ریاض ( نمائندہ خصوصی):سعودی عرب میں ڈاکٹرز کی ٹیم نے فلپائن سے تعلق رکھنے والی باہم جڑی بچیوں کو انتہائی پیچیدہ اور ساڑھے اٹھارہ گھنٹے طویل سرجری میں علیحدہ کرکے نیا طبی سنگ میل عبور کیا ہے ۔ اردو نیوز کی رپورٹ
کے مطابق سعودی کونجوئنڈ ٹوئنز پروگرام کی سپیشلائزڈ میڈیکل اور سرجیکل ٹیم کا باہم جڑی فلپائنی بچیوں ’کلیا اور موریس این‘ کو انتہائی پیچیدہ سرجری میں علیحدہ کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے ۔یہ آپریشن ریاض کے کنگ عبداللہ سپیشلائزڈ چلڈرن ہسپتال میں کیا گیا۔ شاہ سلمان مرکز کے سپروائزر اور سعودی کونجوئنڈ ٹوئنز پروگرام کی
میڈیکل ٹیم کے سربراہ ڈاکٹرعبداللہ الربیعہ نے بتایا سرجیکل ٹیم نے 18 گھنٹے 30 منٹ کی سرجری کے بعد دونوں بچیوں کو کامیابی کے ساتھ ایک دوسرے سے الگ کیا ۔آپریشن کے تین مراحل مکمل کیے جانے کے بعد چوتھے اور پانچویں مرحلے کو بھی کامیابی سے مکمل کر لیا گیا۔ڈاکٹرعبداللہ الربیعہ نے بتایا کہ ’میڈیکل ٹیم 30 افراد پر مشتمل ہے جس میں
کنسلٹنٹ کے علاوہ نرسنگ اور ٹیکنیکل سٹاف، اینستھیزیا، انتہائی نگہداشت، جدید ریڈیو لوجی اور پلاسٹک سرجری کے ماہرین شامل ہیں۔ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ نے بتایا کہ یہ سعودی عرب میں باہم جڑے ہوئےفلپائنی بچوں کا تیسرا آپریشن ہے۔یہ بچیاں 17 مئی 2025 کو سعودی عرب پہنچی تھیں۔ان کو علیحدہ کرنے کا عمل کئی طبی عوامل کی وجہ سے اہم
تھا جن میں بچوں کے ایک دوسرے سے جڑے سروں کا پیچیدہ زاویہ، دماغی وینس سائنوس کا وسیع اشتراک اور دماغی ٹیشوز کا اوور لیپ ہونا شامل ہیں۔ سعودی کونجوئنڈ ٹوئنز پروگرام کا آغاز 1990 میں کیا گیا تھا۔پروگرام کے تحت اب تک پانچ براعظموں کے 28 ممالک کے 157 کیسز کا جائزہ لیا گیا جن میں 70 جڑے ہوئے بچوں کو کامیابی سے الگ کیا گیا۔ انہیں مکمل دیکھ بھال فراہم کی جس میں نفسیاتی، سماجی اور تعلیمی مدد بھی شامل ہے۔
