اسلام آباد۔(نمائندہ خصوصی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ قوموں کی اصل طاقت اُن کے وسائل نہیں بلکہ اُن کے نوجوان ہوتے ہیں، جو بڑے خواب دیکھتے ہیں، مسلسل سیکھتے ہیں اور ملک کو آگے لے جانے کا عزم رکھتے ہیں۔اقراء یونیورسٹی کی کانووکیشن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کے مستقبل کی تشکیل میں نوجوانوں، تعلیم، جدت، نظم و ضبط اور قومی یکجہتی کے کلیدی کردار پر زور دیا۔انہوں نے طلبا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ زندگی میں نمایاں مقام حاصل کرنا چاہتے ہیں تو صرف خواب دیکھنا کافی نہیں، بلکہ اُن خوابوں کے حصول کے لیے خود کو مکمل طور پر وقف کرنا پڑتا ہے۔اضافی محنت، نظم و ضبط اور وقت کی قدر ہی انسان کو ہجوم سے ممتاز بناتی ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ کامیابی ہمیشہ اُن لوگوں کے حصے میں آتی

ہے جو حالات نہیں بلکہ امکانات دیکھتے ہیں، جو ہر اندھیرے میں روشنی، ہر رکاوٹ میں راستہ اور ہر مشکل میں نئی شروعات تلاش کر لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل اُن نوجوانوں کا منتظر ہے جو بڑے خواب دیکھنے، مثبت سوچ اپنانے اور ناممکن کو ممکن بنانے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔احسن اقبال نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ زندگی کے اگلے چالیس سال پلک جھپکتے گزر جائیں گے، سوال یہ ہے کہ آپ اُنہیں مقصد دیں گے یا حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں گے؟ انہوں نے اپنی جدوجہد اور ایک مڈل کلاس نوجوان سے قومی قیادت تک کے سفر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تعلیم، عزم، کردار اور وطن سے وابستگی ہر نوجوان کو اپنے خواب حقیقت میں بدلنے کی طاقت دیتے ہیں۔وفاقی وزیر نے نوجوان نسل پر زور دیا کہ وہ پاکستان کے مستقبل کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے علم، قیادت اور قومی خدمت کے ذریعے ملک کو ترقی، استحکام اور خوشحالی کی نئی منزلوں تک لے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے معرکۂ حق جیتا ہے، اب ہمیں معرکہ ترقی جیت کر پاکستان کو معاشی قوت بنانا ہوگا۔احسن اقبال نے مزید کہا کہ آنے والے برس محض وقت کا سفر نہیں بلکہ وہ فیصلہ کن دور ہیں جو قوموں کے مستقبل، وقار اور عالمی مقام کا تعین کرتے ہیں۔آج کی دنیا مصنوعی ذہانت، جدید ٹیکنالوجی، تحقیق اور جدت کے نئے دور میں داخل ہو چکی ہے، جہاں وہی قومیں آگے بڑھتی ہیں جو اپنی نوجوان نسل کو علم، مہارت، تخلیقی سوچ اور مضبوط کردار سے آراستہ کرتی ہیں۔انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ تحقیق، اختراع، نظم و ضبط، مثبت سوچ اور مسلسل سیکھنے کے عمل کو اپنائیں تاکہ پاکستان 2047 تک دنیا کی صفِ اول کی اقوام میں نمایاں مقام حاصل کر سکے۔

