لندن۔(نیوز ڈیسک):دنیا بھر میں ایران اور امریکا کی جنگ بندی میں پاکستا ن کے کردار کو سراہا جار ہا ہے اور اسے پاکستان کی بہت بڑی سفارتی جیت قرار دیا جا رہا ہے۔ جنگ بندی میں پاکستان کے کردار کو سراہنے والوں میں اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری،امریکی ارکان کانگرس، ایرانی وزیر خارجہ، پاکستان میں برطانیہ کی ہائی کمشنر ،نیوزی لینڈ کے وزیرِ خارجہ ،آسٹریلیا
کے وزیرِ اعظم اور ممتاز تجزیہ کار اور مبصرین شامل ہیں۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق دنیا کے مختلف حصوں سے سوشل میڈیا پر تبصروں میں امریکا اور ایران کی جنگ بند کرانے میں پاکستان کی تعریف کی جا رہی ہے، اس بات کے باوجود کہ فی الوقت یہ جنگ بندی مشروط ہے اور عارضی نوعیت کی ہے۔امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک پوری تہذیب کو تباہ کرنے کی ڈیڈ لائن ختم ہونے سے محض چند گھنٹے قبل اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا کہ وہ ایران کے خلاف طے شدہ حملوں کو دو ہفتوں کے لیے مؤخر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ انہوں نے پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور
آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست پر کیا ہے۔اس اعلان کے فوراً بعد ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے تصدیق کی کہ امریکا کے ساتھ اب 10 نکاتی ایجنڈے پر مذاکراتی عمل 15 روز کے لیے اسلام آباد میں جمعے سے شروع ہو گا۔ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ایک بیان میں کہا کہ ایران کی جانب سے میں اپنے برادر ملک پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی خطے میں جنگ کے خاتمے کے لیے کی جانے والی انتھک کوششوں پر دلی تشکر اور قدردانی کا اظہار کرتا ہوں۔ جہاں ایران اور امریکا کی جانب سے جنگ بندی کو پوری دنیا بالخصوص مشرقِ وسطیٰ کے لیے خوش آئند پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے وہیں عالمی مبصرین اسے پاکستان کی ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دیتے ہوئے اس جنگ کو روکنے میں اسلام آباد کے کردار کو سراہ رہے ہیں۔پاکستان میں برطانیہ کی ہائی کمشنر جین میریٹ وزیرِ اعظم شہباز شریف کے ایران اور امریکا کے جنگ بندی کے اعلان کو ایکس پر شیئر کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ اس اہم جنگ بندی کو یقینی بنانے کے لیے ’خاموش، مؤثر، سفارتی کردار ادا کرنے پر پاکستان کا شکریہ۔نیوزی لینڈ کے وزیرِ خارجہ ونسٹن پیٹرز نے ایکس پر جاری اپنےپیغام
میں ایران اور امریکا کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم اس بحران کا حل تلاش کرنے کے لیے پاکستان، ترکیہ اور مصر جیسے ملکوں کی کوششوں کے شکر گزار ہیں۔آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم نے بھی تنازع میں کمی کے لیے ثالثوں بشمول پاکستان کے کردار کو سراہا اور کہا کہ ہم کشیدگی میں کمی کی کوششوں کے لیے پاکستان، مصر، ترکیہ اور سعودی عرب سمیت تمام مذاکرات کاروں کی کوششوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور ان کی حمایت کرتے ہیں۔امریکی کانگریس میں ڈیموکریٹس کی ہاؤس کمیٹی برائے خارجہ امور کے رینکنگ ممبر گریگوری میکس نے جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے امریکی فوجیوں اور دونوں طرف کے شہریوں کی جانیں بچیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نتیجے تک پہنچنے میں
پاکستان کے کردار کو سراہنا چاہوں گا۔اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے پاکستان اور جنگ بندی میں سہولت کاری کرنے والے دیگر ممالک کی کوششوں کو سراہا۔ملائیشیا کے وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ پاکستان کی تمام فریقین سے بلا خوف و خطر بات چیت کی کوششیں مسلم یکجہتی اور بین الاقوامی ذمہ داری کی اعلیٰ ترین روایات کی عکاسی کرتی ہے۔دوسری جانب تجزیہ کار اور مبصرین اس جنگ بندی کو پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔وال سٹریٹ جنرل سے منسلک صحافی اور مصنف سدانند دھومے ایکس پر لکھتے ہیں کہ آپ اسے جس طرح بھی دیکھیں، یہ پاکستان کی بہت بڑی سفارتی جیت ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اسلام آباد ایک ذمہ دار کھلاڑی کے طور پر سامنے آیا
ہے جس پر اہم دارالحکومتوں کو بھروسہ ہے کہ وہ عالمی تباہی کو روکنے میں کردار ادا کر سکتا ہے۔تجزیہ کار مائیکل کوگلمکین لکھتے ہیں کہ آج رات، پاکستان نے کئی برسوں میں اپنی سب سے بڑی سفارتی جیت حاصل کی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اس سے ان تمام ناقدین کے دعوؤں کی نفی ہوتی ہے جو یہ کہتے تھے کہ اسلام آباد اتنے پیچیدہ اور مشکل کام کو سر انجام دینے کی صلاحیت نہیں رکھتا سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس نے ایران میں ممکنہ تباہی کو روکنے میں مدد کی۔کشمیری نژاد برطانوی
مصنف مرزا وحید اس جنگ بندی کو نئے عالمی منظر نامے کا پیش خیمہ قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایک ایسے ملک نے امن قائم کرنے میں کردار ادا کیا ہے جسے اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے۔بھوٹانی اخبار دی بھوٹانیز کے ایڈیٹر ٹینزنگ لامسانگ کہتے ہیں کہ پاکستانی وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل نے ایک بہت بڑا سفارتی کارنامہ سر انجام دیا ہے۔

