اسلام آباد۔( نمائندہ خصوصی)وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ حکومت ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی روک تھام سکریننگ میں اضافہ اور علاج کی سہولیات کو مزید بہتر بنانے کے لئے اقدامات جاری رکھے گی، ایچ آئی وی لاعلاج مرض نہیں ،بروقت علاج سے مریض نارمل زندگی گزار سکتا ہے ، اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بہت عزت بخشی ہے اور آج کا پاکستان دو ماہ پہلے کے پاکستان سے مختلف ہے، انہوں نے اس کامیابی پر وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب ان کی قیادت اور محنت کا نتیجہ ہے،گزشتہ سال پاکستان نے دشمن کے خلاف مؤثر جواب دے کر اہم کامیابی حاصل کی اور عالمی سطح پر اپنی اہمیت منوائی۔ منگل کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ پاکستان نے عالمی امن کے قیام میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔وفاقی وزیر صحت نے ایچ آئی وی/ایڈز سے متعلق
حقائق بیان کرتے ہوئے بتایا کہ 2024-26 پروگرام کے تحت پاکستان کے لئے 65 ملین امریکی ڈالر مختص کئے گئے جن میں سے صرف 3.9 ملین ڈالر حکومت پاکستان کو دیئے گئے جبکہ 61.1 ملین ڈالر دو اداروں، یو این ڈی پی اور ایک نجی این جی او کو فراہم کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو ملنے والے فنڈز کی مکمل تفصیلات موجود ہیں تاہم دیگر فنڈز کے استعمال سے متعلق وزارت صحت کے پاس معلومات نہیں۔ این جی اوز کی جانب سے اس حوالے سے معلومات فراہم کرنے سے انکار کیا گیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق سال 2020 میں 49 مراکز پر 37 ہزار 944 افراد کی سکریننگ کی گئی جن میں 6 ہزار 910 کیسز مثبت آئے۔ سال 2025 میں مراکز کی تعداد بڑھا کر 97 کر دی گئی جہاں 3 لاکھ 74 ہزار 126 ٹیسٹ کئے گئے اور 14 ہزار 182 کیسز مثبت سامنے آئے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں ایچ آئی وی کے رجسٹرڈ کیسز کی مجموعی تعداد 84 ہزار ہے جن میں سے 61 ہزار افراد زیر علاج ہیں جبکہ باقی افراد کا سراغ نہیں مل سکا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایچ آئی وی لاعلاج مرض نہیں اور بروقت علاج سے مریض نارمل زندگی گزار سکتا ہے اور بیماری دوسروں کو منتقل نہیں ہوتی۔انہوں نے بتایا کہ ماہرین کے مطابق پاکستان میں ایچ آئی وی کے متوقع کیسز کی تعداد 3 لاکھ 69 ہزار ہو سکتی ہےتاہم موجودہ شرح 0.1 فیصد ہے جو عالمی شرح 0.5 فیصد سے کم ہے۔وفاقی وزیر نے ماضی میں گلوبل فنڈز میں مالی بے ضابطگیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے تحقیقات مکمل کر کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔اسلام آباد اور تونسہ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تونسہ میں رواں سال کوئی نیا کیس رپورٹ نہیں ہوا جبکہ اسلام آباد میں 618 کیسز رجسٹرڈ ہیں جن میں سے 208 مقامی اور 408 دیگر علاقوں سے ریفر کئے گئے کیسز ہیں۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی روک تھام، سکریننگ میں اضافہ اور علاج کی سہولیات کو مزید بہتر بنانے کے لئے اقدامات جاری رکھے گی۔

