اسلام آباد۔(نمائندہ خصوصی):پاکستانی حجاج کرام نے بدھ کو مزدلفہ میں اپنا قیام مکمل کر کے رمی الجمارات ادا کرنے کے لیے منیٰ کی طرف اپنا سفر شروع کر دیا ہے جبکہ سرکاری حج سکیم کے تحت عازمین کے لیے قربانی کا وقت شام 6 بجے مقرر کیا گیا ہے۔ وزارت مذہبی امور کے ترجمان نے اے پی پی کو بتایا کہ حجاج کرام 10 ذی الحجہ کو جمرات کی طرف جا رہے ہیں تاکہ وہ جمرات العقبہ پر سات کنکریاں مار کر شیطان کو کنکریاں مارسکیں، جسے عام طور پر حجاج "بڑا شیطان” کہتے ہیں۔ترجمان نے کہا کہ مزدلفہ میں رات کے قیام کے بعد یہ حج کا دوسرا واجب ہے۔انہوں نے کہا کہ
قربانی کے بعد حجاج بال منڈوانے یا تراش کر قصر ادا کریں گے اور پھر احرام اتار دیں گے۔ترجمان نے مزید کہا کہ عازمین حج کا تیسرا بڑا فریضہ طواف زیارت بھی بدھ کو یا اگلے دو دنوں میں ادا کریں گے۔وزارت مذہبی امور کے مطابق حجاج بدھ اور جمعرات کو منیٰ میں قیام جاری رکھیں گے اور ذوال کے بعد تینوں جمرات میں ایام تشریق کے طور پر رمی ادا کریں گے۔ترجمان نے کہا کہ زیادہ تر پاکستانی عازمین کی 12 ذی الحجہ کو رمی مکمل کرنے کے بعد مکہ مکرمہ میں اپنی رہائش گاہوں پر واپس آنے کی توقع ہے، جب کہ مخصوص مکاتب سے منسلک کچھ عازمین 13 ذی الحجہ کو اختیاری سنگساری تک منیٰ میں ہی رہیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے لیے واپسی کی حج پروازیں 31 مئی سے شروع ہوں گی جب کہ روانگی سے قبل مسجد الحرام میں الوداعی طواف بھی کریں گے۔

