لندن۔(نمائندہ خصوصی):ماہرین فلکیات نے نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں پر مقناطیسی میدان کی موجودگی کے اہم ترین ثبوت حاصل کر لیے۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ماہرین فلکیات نے سات بڑے اور گرم گیسوں پر مشتمل سیاروں پر ہواؤں کے رویے کی بنیاد پر یہ ثبوت حاصل کیے ہیں ۔چلی اور ہوائی میں نصب دوربینوں کے مشاہدات پر مبنی اس دریافت سے نظام شمسی سے باہر کے سیاروں بارے ہمارے فہم میں اضافہ ہو گا۔ نظام شمسی کے آٹھ سیاروں میں سے دو کے علاوہ زمین سمیت تمام سیارے مقناطیسی میدان رکھتے ہیں۔مقناطیسی میدان ایک غیر مرئی قوت کا میدان ہے جو کسی سیارے کے اندر گہرائی میں برقی طور پر چلنے والے مواد کی حرکت سے پیدا ہوتا ہے ۔ یہ مواد ایک
پگھلا ہوا دھاتی کور ہوتا ہے جو سیارے کی گردش کے ساتھ مل کر اس کا مقناطیسی میدان تشکیل دیتا ہے۔ مقناطیسی میدان ان عوامل میں سے ایک ہو سکتا ہے جو زمین جیسے چٹانی سیارے کو رہنے کے قابل بنانے میں مدد کرتا ہے۔مذکورہ سات سیارے مشتری کے برابر سے لے کر اس سے تین گنا سے زیادہ بڑے ہیں تاہم ان کا ایک حصہ ہمیشہ اپنے اپنے سورج کے سامنے اور دوسرا حصہ ہمیشہ تاریکی میں رہتا ہے جس کی وجہ سے ان سیاروں کے دونوں حصوں کے درجہ حرارت میں کافی فرق پایا جاتا ہے۔ان سیاروں پر گرم حصے سے سرد حصے تک تیز ہوائیں چلتی ہیں۔ مذکورہ سیاروں کی ان کے میزبان ستاروں سے مداری قربت ان کے سورج کے سامنے والے حصے پر جھلسا دینے والے درجہ حرارت کا باعث بنتی ہے ۔تمام سیاروں کا اپنے اپنے میزبان ستارے سے فاصلہ عطارد اور ہمارے سورج کے درمیان فاصلے سے کم ہے۔ ان سیاروں پر ہوا کی رفتار کا اندازہ 25,000 کلومیٹر فی گھنٹہ تک لگایا گیا ہے جو ہمارے نظام شمسی کے سیارے مشتری پر چلنے والی ہوائوں کی رفتار سے زیادہ ہے۔ہمارے نظام شمسی میں مشتری کا مقناطیسی میدان سب سے بڑا اور طاقتور ترین مقناطیسی میدان ہے اور مذکورہ ساتھ سیاروں کے مقناطیسی میدان مشتری کے مقناطیسی میدان سے چھوٹے اور کم طاقتور ہیں۔

