اقوام متحدہ ۔( نمائندہ خصوصی)پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت کی جانب سے 1960 کے تاریخی سندھ طاس معاہدہ کی معطلی کا نوٹس لے اور اسے فوری طور پر بحال کرانے کے لیے کردار ادا کرے۔پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ معاہدے کی معطلی سے خطے میں 240 ملین سے زائد افراد کے لیے سنگین سلامتی، ماحولیاتی اور انسانی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ محمد اسحا ق ڈار نے سلامتی کونسل کی موجودہ صدر بحرین کےمندوب کو ایک خط ارسال کیا تھا ، جس میں بھارت کے فیصلے کو "غیر قانونی” قرار دیتے ہوئے اس پر شدید تشویش ظاہر کی گئی تھی ۔ یہ خط اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار
احمد نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر کو پیش کیا۔پاکستان نے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت کو پانی کے معاہدے پر مکمل عملدرآمد، ڈیٹا شیئرنگ اور تعاون بحال کرنے پر مجبور کیا جائے اور کسی بھی قسم کی آبی دباؤ کی پالیسی سے روکا جائے۔پاکستانی نمائندے نے سلامتی کونسل کو یہ بھی بتایا کہ بھارت کی جانب سے بے بنیاد الزامات اور پروپیگنڈے کا سلسلہ جاری ہے، جو علاقائی امن کے لیے نقصان دہ ہے۔مزید کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر کا دیرینہ تنازع جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ ہے، جس کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ضروری ہے۔واضح رہے کہ یہ معاہدہ دریائے سندھ کے پانی کی تقسیم کو ریگولیٹ کرتا ہے، جس کے تحت مغربی دریا پاکستان جبکہ مشرقی دریا بھارت کے حصے میں آتے ہیں۔ یہ معاہدہ دہائیوں تک دونوں ممالک کے درمیان تنازعات کے باوجود برقرار رہا۔تاہم بھارت نے 23 اپریل 2025 کو معاہدے کو معطل کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا اور مئی 2025 میں مختصر مگر شدید فوجی تصادم بھی سامنے آیا۔

