اسلام آباد ( نمائندہ خصوصی بی بی سی اردو ڈاٹ کام ۔مانیٹرنگ ڈیسک ۔نیٹ نیوز)معاہدہ نہ ہو سکا، جنگ کے بادل پھر منڈلانے لگےامریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے طویل اور اہم مذاکرات کسی ٹھوس نتیجے کے بغیر ختم ہو گئے ہیں۔ تاہم دونوں جانب سے اشارے مل رہے ہیں کہ بات چیت کا سلسلہ اور سفارتکاری کا دورازہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح کیا ہے کہ ہمارا وفد بغیر کسی معاہدے کے امریکہ واپس جا رہا ہے، جبکہ ایرانی مؤقف اس کے برعکس مذاکرات کے تسلسل کی طرف اشارہ دے رہا ہے۔صبح چھ بجے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے بتایا کہ تقریباً
21 گھنٹے جاری رہنے والی اس نشست میں کئی اہم معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا، مگر کوئی ایسا اتفاقِ رائے پیدا نہ ہو سکا جو دونوں فریقین کے لیے قابل قبول ہو۔ ان کے مطابق امریکہ کی بنیادی ترجیح یہ تھی کہ ایران واضح اور طویل المدتی یقین دہانی کرائے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا، لیکن اب تک ایسی کوئی ضمانت سامنے نہیں آئی۔انہوں نے کہا کہ امریکی ٹیم نے مذاکرات میں غیر معمولی لچک اور سنجیدگی کا مظاہرہ کیا اور اپنی شرائط کے ساتھ ساتھ ممکنہ رعایتوں کی حدود بھی واضح کر دیں، تاہم ایران نے ان شرائط کو قبول کرنے سے گریز کیا۔ جے ڈی وینس کے بقول، “ہم نے پوری دیانت داری سے کوشش کی، مگر پیش رفت ممکن نہ ہو سکی۔” انہوں نے معاہدہ نہ ہونے کو امریکیوں سے زیادہ ایرانیوں کے لیے بری خبر قرار دیا۔
جبکہ ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم نے بھی معاہدے کے بغیر مذاکرات ختم ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ناکامی کا سبب امریکی ہٹ دھرمی ہے۔اہم بات یہ رہی کہ امریکی نائب صدر نے پاکستان کے کردار کو کھلے الفاظ میں سراہا۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں کسی بھی کمی یا ناکامی کا تعلق میزبان ملک سے نہیں، بلکہ پاکستان نے دونوں فریقین کو قریب لانے میں
بھرپور کردار ادا کیا۔ اس موقع پر انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف عاصم منیر کی کاوشوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔دوسری جانب ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ مذاکرات ختم نہیں ہوئے بلکہ ایک عارضی وقفہ لیا گیا ہے اور بات چیت کا عمل دوبارہ شروع ہو سکتا ہے۔ اس طرح ایک ہی صورتحال کو دونوں فریق مختلف زاویوں سے پیش کر رہے ہیں، امریکہ اسے ایک ناکام دور قرار دے رہا ہے، جبکہ ایران اسے جاری عمل کا حصہ سمجھ رہا ہے۔ذرائع کے مطابق ان مذاکرات میں چند بنیادی نکات پر شدید اختلافات برقرار رہے، جن میں ایران کا جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی، اور خطے میں ایران کا کردار شامل ہیں۔ تاہم امریکی توجہ خاص طور پر جوہری معاملے پر مرکوز رہی، جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی کا مرکزی جزو
ہے۔یہ مذاکرات ایک اور حوالے سے بھی غیر معمولی تھے، کیونکہ تقریباً نصف صدی بعد امریکہ اور ایران کے نمائندے براہ راست ایک ہی میز پر بیٹھے۔ اس عمل نے نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان موجود خلیج کو کسی حد تک کم کیا بلکہ مستقبل کے لیے سفارتی امکانات بھی روشن کیے۔تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ فوری طور پر کوئی معاہدہ نہیں ہو سکا، لیکن اس طویل نشست نے دونوں جانب کی حدود اور ترجیحات کو واضح کر دیا ہے، جو آئندہ بات چیت کے لیے بنیاد فراہم کرے گا۔ اب سب سے اہم پہلو جنگ بندی ہے، جو 22 اپریل تک برقرار ہے۔ اگر اس عرصے میں کوئی پیش رفت نہ ہوئی تو خطے میں کشیدگی دوبارہ بڑھنے کا خدشہ موجود ہے۔صورتحال یہ ہے کہ بظاہر مذاکرات کا ایک دور ختم ہو چکا ہے، مگر سفارتی دروازے بند نہیں ہوئے۔ سفارتکاری میں الفاظ کی اہمیت مسلم ہے۔ امریکہ “ابھی تک” کے الفاظ استعمال کر رہا ہے اور ایران “وقفے” کی بات کر رہا ہے اور انہی الفاظ کے درمیان مستقبل کی ممکنہ پیش رفت چھپی ہوئی ہے۔

