سندھ پولیس کی تاریخ مکران کے عوام کے ساتھ کبھی اچھی نہیں رہی۔ یہاں نہ کسی کی عمر دیکھی جاتی ہے، نہ عزت، نہ تعلیم، نہ مقام۔ عام آدمی ہو یا کوئی خاص شخصیت، معصوم بچہ ہو یا سفید ریش بزرگ، طالبِ علم ہو یا مدرسے کا فاضل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس روٹ پر وردی کے نام پر کھڑے اہلکار ہر اُس شخص کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جس کی شناخت بلوچستان، خصوصاً مکران سے جڑی ہو۔یہ پہلا واقعہ نہیں۔ اسی شاہراہ پر رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں گوادر کے منتخب ایم پی اے کو بھی روکا گیا تھا۔ مقصد قانون نہیں، معاملہ تھا۔ مگر اس روز انہیں وہ جواب ملا جس کی شاید انہیں توقع نہیں تھی۔
سندھ پولیس کے یہ اہلکار، جو بظاہر قانون کے محافظ کہلاتے ہیں، عملی طور پر شاہراہوں پر کھڑے ایسے کردار بن چکے ہیں جن کا اصل ہدف کمزور اور بے بس مسافر ہوتے ہیں۔ خاص طور پر بلوچستان اور مکران سے تعلق رکھنے والے سادہ لوح لوگ، جو خریداری، تعلیم یا علاج کی غرض سے سفر کرتے ہیں، ان کے لیے یہ راستے خوف، تذلیل اور بھتہ خوری کی علامت بن چکے ہیں۔
یہ کوئی راز نہیں کہ کراچی کے ان راستوں اور متعلقہ تھانوں کی پوسٹنگز کروڑوں روپے میں بکتی ہیں۔ پھر یہی رقم معصوم مسافروں کی جیبیں خالی کرکے وصول کی جاتی ہے۔ نیچے سے اوپر تک رشوت کا ایک ایسا سلسلہ قائم ہے جس میں عام آدمی صرف شکار بنتا ہے۔ وردی، اختیار اور چیکنگ کے نام پر لوگوں کی عزتِ نفس مجروح کی جاتی ہے، اور بعد میں اسے روٹین کاروائی کا نام دے دیا جاتا ہے۔افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ان عناصر کو صرف ادارہ جاتی خاموشی ہی نہیں بلکہ سیاسی سرپرستی بھی حاصل محسوس ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شکایات کے باوجود رویّے تبدیل نہیں ہوتے۔ مکران کے لوگ برسوں سے یہ سب برداشت کرتے آرہے ہیں۔ ان کے زخم نئے نہیں، صرف کہانیاں نئی ہوتی ہیں۔سوال صرف یہ ہے کہ آخر کب تک؟

