بیجنگ (نیوز ڈیسک):چینی سٹارٹ اپ ڈیپ سیک نے اپنے اجرا کے محض ایک سال بعد جمعہ کو مصنوعی ذہانت کا نیا ماڈل جاری کر دیا جس پرپہلے ماڈل کی طرح بہت کم لاگت آئی ہے ۔ ہانگزو میں قائم چینی کمپنی کامصنوعی ذہانت ماڈل ڈیپ سیک گزشتہ سال جنوری میں ایک تخلیقی AI چیٹ بوٹ کے ساتھ منظرعام پر آیا، جو اس کے R1 ریجننگ ماڈل سے چلتا ہے ۔کمپنی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم وی چیٹ پر ایک بیان میں کہا کہ نئے ورژن کا نام DeepSeek-V4 رکھا گیا ہے اس کا پرویو ورژن دستیاب ہے۔ٹیک ریسرچ فرم آئی آئی میڈیا کے بانی ژینگ وائی کے مطابق نئے ماڈل میں
سست کارکردگی اور طویل سیاق و سباق کی لمبائی کے ساتھ منسلک زیادہ اخراجات کے دیرینہ مسائل کو حل کیا گیا ہے، جو صنعت کے لیے ایک حقیقی انفلیکشن پوائنٹ کی نشاندہی کرتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ ماڈل اینڈ یوزرز کے لئے وسیع، قابل رسائی فوائد لائے گا ۔ نیا V4 دو ورژن، DeepSeek-V4-Pro اور DeepSeek-V4-Flash کے طور پر جاری کیا گیا ہے جن میں سے موخر الذکر”زیادہ موثر اور کم لاگت انتخاب” ہے کیونکہ اس میں چھوٹے پیرامیٹرز ہیں۔V4-Pro میں 1.6 ٹریلین پیرامیٹرز ہیں جبکہ V4-Flash میں 284 بلین پیرامیٹرز ہیں، جو ماڈلز کی فیصلہ سازی کی صلاحیت کو بہتر بناتے ہیں۔ڈیپ سیک کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ماڈل کو مقبول AI ایجنٹ پروڈکٹس جیسے کلاڈ کوڈ، اوپن کلاؤ، اوپن کوڈ، اور کوڈ بڈی کے لیے بھی بہتر بنایا گیا ہے اور یہ کہ عالمی علمی معیارات میں، DeepSeek-V4-Pro نمایاں طور پر دوسرے اوپن سورس ماڈلز کی رہنمائی کرتا ہے اور صرف اعلی درجے کے کلوز سورس ماڈل (گوگل کے) Gemini-Pro-3.1 سے معمولی سا پیچھے ہے۔ڈیپ سیک کے نئے ماڈل کے اجرا کا اعلان ایسے وقت سامنے آیا جب میٹا نے کہا کہ اس نے اپنے عملے میں دس فیصد کمی کے منصوبے کا اعلان کیا ہے جس کی وجہ مصنوعی ذہانت میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کرنا بتایا گیا ہے ۔ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ مائیکروسافٹ بھی میٹا کے نقش قدم پر چلنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے ۔
