پاک سعودی دفاعی معاہدہ فوجی تعاون میں اضافے کے ساتھ ساتھ خطے میں طاقت کے توازن کی ذمہ دار قوتوں کیلئے ایک وسیع چیلنج بھی ہو گا۔ یہ معاہدہ اسرائیل کو جارحیت کے تسلسل کی بجائے امن کی راہ کے انتخاب کا اشارہ دیتا ہے۔ اسرائیل کو اب یہ ضرور یاد رکھنا ہو گا کہ اس کے جملہ دفاعی اثاثہ جات پاکستان کے تباہ کن حملوں کی رینج میں ہیںپاک سعودی دفاعی معاہدہ کے تحت پاکستان کے ایف 16 طیاروں، تباہ کن ہتھیاروں اور فوجی دستوں کی تعیناتی نے
جیو پولیٹیکل کینوس کا رخ ہی بدل دیا ہے۔ نیے منظر نامے کی یہ اہم ترین پیش رفت کسی فیصلہ کن گیم چینجر جیسی ہے کہ اب اسرائیل پاکستان کے فضائی حملوں اور میزائیل سٹرائیکس کی رینج کے دائرے میں آ چکا ہے۔پاک سعودی دفاعی معاہدے کے فعال ہونے کے بعد کی یہ صورت حال پورے خطے میں عسکری اور سیاسی سرگرمیوں کے اُس نئے باب کی نشاندہی کرتی ہے۔ جو صرف سعودی عرب میں نہیں پورے مشرق وسطیٰ میں پاکستان کے فوجی قدموں کو مضبوط کرنے کا عندیہ دیتا ہے۔ میرے مطابق پاک سعودی معاہدے کے مضمرات عالمی مبصرین کی توقعات سے کئی گنا زیادہ ہو سکتے ہیں۔
سب سے پہلے پاکستان اور سعودی عرب کے مابین اس سٹریٹیجک صف بندی سے ان کے دفاعی تعلقات اور باہمی معاونت مزید گہرے ہوں گے۔ جس کے نتیجے میں، ایک ایسی شراکت داری کا ارتقا ہو گا جو مشرق وسطیٰ کے سیکورٹی ڈھانچے کو ایک نئی شکل دے گی۔خوش آئیند ہے کہ سعودی عرب نے اپنے اتحادی کی ضروریات کو تسلیم کرتے ہوئے
پاکستان کو بروقت مالی امداد فراہم کی ہے۔ جس کا مقصد پاکستان کے ذمہ واجب الادا قرضوں بالخصوص متحدہ عرب امارات کے قرضوں کی ادائیگی ہے۔ خیر سگالی کا یہ اشارہ ایک بڑھتے ہوئے اٹوٹ بندھن کی طرف اشارہ ہے جو خطے میں ایک پر خلووص دفاعی اتحاد کی نئی تعریف لکھ رہا ہے۔مزید برآں، قطر نے بھی پاکستان کے ساتھ اسی طرح کے دفاعی معاہدوں میں شامل ہونے پر جو آمادگی ظاہر کی ہے۔ اس سے دوسرے ممالک کیلئے بھی پاکستان سے دفاعی معاہدوں جیسی تحاریک پیدا ہوں گی۔ پاک سعودی معاہدے کی فعالی کے نتیجہ میں جو علاقائی منظرنامے میں جو حرکیات واضع ہو رہی ہیں۔ وہ دوست ممالک کے باہمی تعاون پر مبنی کوششوں سے اس خطے میں اسرائیلی جارحیت کے
مقابلے میں ایک توانا توازن کا سبب بنیں گی ۔چین اور پاکستان کی زیرک سٹریٹجک پالیسی کی بدولت سعودی عرب، ترکی، ایران اور قطر جیسے ہم خیال ممالک کے درمیان باہمی تعاون و تعلقات سے ایک مضبوط بلاک تشکیل دینے کا آغاز ہو چکا ہے۔ اسرائیلی جارحیت کو دنیا کے امن کیلئے بڑا خطرہ سمجھنے والے ممالک کا یہ بلاک اسرائیلی مفادات اور اس کی فوجی حکمت عملیوں کے لیے بڑا تگڑا چیلنج ثابت ہو گا۔
سیاسی اور دعافی اتحادوں میں یہ نئی تبدیلیاں مشرق وسطیٰ کی سیاست میں ایک فیصلہ کن تبدیلیوں کا اشارہ دے رہی ہیں۔ اب ماضی کی روایتی وفاداریاں تازہ ترین صورت حال کی روشنی میں دوبارہ ترتیب دی جا رہی ہیں۔ چشم ِ عالم دیکھ رہی ہے کہ وہ ممالک جنہوں نے تاریخی طور پر اسرائیلی اقدامات کی حمایت کی یا امریکہ کو فوجی اڈوں کی سہولیات فراہم کیں وہ اس نئے منظر نامے میں خود کو نقصان میں پا سکتے ہیں۔سعودی عرب اور پاکستان کے
مخالف عناصر کی پشت پناہی کرنے والے متحدہ عرب امارات کو سٹریٹجک تنہائی کے نتیجے میں معاشی ترقی کے جمود کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ جس کے نتیجے میں عرب امارات کا امریکہ یا بھارت جیسے اپنے ان دوست ملکوں سے تعلقات کا مستقبل بھی تاریک ہو جائے گا جنہیں پہلے محفوظ سمجھا جاتا تھا۔دفاعی شراکت داری اور برابری کی بنیادوں پر استوار پاک سعودی دفاعی معاہدہ خطے میں جارحانہ سرگرمیوں کے مقابل ایک آہنی دیوار ثابت ہو گا۔ اس جنگی اتحاد میں پاکستان کی جدید ترین فضائی اور جنگی صلاحیتوں اور سعودی عرب کی جنگی انونٹری میں دنیا کے سٹیٹ آف آرٹ فوجی آلات کی دستیابی جارحیت پپسند طاقتوں کیلئے پریشانی کا باعث ہیں۔ اب اسرائیل کو بھی اس حوالے سے اپنی آپریشنل حکمت عملیوں پر نظر ثانی ہو گی ۔ کہ اسرائیلی قیادت اس حقیقت سے بخوبی واقف ہے کہ پاکستانی
افواج کی تباہ کن جوابی حملوں کی صلاحیت بھارت جیسی جنگی طاقت کو بھی دھول چاٹنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ ان مصدقہ حقائق کے مدنظر اب اسرائیل کو کسی بھی فوجی کارروائی سے پہلے دس بار سوچنا پڑے گا۔
مبصرین کے مطابق اس دفاعی شراکت داری کے وسیع تر مضمرات فوری فوجی خدشات سے بالاتر ہیں۔ البتہ اس معاہدے کے بعد امریکہ اور مشرق وسطی کے کچھ ممالک کے مابین ماضی میں بڑھتے ہوئے تعاون کا مسقتبل پرامید نہ ہو گا۔ البتہ ممکن ہے کہ کچھ ایسے ممالک امریکہ کے ساتھ باہمی تعاون کے رشتوں میں میں آ جائیں جو تاریخی طور پر امریکی مفادات کی محافظ لابی کی متضاد سمت میں رہے ہیں۔ نئے اتحاد کا فریم ورک خطے میں کثیر قطبیت کے ایک نئے دور کا آغاز کر سکتا ہے۔ لہذا جیسے جیسے اس معاہدے سے دھول اُڑتی رہے گی ، نئے اتحاد کے زیر اہتمام نئی فوجی تعیناتیوں کی اشکال سے نیا منظر نامہ سامنے آئے گا۔عالمی مبصرین کیلیے ضروری ہو گا کہ وہ ہر پیش رفت پر گہری
نظر رکھیں۔ کچھ دفاعی ماہرین کے مطابق نیا منظر نامہ کسی جارحیت پسند قوت کی مہم جوئی کے باعث نئی کشیدگی کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ لیکن یہ دفاعی معاہدہ جدید جغرافیائی سیاست کے چیلنجوں کا سامنا کرنے والے اسلامی ممالک کے درمیان نئی یکجہتی کی راہ ضرور ہموار کرے گا ۔حرف آخر یہی ہے کہ پاک سعودی دفاعی معاہدہ فوجی تعاون میں اضافے کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ کے مدت سے قائم شدہ نظام اور خطے میں طاقت کے توازن کی ذمہ دار قوتوں کیلئے ایک وسیع چیلنج بھی پیش کرے گا۔ بالیقین پاک سعودی دفاعی معاہدہ اسرائیل کو جارحیت کے تسلسل کی بجائے امن کی راہ کے انتخاب کا اشارہ دیتا ہے۔ اسرائیل کو اب یہ ضرور یاد رکھنا ہو گا کہ اس کے جملہ دفاعی اثاثہ جات پاکستان کے تباہ کن حملوں کی رینج میں ہیں۔ یہ تمام حقائق بتا رہے ہیں کہ یقیناً خطے میں طاقت کا ہر ایک توازن اٹل بدلنے والا ہے۔ اور یہ امر نیے اتحادوں اور نئے حلیفوں کی ان از سر نو تشکیلوں کی نشاندہی کرتا ہے، جن کے نتائج آئیندہ کئی برسوں تک بڑے دیرپا اور فیصلہ کن ہو سکتے ہیں۔
