اسلام آباد(نمائندہ خصوصی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب سے پیر کو یہاں پاکستان میں برطانیہ کی ہائی کمشنر جین میریٹ نے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران پاکستان اور برطانیہ کے دوطرفہ تعاون، اقتصادی اصلاحات، علاقائی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر جاری روابط سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران وفاقی وزیر خزانہ نے بدلتی ہوئی عالمی اقتصادی صورتحال اور اس کے پاکستان کی معیشت پر ممکنہ اثرات خصوصاً علاقائی جغرافیائی و سیاسی پیش رفت اور توانائی کی عالمی منڈی میں اتار چڑھائو کے تناظر میں حکومت کا موقف پیش کیا۔ انہوں نے معیشت میں استحکام برقرار رکھنے، بیرونی شعبے پر دبائو کو موثر انداز میں سنبھالنے اور طویل المدتی اقتصادی نمو اور پائیداری کے لیے جاری اصلاحاتی عمل کو برقرار رکھنے کے لیے حکومت کی کوششوں
سے آگاہ کیا۔سینیٹر محمد اورنگزیب نے اہم اقتصادی اشاریوں میں بہتری کا ذکر کرتے ہوئے بیرونی کھاتوں میں استحکام، ترسیلات زر میں مسلسل مضبوطی اور سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کو نمایاں کیا۔ انہوں نے برطانوی ہائی کمشنر کو ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے، محصولات میں اضافے، تعمیل کے نظام کو مضبوط بنانے اور ٹیکنالوجی پر مبنی اصلاحات اور ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے شفافیت کو فروغ دینے کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔وفاقی وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ حکومت پالیسی کے تسلسل، مالیاتی نظم و ضبط اور ساختیاتی اصلاحات کے ایجنڈے پر پوری طرح کاربند ہے۔ اس ضمن میں سرکاری شعبے کی کارکردگی بہتر بنانے، ادارہ جاتی روابط کو مضبوط کرنے اور نجی شعبے کی قیادت میں اقتصادی ترقی اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ گفتگو کے دوران اصلاحاتی ایجنڈے کے لیے عوامی حمایت برقرار رکھنے میں موثر ابلاغ اور عوامی رابطے کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔علاقائی اور عالمی پیش رفت اور ان کے اقتصادی و انسانی اثرات بھی ملاقات میں زیر بحث آئے۔ فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اقتصادی استحکام اور عالمی سپلائی چینز کو درپیش ابھرتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مکالمہ، بین الاقوامی تعاون، اور مربوط کوششیں انتہائی اہم ہیں۔برطانوی ہائی کمشنر نے علاقائی امور پر پاکستان کے مسلسل مثبت کردار کو سراہتے ہوئے پاکستان کی اقتصادی اصلاحات اور ترقیاتی ترجیحات کے لیے برطانیہ کی حمایت کا اعادہ کیا۔ ملاقات میں موسمیاتی پائیداری، آبادی کی منصوبہ بندی، سماجی شعبے میں رابطہ کاری اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ تعاون سے متعلق امور پر بھی گفتگو کی گئی۔ملاقات کے اختتام پر دونوں جانب سے پاکستان اور برطانیہ کے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور اقتصادی، ترقیاتی اور ادارہ جاتی شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

