اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دیر پا امن میں بدلنے کے یقین کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا نے پاکستان پر تاریخی اعتماد کیا ہے، 1979ء کے بعد پہلی بار دونوں ممالک اسلام آباد میں مذاکرات کی میز پر بیٹھے، پاکستان قیام امن کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا،سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ حرمین شریفین کے دفاع کے عزم کی تجدید ہے، آزادی اور قانونی حق ملنے تک پاکستان مظلوم کشمیریوں اور فلسطینیوں کی حمایت جاری رکھے گا،باہمی اتحاد افہام و تفہیم اور مثالی کردار سے مسائل کا حل نکالیں گے، پشاور سے کراچی تک پوری قوم آج یک جان ہے،امت کو تقسیم کرنے والے اور دہشت گردی میں ملوث عناصر مسلمان کہلانے کے حقدار نہیں،علما کرام امت میں اتحاد اور یگانگت کے فروغ میں اپنا کردار ادا کریں۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار پاکستان علما کونسل کے زیر اہتمام چھٹی بین الاقوامی پیغام اسلام کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس میں وفاقی وزرا ،فلسطین کے قاضی القضاۃ و فلسطینی صدر کے مشیر برائے مذہبی امور ڈاکٹر محمود الہباش، مفتی اعظم مقبوضہ بیت المقدس شیخ محمد احمد حسین، پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی،چیئرمین پاکستان علما کونسل مولانا طاہر محمود اشرفی اور مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علمائے کرام نے شرکت کی۔وزیر اعظم نے پاکستان علما کونسل اور انٹرنیشنل تنظیم حرمین شریفین کو کانفرنس کے انعقاد پر مبارکباد دی۔انہوں نے کہا کہ یہ فقیدالمثال اجتماع اتحاد امت کی جھلک پیش کر رہا ہے پورا یقین ہے کہ باہمی اتحاد،افہام و تفہیم اور مثالی کردار کے ذریعے مسائل کا حل نکالیں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ کانفرنس ایسے مرحلے پر منعقد ہو رہی ہے جب حال ہی میں خطے اور دنیا میں ایک نئی تاریخ رقم ہوئی ہے،ایران اور امریکا کے درمیان 11 اور 12 اپریل کو مذاکرات ہوئے،ایران اور امریکا کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ پاکستان کی دعوت پران کے وفود پاکستان آئے، عارضی جنگ بندی پر متفق ہوئے اور ثالثی کے حوالے سے پاکستان کی دعوت قبول کی، یہ وہ تاریخی اعتماد ہے جو دنیا نے پاکستان کے اوپر کیا ہے، حالیہ تاریخ میں ایسی کوئی اور مثال نہیں ملتی، 1979ء کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ امریکی اور ایرانی قیادت آمنے سامنے اسلام اباد میں مذاکرات کی میز پر بیٹھی، یہ ایک ادنی سی خدمت ہے جو پاکستان نے عالم اسلام کے لیے اور دنیا کے امن کے لیے انجام دی اور نہایت تدبر، حکمت، جوش و ولولے اور اللہ تعالی کے بے پایاں فضل و کرم کے ساتھ پختہ عزم کے ساتھ بات چیت کے دروازے کھلے۔وزیر اعظم نے کہا کہ انہیں پورا یقین ہے کہ انشاء اللہ یہ بات چیت دیر پا امن میں جلد بدلے گی اور اس خطے میں امن قائم ہوگا اور مزید جانیں ضائع نہیں ہوں گی، اس حوالے سے جہاں پاکستان نے یہ ایک تاریخی کردار ادا کیا ہے وہاں پر اپنے انتہائی پیارے بھائی سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو دل کی گہرائیوں سے خراج تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے ان امن مذاکرات کے لیے اپنا پورا کردار ادا کیا، اسی طرح ہمارے عظیم دوست چین ،برادر ملک ترکیہ نے بھی اس نیک کام میں بھرپور حصہ ڈالا۔وزیر اعظم نے کہا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے ان مذاکرات میں نہایت شاندار کردار ادا کیا اور اس سے بڑھ کرفیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے فریقین کو جنگ بندی پر آمادہ کیا، مذاکرات کی میز پر بٹھایا اور ان کو قائل کیا، انہوں نے شبانہ روز بھرپور کوششیں کیں جو کہ ابھی تک جاری ہیں اور تاریخ میں ان کاوشوں کو سنہری حروف میں یاد رکھا جائے گا، ہم سب دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی یہ کاوشیں کامیاب کرے۔وزیر اعظم نے کہا کہ حالیہ آزمائش میں جہاں پاکستان نے امت مسلمہ اور دنیا بھر میں امن کے مفاد میں نہایت متوازن اور اصولی موقف اختیار کیا وہاں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان برادرانہ تعلقات کی بھی ایک نئی تاریخ رقم ہوئی ہے، حرمین شریفین کی ارض پاک کا تحفظ ،دفاع اور سلامتی ہمیں انتہائی مقدم اور جان سے زیادہ عزیز ہے، دونوں برادر ممالک کے درمیان باہمی دفاعی معاہدہ ہمارے آہنی عزم کی تجدید ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ دین اسلام امت کے اتحاد ،باہمی احترام اور پرامن بقائے باہمی کا درس دیتا ہے اور تفرقے اور تنازعات کو مسترد کرتا ہے، اسلام امن کا دین ہے،حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی حیات طیبہ ہمارے لیے مشعل راہ ہے،حالیہ بحران کے دوران فرقہ و مسلک سے سے بالاتر ہو کر پوری قوم 1947ء کی طرح یک جان دو قالب نظر آئی اور اب بھی پوری قوم سیسہ پلائی دیوار کی طرح ایک ہے اور وہ یہ چاہتی ہے کہ امن قائم ہو اور جنگ کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو،پاکستان قیام امن کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔وزیراعظم نے علماء کرام سے اپیل کی کہ وہ امت میں مزید اتحاد اور یگانگت کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں،پشاور سے کراچی تک پوری قوم یکجان دو قالب ہے، وہ عناصر جو کہ امت کو تقسیم کرتے ہیں اور دہشت گردی میں ملوث ہیں وہ مسلمان کہلوانے کے حقدار نہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان مسئلہ فلسطین اور کشمیر پر اپنے اصولی موقف پر قائم ہے آج پھر دوبارہ اس موقف کی تجدید کرتا ہوں اور پاکستان کی حکومت اور عوام کی طرف سے یقین دلاتا ہوں کہ اپنے مظلوم بھائیوں اور بہنوں کی آزادی اور ان کا قانونی حق ملنے تک پاکستان کشمیری اور فلسطینی عوام کا ساتھ دیتا رہے گا۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ گزشتہ دو ماہ میں پاکستان نے قیام امن کے لیے بھرپور کوششیں کی ہیں، آج اقوام عالم پاکستان کی سفارت کاری کی معترف ہیں، پاکستان نے ہر فورم پر فلسطین کا مسئلہ اٹھایا ہے،مسئلہ فلسطین پر پاکستان کا موقف غیر متزلزل ہے۔کانفرنس میں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے امت مسلمہ کے لیے نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات کو شیلڈز پیش کیں،فلسطین اور سعودی عرب کے وفود کے سربراہوں نے وزیراعظم کو شیلڈز دیں۔ وزیراعظم نے سعودی عرب کے ولی عہد شہزاد محمد بن سلمان کے لیے بھی اعزازی شیلڈ دی جو سعودی سفیر نے وصول کی۔ وزیراعظم نے سعودی عرب کے سفیر، فلسطین کے مفتی اعظم اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے صدر کو بھی شیلڈز دیں جبکہ مفتی اعظم مقبوضہ بیت المقدس محمد احمد حسین نے خصوصی دعا کرائی۔

