بیجنگ (نمائندہ خصوصی)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ چین پاکستان کی معاشی خود مختاری کے لیے ہر ممکن تعاون کرے گا،چینی قیادت کے ساتھ سی پیک 2.0 پر عملدرآمد تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس فریم ورک کے تحت زراعت ایک مرتبہ پھر سر فہرست ہے،آہنی دوستی کو زراعت، صنعت ،تحقیق و ترقی اور دیگر سٹریٹجک شعبوں میں نئے انقلاب میں تبدیل کریں گے،زرعی تعاون کے لیے مضبوط عملی پیشرفت کی ضرورت ہے،ہم مل کر پاکستان کے زرعی شعبے میں تمام اہداف حاصل کریں گے،نوجوان ہمارا مستقبل ہیں،ایک ہزار نئے زرعی گریجویٹس کو جدید زرعی تعلیم و تربیت کے لیے چین کی جامعات میں بھیجیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو یہاں چا ئنیز اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز کے دورے کے موقع پر پاک۔چین زرعی تعاون پر منعقدہ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وزیر اعظم نے کہا کہ دنیا کے اس ممتاز ادارے کا دورہ میرے لیے باعث اعزاز ہے جو زرعی تحقیق و ترقی کے فروغ میں عالمی شہرت کا حامل ہے، مجھے اعزازی پروفیسر شپ کا جو سرٹیفکیٹ دیا گیا ہے یہ اعزاز حاصل کرنا صرف میرے لیے ہی نہیں بلکہ پوری پاکستانی قوم کے لیے باعث فخر ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال ہم دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ اور
پرجوش سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ منا رہے ہیں،اس اعزاز کا حصول اور پاک چین تعلقات کی یہ تاریخی سالگرہ غیر معمولی اور یادگار مواقع ہیں،ہم مل کر اس آہنی بھائی چارے کو معاشی تبدیلی اور انقلاب میں تبدیل کریں گے،دونوں ممالک کے درمیان زراعت، صنعت، تحقیق و ترقی اور مشترکہ تعاون کے دیگر تزویراتی شعبوں میں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر معاشی تبدیلی اور انقلاب برپا کریں گے،ہم زرعی شعبے کی ترقی کے لیے چین کے تعاون کے خواہاں ہیں،نوجوان ہمارا مستقبل ہیں ،پاک چین تعاون ان کے قریبی روابط کے ذریعے مزید مستحکم ہوگا،ہم اپنے نوجوان کاروباری افراد،کسانوں اور سائنسدانوں کی بات کرتے ہیں جو معیشت میں ترقی ،جدت اور ٹیکنالوجی لا رہے ہیں،وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان زرعی تعاون کے لیے مفاہمتی یاداشت پر دستخط ہوئے ہیں،اس پر چین کی طرف سے ٹھوس پیش رفت کی ضرورت ہے، زرعی شعبے میں وہ تمام اہداف حاصل کرنے کے لیے مل کر کام کریں گے جن کے ہم مدت سے منتظر ہیں۔ہمیں اپنے زرعی تحقیقی مراکز کو بحال کرنا ہوگا،تحقیق کو ترقی دینے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے اور نئی صلاحیتوں کو سامنے لانا ہوگا،درمیانی اور طویل مدت کی بنیاد پر پاکستان میں دنیا کی بہترین اکیڈمی قائم کریں،دنیا کے بہترین اساتذہ اور سائنس دانوں کو سامنے لائیں وہ پاکستان میں دستیاب ہیں،ہم چاہتے ہیں کہ چا ئنیز اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز (کاس)ہمارے تحقیقی مرکز کے منصوبے کی قیادت سنبھالے، آپ کے زیر انتظام فیکلٹی یہ کام کر سکتی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ چینی حکومت ،چینی قیادت اور پاکستان میں چین کے سفیر اور پاکستان کے سفیر کی کوششوں سے پاکستان کے چاروں صوبوں سے ایک ہزار نئے زرعی گریجویٹس کو چینی جامعات میں جدید زرعی کورسز اور جدید تربیت کے لیے بھیجنے کی تجویز پیش کرتا ہوں،ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی طلبا کا انتخاب مکمل طور پر میرٹ پر ہوگا۔وزیراعظم نے کہا کہ چینی صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم لی چیانگ کے ساتھ ملاقاتیں انتہائی نتیجہ خیز ،مفید ،دوستانہ اور پرجوش رہی ہیں،ہم نے سی پیک 2.0 پر عملدرآمد تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس فریم ورک کے تحت زراعت ایک مرتبہ پھر سر فہرست ہے،صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم لی چیانگ کے ان کلمات سے بہت متاثر ہوا ہوں کہ چین اور پاکستان سدا بہار دوست ہیں اور چین پاکستان کی معاشی خود مختاری کے حصول کے لیے ہر ممکن تعاون کرے گا،جو ہمارے مستقبل اور ہماری سلامتی کے لیے اہم ہے۔وزیراعظم نے پاکستانی طلبا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ پاکستان کے درخشاں ستارے ہو اور پاکستان کا درخشاں مستقبل آپ کے ہاتھ میں ہے مجھے یقین ہے کہ وطن واپس آنے تک آپ جدید ترین تعلیم اور تکنیک سے آراستہ ہو چکے ہوں گے اور پاکستان کی زراعت میں انقلاب برپا کریں گے جو ہماری ریڑھ کی ہڈی ہے، آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت (اے آئی )حال اور مستقبل کے علوم ہیں،اگر ہمیں معیشت کو مجموعی طور پر تبدیل کرنا ہے تو اس کا مرکز زراعت ہی ہے، آپ کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتا ہوں، وطن واپسی پر وزیراعظم ہاؤس میں آپ کو مدعو کیا جائے گا۔وزیراعظم نے پاکستان اور چین کے تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے پختہ عزم کی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ زراعت ،سائنس ،جدت اور دیہی ترقی کے شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون بڑھایا جائے گا، ہم اپنی جامعات، سائنس دانوں، محققین اور نوجوانوں کے درمیان مضبوط ادارہ جاتی روابط قائم کرتے رہیں گے تاکہ دوستی کے جو بیج آج ہم بو رہے ہیں وہ آنے والی نسلوں کے لیے خوشحالی اور مشترکہ ترقی کا پھل دیں۔قبل ازیں چائنیز اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز کے صدر ہوانگ سان وین نے کہا کہ سی اے اے ایس چین کا قومی جامع زرعی تحقیق کا ادارہ ہے،یہ اکیڈمی 1957 میں قائم ہوئی،ہمارے ادارے کا مقصد زرعی اور دیہی ترقی اور سائنسی و تکنیکی چیلنجز کا تحقیق اور جدت کے ذریعے حل تلاش کرنا ہے،گزشتہ پانچ سال میں ہم نے 300 سے زائد دو طرفہ شراکت داروں اور 50 بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ شراکت داری قائم کی ہے،ہمیں وزیراعظم محمد شہباز شریف کی میزبانی کا اعزاز حاصل ہو رہا ہے،انہوں نے کہا کہ چین اور پاکستان کے درمیان جامع سٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری میں کاس چین اور پاکستان کی قیادت اور حکومتوں کے مابین طے پانے والے اتفاق رائے پر عمل درآمد میں فعال کردار ادا کر رہا ہے ،کاس نے 2024 میں پاکستان زرعی تحقیقی کونسل کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تاکہ جامع تعاون کو مضبوط بنایا جا سکے اس کے علاوہ کاس نے گزشتہ سال سدرن ٹیلنٹ انیشیٹو کے تحت 86 تربیت یافتگان کا بھی استقبال کیا،کاس مسلسل تین اجلاسوں میں چین پاکستان مشترکہ زرعی ورکنگ گروپ کی میزبانی بھی کر چکا ہے،2025 میں اسی مشترکہ ورکنگ گروپ کے تحت تیسرا پاکستان زرعی ٹیکنالوجی ورکنگ گروپ بھی قائم کیا گیا،کاس پاکستان کے 10 سے زائد شراکت دار اداروں کے ساتھ تقریبا تمام علمی شعبوں میں قریبی تعاون کر رہا ہے،ہم اب تک مجموعی طور پر 316 پاکستانی پی ایچ ڈی اور ماسٹرز طلبا کو تعلیم فراہم کر چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کاس اس عزم پر قائم ہے کہ وہ زراعت ،سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں چین اور پاکستان کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے میں قائدانہ کردار ادا کرے گا۔کوآرڈینیٹر زراعت و غذائی تحفظ احمد عمیر نے کہا کہ پاکستان چین کے ساتھ تعاون کے ذریعے اپنے زرعی شعبوں میں چند مہینوں میں تبدیلی لا سکتا ہے،وزیراعظم کے نمایاں اقدامات میں ایک ہزار زرعی گریجویٹس کی چین میں تربیت ہے،چین سے تربیت حاصل کرنے والے زرعی گریجویٹس پاکستان میں زرعی تحقیق اور تکنیکی معلومات کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے سنگین چیلنج کا سامنا ہے، پی اے آر سی پاکستان میں کاس کے مساوی ادارہ ہے،پی اے آر سی میں پاکستان اور دنیا بھر بالخصوص چین کے ممتاز زرعی سائنسدان کام کریں گے، ہم پانچ سینٹرٹ آف ایکسی لنس قائم کر رہے ہیں، پہلا سینٹر آف ایکسی لنس فصلوں اور باغبانی کے شعبے میں تحقیق کے لیے قائم کیا جا رہا ہے،تمام سینٹرز آف ایکسی لنس ایگریکلچر ریسرچ سینٹر میں قائم کیے جائیں گے،ہم مستقبل کے لیے ایک طویل مدتی سٹریٹجک تعلق چاہتے ہیں اور چینی اور پاکستانی سائنس دانوں کے درمیان مستقل تحقیقی تبادلے کو فروغ دینا چاہتے ہیں ،ہم زراعت کو بیج سے لے کر کھانے کی میز تک کے پورے عمل کو مربوط انداز میں فروغ دینا چاہتے ہیں،زرعی شعبے کی ترقی کے لیے باہمی تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔ تقریب میں وزیراعظم کو چائنیز اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز کے امور سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی، چائنیز اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز کے صدر پروفیسر ہوانگ سان وین نے وزیراعظم کو اعزازی پروفیسر شپ کا سرٹیفیکیٹ بھی پیش کیا۔

