دوشنبے۔(نمائندہ خصوصی):وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ ڈاکٹر مصدق ملک نے خبردار کیا ہے کہ سرحد پار آبی معاہدوں سے متعلق یکطرفہ اقدامات عالمی معاہداتی نظام کو کمزور کر سکتے ہیں اور زیریں ممالک کے لیے طویل المدتی خطرات پیدا کر سکتے ہیں جبکہ انہوں نے مشترکہ آبی وسائل کے تحفظ کے لیے مضبوط عالمی اقدامات پر زور دیا ہے۔تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں ’’انٹرنیشنل ڈیکیڈ فار ایکشن‘‘ سے متعلق چوتھی اعلیٰ سطحی بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ موسمیاتی دباؤ اور کمزور ہوتے کثیرالجہتی نظام ایسے ممالک کے لیے نئی مشکلات پیدا کر رہے ہیں جو مشترکہ دریائی نظاموں پر انحصار کرتے ہیں۔ سرحد پار آبی حکمرانی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ موجودہ فریم ورک تعاون اور نیک نیتی کے اصولوں پر قائم کیے گئے تھے تاہم بدلتے سیاسی حالات میں ان معاہدوں کو چیلنجز کا سامنا ہے۔انہوں نے سندھ طاس معاہدے کی مثال دیتے
ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ 65 برس تک مستحکم رہا اور دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان متعدد جنگوں کے باوجود برقرار رہا تاہم سیاسی مفادات کو قانونی فریم ورک پر فوقیت دینا خطرناک رجحان ہے۔ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ ہمارے خطے میں ایک معاہدہ موجود تھا، سندھ طاس معاہدہ، جو 65 سال تک مستحکم رہا، یہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ در جنگ کے باوجود قائم رہا۔انہوں نے زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلی کو معاہدوں کی یکطرفہ تشریح کا جواز بنانے کے بجائے زیادہ شفافیت، مؤثر عملدرآمد، ڈیٹا شیئرنگ اور قبل از وقت انتباہی نظام کے فروغ کا ذریعہ بننا چاہیے۔وفاقی وزیر نے ہائیڈرو الیکٹرک ڈیزائن پیرامیٹرز سے متعلق حالیہ ثالثی عدالت کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے نے بالائی علاقوں میں پانی کے کنٹرول کی حدود واضح کی ہیں تاہم ساتھ ہی عالمی نفاذی نظام کی کمزوریوں کو بھی بے نقاب کیا ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر معاہدوں پر مبنی تحفظات کمزور ہوئے تو مختلف دریائی نظاموں سے وابستہ زیریں ممالک کو پانی تک رسائی اور آبی تحفظ کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ڈاکٹر مصدق ملک نے کہاکہ یہ معاہدے کا خاتمہ نہیں بلکہ ایک انکشاف ہےاور مزید کہا کہ آج قائم ہونے والی مثالیں مستقبل کی عالمی آبی حکمرانی کی سمت متعین کریں گی۔انہوں نے 2026 کی اقوام متحدہ واٹر کانفرنس سے قبل پاکستان کی جانب سے سرحد پار آبی حکمرانی کے لیے پابند بین الاقوامی معاہدوں، بالائی اور زیریں ممالک کے درمیان لازمی تیسرے فریق کی ثالثی اور خلاف ورزیوں پر سیاسی، سفارتی اور اقتصادی نتائج تجویز کیے۔انہوں نے کہا کہ تجارت، جوہری ضابطہ کاری اور کاربن مارکیٹس کے لیے قابلِ نفاذ عالمی نظام موجود ہیں مگر پانی کے معاملے میں ایسے مؤثر عالمی میکانزم اب بھی محدود ہیں۔ ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ پانی کی قلت، گلیشیئرز کے پگھلاؤ اور بار بار آنے والے موسمیاتی جھٹکے اب صرف ماحولیاتی مسائل نہیں رہے بلکہ خوراک کے تحفظ، معاشی استحکام اور بین النسلی انصاف کے اہم معاملات بن چکے ہیں۔پاکستان کے تناظر میں انہوں نے کہا کہ ملک عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ڈالتا ہے مگر اس کے باوجود شدید موسمیاتی اثرات، سیلاب، خشک سالی اور زرعی شعبے پر دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔انہوں نے ایک پاکستانی کسان خاندان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب اور خشک سالی کے متواتر ادوار نے انہیں بارہا غربت میں دھکیل دیا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ موسمیاتی تباہ کاریاں دہائیوں کی معاشی ترقی کو پیچھے دھکیل رہی ہیں۔ ڈاکٹر مصدق ملک نے حکومتوں پر زور دیا کہ وہ ایسے ادارے قائم کریں جو آبی عدم تحفظ سے متاثرہ کمزور طبقات کو حقیقی تحفظ فراہم کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ پانی کی قلت، بیماریوں اور موسمیاتی تبدیلی سے روزگار کے نقصان کا سامنا کرنے والی کمیونٹیز محض بیانات نہیں بلکہ عملی تحفظات کی منتظر ہیں۔

