نیو یارک۔(نمائندہ خصوصی):ممتاز کشمیری رہنما و ورلڈ فورم فار پیس اینڈ جسٹس کے چیئرمین ڈاکٹر غلام نبی فائی نے بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر کی بگڑتی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کا وعدہ کردہ حقِ خودارادیت نہیں دیا جاتا۔یہ بات انہوں نے امریکی ریاست میری لینڈ کے شہر بالٹی مور میں بنیادی سطح پر کام کرنے والی تنظیم امریکی اسلامک سرکل آف نارتھ امریکا (آئی سی این اے)کے 51 ویں سالانہ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس میں بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں بارہا شہری آزادیوں پر پابندیوں، من مانی گرفتاریوں اور آبادی کے تناسب میں تبدیلی سے متعلق خدشات کا ذکر کیا

گیا ہے۔تقریب سےمصنف اور معروف سپیکر لیلیٰ الحداد، چیئرمین یو ایس آف مسلم آرگنائزیشن (یو ایس ایس ایم او) ڈاکٹر اسامہ عبدالرشید نے فلسطین کی موجودہ صورتحال پر خطاب کیا اور معروف کمیونٹی لیڈر حیبیب اللہ زیار نے افغانستان کی صورتحال پر بات کی۔ کنونشن میں امریکا بھر سے 25 ہزار سے زائد افراد نے شرکت کی جبکہ مختلف ممالک کے وفود بھی شریک ہوئے۔ڈاکٹر غلام نبی فائی نے کہا کہ تنازعہ کشمیر صرف بھارت اورپاکستان کے درمیان علاقائی تنازعہ نہیں بلکہ یہ 2 کروڑ 30 لاکھ سے زائد کشمیریوں کے سیاسی مستقبل، وقار اور انسانی حقوق کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان یہ غیر حل شدہ تنازعہ علاقائی اور عالمی امن کے لیے براہِ راست خطرہ ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 21 اپریل 1948 کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 47(جسے امریکا اور برطانیہ کی حمایت حاصل تھی) میں یہ تسلیم کیا گیا تھا کہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں کشمیری عوام کی آزادانہ رائے سے کیا جائے گا۔ڈاکٹر فائی نے کہا کہ 2005 میں نریندر مودی ، جو اس وقت گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے، کا ویزا امریکی محکمہ خارجہ نے 2002 کے گجرات فسادات سے متعلق رپورٹس کی بنیاد پر منسوخ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 370 اور 35A کی منسوخی کے بعد جموں و کشمیر میں غیر کشمیریوں کو لاکھوں ڈومیسائل سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے جس کا مقصد خطے کی آبادیاتی ساخت کو تبدیل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وسیع پیمانے پر زمینوں کا حصول اور مقامی باشندوں کی بے دخلی بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ڈاکٹر فائی نے مختلف بین الاقوامی تنظیموں، صحافیوں، پارلیمنٹرینز اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی رپورٹس اور بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس ،گریگوری سٹینٹون ، جان کشنہان اور اروندھتی رائے کے بیانات کا ذکر کیا۔ انہوں نے کشمیری رہنماؤں اور انسانی حقوق کے کارکنوں خرم پرویز،یاسین ملک، شبیر احمد شاہ، مسرت عالم بٹ ،آسیہ اندرابی،صوفی فہمیدہ ،ناہیدہ نسرین اور عران مہراج کے مقدمات اور گرفتاریوں کو اختلافِ رائے کو دبانے کی کوشش قرار دیا۔خطے کی مجموعی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر فائی نے کہا کہ حالیہ پاک بھارت کشیدگی نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ کشمیر دنیا کا سب سے خطرناک خطہ بنا ہوا ہے۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکشوں کا حوالہ دیتے ہوئے عالمی طاقتوں پر زور دیا کہ وہ پاکستان،بھارت اور کشمیری قیادت کے درمیان بامعنی مذاکرات میں کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں دیرپا امن اسی وقت ممکن ہوگا جب کشمیری عوام سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت کیے گئے وعدوں کو بین الاقوامی قانون اور جمہوری اصولوں کے مطابق پورا کیا جائے۔ تقریب میں سردار ذوالفقار روشن خان ،سردار ظریف خان اور سرادر شعیب ارشاد نے بھی خطاب کیا اور امریکی اسلامک سرکل آف نارتھ امریکا (آئی سی این اے) کی قیادت کو اس اہم نشست کے انعقاد پر خراجِ تحسین پیش کیا۔

