لاہور۔(نمائندہ خصوصی):ممتاز دانشور،سینئر صحافی، معروف کالم نگار اور ماہنامہ اردو ڈائجسٹ کے مدیرِ اعلی الطاف حسن قریشی انتقال کر گئے، ان کے انتقال سے صحافتی، ادبی اور فکری حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔خاندانی ذرائع کے مطابق مرحوم کی نمازِ جنازہ کل اتوار نمازِ ظہر کے بعد دوپہر ڈیڑھ بجے جامعہ اشرفیہ، فیروزپور روڈ لاہور میں ادا کی جائے گی جبکہ تدفین بعد ازاں مقامی قبرستان میں ہوگی۔الطاف حسن قریشی پاکستان میں نظریاتی صحافت، فکری مباحث اور قومی موضوعات پر اپنی منفرد اور مدلل تحریروں کے باعث ایک نمایاں مقام
رکھتے تھے۔ انہوں نے کئی دہائیوں تک ماہنامہ اردو ڈائجسٹ کی ادارت کے فرائض انجام دیتے ہوئے صحافت، ادب اور فکری رہنمائی کے میدان میں گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔مرحوم اپنی بے باک، سنجیدہ اور قومی سوچ پر مبنی تحریروں کے باعث علمی و صحافتی حلقوں میں انتہائی احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ ان کی تحریروں نے نہ صرف صحافتی دنیا میں نئی جہتیں متعارف کروائیں بلکہ نوجوان نسل کی فکری تربیت اور قومی شعور کی بیداری میں بھی اہم کردار ادا کیا۔الطاف حسین قریشی نے اپنی عملی صحافت کے دوران قومی سلامتی، نظریہ پاکستان، اسلامی اقدار، سیاسی و سماجی مسائل اور عالمی حالات پر گہرے تجزیے پیش کیے، جنہیں وسیع حلقوں میں پذیرائی حاصل ہوئی۔ان کا شمار ان شخصیات میں ہوتا تھا جنہوں نے پاکستان میں نظریاتی صحافت کی بنیادوں کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ان کے انتقال پر صحافتی و ادبی شخصیات، سیاسی رہنمائوں، دانشوروں اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ مختلف حلقوں کا کہنا ہے کہ الطاف حسین قریشی کی وفات اردو صحافت اور فکری دنیا کا ناقابلِ تلافی نقصان ہے ، ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔