں کے ساتھ تعزیت کرنے اُس کے کچی آبادی میں بنے گھر گھر چلا گیا ( بیٹوں کو اس لیئے ساتھ رکھتا ہوں وہ دنیا میں اُٹھنے بیٹھنے کے طور طریقے سیکھیں) جب ہم گن میں کے گھر گئے تو اُس نے اپنی خواتین کو پہلے ہی محلے کے کسی گھر میں بھیج دیا تھا!!! جب ہم گھر کی چار دیواری کے اندر گئے تو بغیر برآمدے کے دو کمرے بنے ہوئے تھے اور گھر میں صرف دو چارپائیاں اور ایک زمین پر رکھنے والا Pedestal Fan تھا گھر کے صحن کے ایک کونے میں 4×4 فٹ کا ایک باتھ روم بنا ہوا تھا جہاں دروازے کی جگہ بوری کو کاٹ کر ٹانگ دیا گیا تھا جس سے پردہ رہے !!! کچن صرف U شیپ کے 6 اینٹیں پر مشتمل تھا!!!

میرا تو خیال یہ ہے کہ قیامت میں اللہ پاک پولیس کانسٹیبل سے کوئی حساب کتاب نہیں کرے گا ان کو یہ کہ کر جنت عطا کردے گا کہ تم پر دنیا میں پہلے ہی قیامت گذر چکی ہے اور تم دنیا میں ہی سارا حساب کتاب دے چُکے ہو !!!! میرا یہ بھی خیال ہے ہماری صدقہ/ خیرات اور زکوات کے یہ سفید پوش لوگ پہلے حقدار ہیں، ہر صاحب حیثیت آدمی کو ان کانسٹیبلان اور اپنے محلے کے سیکورٹی گارڈوں کو پیسے اور کھانہ دینا چاہیئے !!! آپ یقین کریں کہ یہ لوگ اپنے گھر سے بغیر ناشتہ اور بوکھے پیٹ وقت سے پہلے اپنی ڈیوٹی پر پہنچتے ہیں کراچی کے لوگ روز دیکھتے ہوں گے کہ اُن کے سامنے ٹریفک کا پولیس والا کس طرح اپنے گھر بچوں کی روزی کی خاطر کڑی دھوپ، مٹی اور دھول میں اپنا فرض نباہ رہا ہوتا ہے !!!اور ہم ایئرکنڈیشن پوڈ کاسٹ روم میں میک اپ کرواکر فرمارہے ہوتے ہیں کہ فلان آئی جی اتنے پٹھان اور گلگتی بھرتی کرگیا!!! سندھ کے ساتھ بڑا ظلم ہوگیا !!! بس ذات پات اور نسلی بنیادوں پر نفرت اور شرانگیزی ہی کو ہوا دینا ہے !!!! بھائی سندھ میں ہزاروں سپاہیوں کی Vacancies خالی جاتی ہیں اپنے بھائے بیٹے کو گھوٹکی سے لاکر کانسٹیبل بھرتی کرواؤ تو آپ کو پتہ چلے سپاہی کس طرح مُشکل نوکری کرتا ہے ؟؟؟آگر ایماندارنہ طور پر بھرتیوں کے عمل کو دیکھا جائے تو اس میں آئی جی کا براہراست کوئی عمل دخل نہیں ہوتا !!! شوشل میڈیا کے آنے کے بعد آجکل میرے جیسے عام لوگ بھی ڈاکٹر بنے ہوئے ہیں !!! جتنے بڑے آدمی کی پگڑی اُچھالیں شوشل میڈیا پر اتنی بڑی واہ واہ ملتی ہے حقائق بھلے کتنے بھی اُلٹ یا برعکس ہوں !!!! حقائق سمجھنے کی کوشش کون کرتا ہے ؟؟؟؟

رکارڈ کے مُطابق اُس وقت کے ایڈیشنل آئی جی آپریشن جناب آفتاب پٹھان، ایڈیشل آئی جی کراچی جناب مشتاق مھر، Army اور CPLC سلیکشن کمیٹی کے میمبر تھے !!! تو کیا سب کے سب یہ سارے ذمیدار اور سینئر لوگ منیج ہوگئے اور تین سو گلگتی اور بلتستانی جعلی طریقے سے بھرتی کرلیا گیا ؟؟؟؟ پوڈ کاسٹ میں یہ بھی دعوا کیا گیا ہے کہ یہ تین سو لوگ آغا خانی ہیں ؟؟؟؟ بھائی Documents سامنے لاکر ثابت کریں کہ آپ نے یہ کیسے اخذ کرلیا کہ ان تین سو لوگوں کی مذھبی وابستگی آغا خانی ہے ؟؟؟؟ Documents میں کہاں لکھا ہے کہ یہ لوگ آغا خانی ہیں ؟؟؟؟ہمارا ذاتی طور پر حال اور ایمان یہ ہے کہ ہم کسی بھی چھوٹی یا بڑی بیماری کی صورت میں ہماری پہلی اور آخری ترجیح آغا خان اسپتال اور آغا Laboratories سے Test ہوتی ہے اس کے علاوہ کسی بھی Laboratory سے ٹیسٹ یا علاج پر ہم بھروسہ نہیں کرتے !!! اور دوسری طرف ہمیں شدید غم و غصہ ہے کہ یہ تین سو آغا خانی کیسے بھرتی ہو گئے ؟؟؟ کیا صرف ہم پاکستانی ہیں اور آغا خانی پاکستانی نہیں ہیں ؟؟؟؟ بھائی کچھ خدا کا خوف کریں !! کچھ حقیقت پسند بنیں !!!!پوڈ کاسٹ کرنے والے صاحب کے سندھ سیکریٹریٹ میں بہت سے تعلقات ہیں اور پوڈ کاسٹ میں دعوا بھی کررہے ہیں کہ اُن کے پاس 18411 ہزار کامیاب امیدواروں میں سے تین سو گلگتی اور بلتستانی لوگوں کی لسٹ ہے جن کے Domicile اور کراچی بورڈ کی ڈگری جعلی ہے !!! ان تین سو جعلی Domicile کو سامنے لائین اور اُن کی تصدیق کروائیں !!! جن جن امیدواروں کے ڈومیسائل جعلی نکلتے ہیں وہ سامنے لائیں اور ہر ڈومیسائل کی متعلقہ ڈپٹی کمشنر کی طرف سے تصدیق کا لیٹر میں اُن کو CPO سے لیکر فراہم کرتا ہوں جو بھرتی کے وقت سلیکشن بورڈ کیلئے ڈپٹی کمشنروں کی طرف سے جاری کیئے گئے تھے !!!! سیدھا سیدھا جعلسازی کا کیس بنتا ہے امیدوار پر اور جعلی ڈوموسائل کو اصلی ہونے کی تصدیق کرنے والے ڈپٹی کمشنر پر !!!!

!!! آسانی سے امیدار اور متعلقہ ڈپٹی کمشنر کے خلاف جعلسازی کا پرچہ ہو جائے گا اور تین سو بندے نوکری سے نکل جائیں گے !!! فکر کرنے کی کیا بات ہے ؟؟؟؟ نیک کام میں جلدی کریں !!! ہم آپ کے ساتھ ہیں !!!
(نوٹ) ہماری Law firm کی طرف سے آج ہی پوڈکاسٹ کرنے والے صاحب کو لیگل نوٹس ارسال کیا جارہا ہے کہ وہ ایک ماہ کے اندر اُن تین سو امیدواروں کے نام ولدیت، جعلی ڈومیسائلز ( متعلقہ ڈپٹی کمشنر سے تصدیق شدہ ) اور مذہبی کوائف ( نادرہ سے تصدیق شدہ) ہماری فرم کو ارسال کریں یا اپنے پر سوشل میڈیا فورم پر لائین ورنہ اُن کے خلاف قانونی چارہ جوئی کیلئے متعلقہ فورم پر رجوع کیا جائے گا !!!!

Previous Post

مشرق وسطیٰ میں امن، استحکام اور سلامتی کے لیے سکیورٹی کونسل تنازعات و عدم استحکام کی وجوہات حل کرے، ایرانی مندوب

Next Post

پاکستان کی چین کے معیار کے مطابق آم برآمدی انفراسٹرکچر میں توسیع ، چین میں پاکستانی آموں کی برآمدات کیلئے 32 پراسیسنگ اور ہاٹ واٹر ٹریٹمنٹ سہولتیں رجسٹرڈ

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post
پاکستان کی چین کے معیار کے مطابق آم برآمدی انفراسٹرکچر میں توسیع ، چین میں پاکستانی آموں کی برآمدات کیلئے 32 پراسیسنگ اور ہاٹ واٹر ٹریٹمنٹ سہولتیں رجسٹرڈ

پاکستان کی چین کے معیار کے مطابق آم برآمدی انفراسٹرکچر میں توسیع ، چین میں پاکستانی آموں کی برآمدات کیلئے 32 پراسیسنگ اور ہاٹ واٹر ٹریٹمنٹ سہولتیں رجسٹرڈ

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • Hrajte své oblíbené kasinové hry kdykoli a kdekoli na svém chytrém telefonu nebo tabletu s Posido casino, které vám nabízí skvělou zábavu a příležitosti k výhře.

  • Εγγραφείτε εύκολα, πραγματοποιήστε γρήγορες καταθέσεις και απολαύστε ταχύτατες πληρωμές στο Vegashero, όπου η εμπειρία του online καζίνο σας περιμένει με συναρπαστική δράση.

  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper