کوئٹہ ( نمائندہ خصوصی)وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے سول اسپتال کوئٹہ میں تیزاب گردی کا نشانہ بننے والی لیڈی ڈاکٹر کے والد سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور متاثرہ خاتون کی خیریت دریافت کی۔ وزیر اعلیٰ نے خاتون ڈاکٹر کو ہر ممکن طبی اور انتظامی تعاون کی مکمل یقین دہانی کرائی۔صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے بتایا کہ متاثرہ لیڈی ڈاکٹر کو علاج معالجے کی بہترین سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور حکومت اس کے تمام علاج کے اخراجات برداشت کرے گی۔انہوں نے مزید بتایا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر متاثرہ خاتون ڈاکٹر کو کراچی منتقل کرنے کے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ متاثرہ کو ائیر ایمبولینس کے ذریعے کراچی منتقل کیا جائے گا جہاں ماہر ڈاکٹرز اور طبی عملہ ان کے ہمراہ ہوگا۔صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ حکومت متاثرہ لیڈی ڈاکٹر کی مکمل صحت یابی تک ہر
ممکن طبی اور انتظامی معاونت فراہم کرے گی۔وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے واقعے میں ملوث ملزم کی فوری گرفتاری اور قانون کے مطابق سخت کارروائی کی ہدایت کر دی ہے۔ صوبائی وزیر صحت نے بتایا کہ واقعہ کی تحقیقات تیزی سے جاری ہیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملزم تک پہنچنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہے ہیں۔بخت محمد کاکڑ نے کہا کہ خواتین ڈاکٹرز، طبی عملے اور مریضوں کے تحفظ کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اس افسوسناک واقعے میں ملوث تمام عناصر کو کسی صورت رعایت نہیں دی جائے گی اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔اس دوران بلوچستان بار کونسل سمیت صوبے کے مختلف سیاسی، سماجی اور پیشہ ور حلقوں نے تیزاب حملے کی شدید مذمت کی ہے اور متاثرہ خاتون ڈاکٹر کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔حکومت بلوچستان نے واضح کیا ہے کہ خواتین کے خلاف ایسے حساس جرائم پر برداشت کی کوئی گنجائش نہیں اور مجرموں کو قانون کے مطابق سزا دلائی جائے گی۔

