اسلام آباد( نمائندہ خصوصی):چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے زور دیا ہے کہ بروقت تیاری، ابتدائی وارننگ اور اداروں کے درمیان موثر تعاون سے موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پیدا ہونے والی آفات سے کمزور طبقات کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔ پیر کو این ڈی ایم اے سے جاری بیان کے مطابق این ڈی ایم اے نے 11 اور 12 مئی 2026 کو این ڈی ایم اے ہیڈکوارٹر اسلام آباد میں “پیشگی اقدامات” کے موضوع پر دو روزہ دوسرا قومی مکالماتی پلیٹ فارم منعقد کیا۔ یہ پروگرام نیشنل کوآرڈینیشن فورم آن اینٹیسیپیٹری ایکشن کے تحت منعقد کیا جا رہا ہے۔یہ پلیٹ فارم ورلڈ فوڈ پروگرام ، فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن، ویلٹ ہنگر ہلفے، پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی اور انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس اینڈ ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز کے تعاون سے منعقد کیا گیا۔
چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے شرکاء کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں آفات سے بچاؤ کے مضبوط نظام کے لیے “پیشگی اقدامات” اور “ٹرگر بیسڈ” حکمت عملی انتہائی ضروری ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ بروقت تیاری، ابتدائی وارننگ، اور اداروں کے درمیان مؤثر تعاون سے موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پیدا ہونے والی آفات سے کمزور طبقات کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔افتتاحی اجلاس میں مختلف بین الاقوامی اداروں کے نمائندوں نے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ موسمیاتی آفات کے نقصانات کم کرنے کے لیے مشترکہ تعاون، بہتر تیاری اور مربوط حکمت عملی ناگزیر ہے۔اس موقع پر پاکستان کی “قومی اینٹیسیپیٹری ایکشن اسٹریٹجی” کا ابتدائی اجراء بھی کیا گیا، جس کا مقصد موسمیاتی خطرات اور آفات سے نمٹنے کے لیے پیشگی منصوبہ بندی، ادارہ جاتی تعاون، اور مضبوط حفاظتی نظام قائم کرناہے۔پیشگی اقدام” سے مراد ایسے اقدامات ہیں جو سائنسی پیشگوئیوں اور خطرات کے تجزیے کی بنیاد پر آفات آنے سے پہلے کیے جاتے ہیں تاکہ انسانی اور معاشی نقصانات کو کم کیا جا سکے۔چونکہ سیلاب، ہیٹ ویوز، خشک سالی، اور بیماریوں کے پھیلاؤ جیسے موسمیاتی خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے، اس لیے پیشگی حفاظتی نظام کو مضبوط بنانا قومی ترجیح بن چکا ہے۔اس مکالماتی پلیٹ فارم کا مقصد مختلف اداروں کے درمیان تجربات کا تبادلہ، بہترین طریقہ کار کا اشتراک، اور ماضی کے تجربات سے سیکھنا ہے۔ مباحثوں میں ادارہ جاتی ہم آہنگی، مختلف شعبوں میں یکسانیت اور پاکستان کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ نظام میں پیشگی اقدامات کو شامل کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔مزید برآں، اس پلیٹ فارم میں قومی اور صوبائی منصوبہ بندی میں پیشگی اقدامات کو شامل کرنے اور پائیدار مالی وسائل، جیسے سرکاری فنڈنگ اور کلائمیٹ فنانس، پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔اس دو روزہ مکالمے میں سرکاری ادارے، اقوام متحدہ کی ایجنسیاں، امدادی اور ترقیاتی تنظیمیں، بین الاقوامی مالیاتی ادارے، تعلیمی ماہرین، نجی شعبہ، موسمیاتی ماہرین، اور کمیونٹی نمائندگان سمیت تقریباً 200افرادشامل ہیں۔یہ پلیٹ فارم اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان اب صرف آفات کے بعد ردِعمل دینے کے بجائے پہلے سے تیاری اور پیشگی اقدامات کے ذریعے قومی سطح پر مضبوط اور محفوظ نظام قائم کرنا چاہتا ہے۔
