اسلام آباد( نمائندہ خصوصی):جنوبی ایشیا کا خطہ 10 مئی 2025 کو ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑا تھا جہاں معمولی سا غلط فیصلہ بھی اس کو وسیع خوفناک تصادم کی طرف دھکیل سکتا تھا۔ بھارت کی جانب سے بڑھتی ہوئی جنگی اشتعال انگیزی، سرحدی کشیدگی اور جارحانہ بیانات کے ماحول میں پاکستان نے’’معرکۂ حق‘‘ کے ذریعے نہ صرف اپنی خودمختاری کا مؤثر دفاع کیا بلکہ دنیا کو یہ پیغام بھی دیا کہ قومی سلامتی کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ذمہ داری، تحمل اور انسانی اقدار کی پاسداری بھی عین ممکن ہے۔ آج، معرکۂ حق کو ایک سال مکمل ہونے پر یہ حقیقت مزید نمایاں ہو چکی ہے کہ حقیقی قوت عسکری طاقت کے ساتھ ساتھ اصولی استقامت، قومی اتحاد اور اخلاقی برتری میں بھی پوشیدہ ہوتی ہے۔مبصرین کے مطابق معرکۂ حق میں پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر اپنی خودمختاری کا بھرپور دفاع کیا، مگر طاقت کے استعمال میں احتیاط اور توازن کو ملحوظ رکھا۔ اس حکمتِ عملی کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ کشیدگی کو مزید نہ بڑھنے دیا جائے اور شہری آبادی کو ہر ممکن نقصان سے محفوظ رکھا جائے۔ اس کے برعکس، بھارت
کے جارحانہ اقدامات نے خطے میں عدم استحکام کو ہوا دی اور انسانی بحران کے خدشات کو بڑھایا جس نے عالمی توجہ بھی اپنی جانب مبذول کروائی۔ بین الاقوامی مبصرین اور عالمی سفارتی حلقوں کی جانب سے اُس وقت جنوبی ایشیا میں ممکنہ تصادم پر تشویش کا اظہار کیا گیاجبکہ پاکستان نے مسلسل ذمہ دارانہ سفارتی رابطوں اور تحمل پر مبنی مؤقف کے ذریعے کشیدگی میں کمی کی کوششوں کو ترجیح دی۔یہ معرکہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے محض دفاعی اقدام نہیں تھا بلکہ ایک واضح اخلاقی اور اصولی موقف کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ اسلامی تعلیمات میں مظلوم کا دفاع اور ظلم کے خلاف کھڑا ہونا بنیادی فریضہ قرار دیا گیا ہے اور پاکستان نے اسی اصول کو عملی شکل دیتے ہوئے نہ صرف اپنی سرزمین کا دفاع کیا بلکہ انسانی جانوں کے تحفظ کو بھی اولین ترجیح بنایا۔ قرآنِ کریم کی سورہ القرہ کی آیت 190 میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے (ترجمہ) اور اللہ کی راہ میں ان سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں اور زیادتی نہ کرو، بے شک اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ اسی اسلامی اصول کی روشنی میں پاکستان نے اپنے دفاعی ردعمل کو محدود، متوازن اور ذمہ دارانہ دائرے میں رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ شہری آبادیوں کو نقصان سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی، جو ایک مہذب اور ذمہ دار ریاست کے کردار کو نمایاں کرتی ہے۔معرکۂ حق کے ایک سال بعد یہ حقیقت مزید واضح ہو چکی ہے کہ حقیقی طاقت صرف عسکری برتری میں نہیں بلکہ اصولوں، صبر اور انصاف پر قائم رہنے میں پوشیدہ ہے۔ پاکستان نے بین الاقوامی قوانین اور انسانی اقدار کے مطابق اپنے دفاع کا حق استعمال کرتے ہوئے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ طاقت کے استعمال میں بھی اخلاقی حدود کی پاسداری ممکن ہے۔ پاکستانی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ حکمتِ عملی اور شہری تنصیبات کے تحفظ پر توجہ کو قومی و بین الاقوامی سطح پر ذمہ دار عسکری رویّے کی مثال کے طور پر دیکھا گیا، جس نے پاکستان کے مؤقف کو مزید تقویت دی۔اس ایک سال کے دوران، معرکۂ حق پاکستان کے لیے ایک اہم حوالہ بن چکا ہے، ایک ایسا حوالہ جو قومی خودداری، پیشہ ورانہ عسکری حکمتِ عملی اور انسانی ہمدردی کے امتزاج کی مثال پیش کرتا ہے۔ اس نے عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت اور ذمہ دار تشخص کو بھی تقویت دی جہاں امن، استحکام اور انسانی وقار کو بنیادی اہمیت دی جاتی ہے۔ معرکۂ حق نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان اپنی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی امن کے حوالے سے کسی دباؤ کو قبول کیے بغیر ذمہ داری، تدبر اور قومی اتحاد کے ساتھ ہر چیلنج کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔معرکۂ حق کی سالگرہ کے موقع پر قوم کا عزم ہے کہ پاکستان ہمیشہ اپنے دفاع کے حق کو برقرار رکھتے ہوئے انصاف، ذمہ داری اور امن کے اصولوں پر کاربند رہے گا۔ معرکۂ حق نہ صرف ایک دفاعی کامیابی کی علامت ہے بلکہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ اصولوں پر قائم رہنے والی قومیں ہی تاریخ میں عزت و وقار کے ساتھ ہمیشہ یاد رکھی جاتی ہیں۔


