اسلام آباد(نمائندہ خصوصی):پاکستان اور چین نے سفارتی تعلقات کے 75 برس مکمل ہونے پر اپنے آہنی بھائی چارے کو نئی معاشی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے سی پیک کے دوسرے مرحلے کے تحت 30 سے 50 ارب ڈالر تک کی متوقع سرمایہ کاری، سبز توانائی، صنعت، ٹیکنالوجی اور معدنیات کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کا اعلان کیا ہے ۔پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی ( ایس ڈی پی آئی) کے زیر اہتمام تقریب میں وفاقی وزیر سرمایہ کاری بورڈ قیصر احمد شیخ، چینی سفارت خانے کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن شی یوان چیانگ، ماہرین معیشت اور پالیسی سازوں نے زور دیا کہ پاک چین تعلقات کو حکومتوں کی سطح سے آگے بڑھا کر کاروباری شراکت داری میں تبدیل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پاک چین طویل المدتی تعاون کا جشن کے موضوع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ
بیوروکریسی کی رکاوٹوں اور پیچیدہ ضابطہ جاتی مسائل کے باوجود پاکستان اور چین کی آہنی دوستی نے عالمی ہنگامہ خیزیوں کے ہر امتحان میں خود کو مضبوط ثابت کیا ہے۔قیصر احمد شیخ نے کہا کہ آج چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت بن چکا ہے اور اس نے 80 کروڑ افراد کو غربت سے نکالا ،پائیدار ترقی اور خاشحالی کیلئے فرسودہ بیوروکریٹک ڈھانچہ بد لنا ہوگا، اصلاحات کے بغیر ترقی ممکن نہیں، اگر پاکستان کو پائیدار ترقی اور خوشحالی حاصل کرنی ہے تو اس نظام کو بدلنا ہوگا۔پاکستان میں چینی سفارت خانے کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن شی یوان چیانگ نے تقریب کے انعقاد پر ایس ڈی پی آئی کو مبارکباد دیتے ہوئے بیجنگ کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سال پاک چین سفارتی تعلقات کے قیام کو 75 برس مکمل ہو رہے ہیں۔ تاریخ کے ایک نئے موڑ پر دونوں ممالک مشترکہ تعاون اور شراکت داری کو مزید وسعت دینے کے لئے تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ چینی صدرشی جن پنگ، صدرمملکت آصف علی زرداری اوروزیراعظم شہباز شریف اس عزم کا اظہار کر چکے ہیں کہ پاک چین تعلقات کو حکومتی سطح سے عوامی سطح تک وسعت دی جائے گی۔ایس ڈی پی آئی کے سربراہ ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ خصوصی اقتصادی زونز کو فعال بنانا وقت کی ضرورت ہے تاہم متعدد اقدامات کو آئی ایم ایف پروگرام کی پابندیوں کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سیاسی منظرنامہ بدل رہا ہے، امریکہ بھی اب چین کو ایک بڑی عالمی طاقت تسلیم کرتے ہوئے اس کی منڈی تک رسائی چاہتا ہے۔انہوں نے زور دیا کہ آئندہ 75 برسوں میں اصل چیلنج یہ ہوگا کہ حکومتوں کے درمیان موجود اعتماد اور خیرسگالی کو کاروباری شراکت داری میں کیسے بدلا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بیوروکریٹک اصلاحات، سکیورٹی کی ضمانتیں اور پالیسیوں میں تسلسل اس سفر کے لئے ناگزیر ہیں۔قبل ازیں ایس ڈی پی آئی کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکر برائے تحقیق ڈاکٹر ساجد امین جاوید نے اپنے افتتاحی کلمات میں کہا کہ سوال یہ نہیں کہ پاک چین تعلقات کتنے مضبوط ہیں یا ان سے کتنے فوائد حاصل ہوئے بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ان تعلقات کو حکومت سے حکومت تک محدود رکھنے کے بجائے کاروبار سے کاروبار تک کیسے وسعت دی جائے۔ایس ڈی پی آئی کے ریسرچ فیلو ڈاکٹر خالد ولید نے پاک چین تعلقات پر نئی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک کا دوسرا مرحلہ پاکستان کی معاشی سمت بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ چین پاکستان کے توانائی بحران کا حقیقی نجات دہندہ ثابت ہوا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ چینی تعاون سے پاکستان میں شمسی توانائی کا انقلاب برپا ہوا جبکہ چین کے جی ڈی آئی، جی سی آئی، جی ایس آئی اور جی جی آئی جیسے اقدامات ااب عملی شکل اختیار کر رہے ہیں۔پینل مباحثے کے دوران ڈاکٹر حسن دائود بٹ نے کہا کہ چین کا ”فلائنگ گیز“ وژن اس تصور پر مبنی ہے کہ مضبوط اور کامیاب معیشتیں کمزور معیشتوں کو ساتھ لے کر آگے بڑھتی ہیں۔ ڈاکٹر سید حسنین شاہ نے کہا کہ75 برس قبل پاکستان اور چین نے سفارتی تعلقات قائم کئے تھے اور تاریخ میں شاید ہی دو ایسے ممالک کی مثال ملے جن کے نظام، ثقافت، زبان اور طرز حکمرانی مختلف ہونے کے باوجود وہ ہمیشہ ایک ہی صفحے پر رہے ہوں۔ایشیائی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کے سابق منیجنگ ڈائریکر حامد شریف نے کہا کہ پاکستان نے سینٹو اور سیٹو جیسے اتحادوں کا حصہ ہونے کے باوجود چین کو تسلیم کیا اور دونوں ممالک نے ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا۔ انہوں نے کہا کہ قراقرم ہائی وے کی تعمیر اس دوستی کی عظیم علامت ہے تاہم انہوں نے بعض اہم ناکامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت 45 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے لیکن پاکستان کی چین کو برآمدات صرف 2.4 ارب ڈالر ہیں۔

