اسلام آباد۔( نمائندہ خصوصی):وفاقی وزیر برائے پٹرولیم علی پرویز ملک سے برطانیہ کی ہائی کمشنر جین میریٹ نے ملاقات کی جس میں علاقائی صورتحال، عالمی توانائی منڈیوں پر اس کے اثرات اور پاکستان کے توانائی و معدنیات کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات میں فریقین نے علاقائی بحران اور اس کے پٹرولیم سپلائی چین، قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور مجموعی توانائی تحفظ پر اثرات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔ برطانوی ہائی کمشنر نے پاکستان کے
تعمیری سفارتی کردار کو سراہا اور کشیدگی میں کمی اور عالمی امن کے فروغ کے لئے ثالثی کی کوششوں کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے امریکہ اور ایران سمیت اہم سٹیک ہولڈرز کے ساتھ اپنی خیر سگالی اور روابط کو مؤثر انداز میں استعمال کیا ہے۔انہوں نے پاکستان کی پٹرولیم سپلائی صورتحال کو سراہتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی غیر یقینی صورتحال کے باوجود پاکستان نے پٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل دستیابی کو یقینی بنایا اور مارکیٹ میں بگاڑ سے بچاؤ ممکن بنایا۔ علی پرویز ملک نے کہا کہ پاکستان امن و استحکام کے فروغ کے لئے مکالمے اور سفارتی روابط کو جاری رکھنے کے لئے پر عزم ہے اور حکومت بحران کے پرامن حل کے لئے فعال کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے سپلائی چین کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لئے بروقت اقدامات کئے۔ انہوں نے کہا کہ 2022 میں اختیار کئے گئے پاپولزم اقدامات معیشت کے لئے نقصان دہ ثابت ہوئے، اس لئے حکومت نے سپلائی چین کے استحکام کو ترجیح دی۔ وفاقی وزیر نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور عمان سمیت دوست ممالک کے تعاون کو سراہا جنہوں نے مشکل وقت میں پٹرولیم سپلائی کو برقرار رکھنے میں مدد فراہم کی۔انہوں نے ماضی میں قطر کی معاونت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قطر نے پاکستان کو تقریباً 10 ڈالر میں ایل این جی فراہم کی جبکہ عالمی قیمتیں 30 ڈالر کے قریب تھیں اور معاہدے کے انتظامات پر دوبارہ دوبارہ بات چیت کر کے تعاون کا مظاہرہ کیا۔انہوں نے مقامی ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن شعبے کے کردار کو سراہا اور کہا کہ ملکی کمپنیوں نے مشکل حالات میں نمایاں کردار ادا کیاہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کھاد کی قیمتیں خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں ایک تہائی ہیں اور حکومت کمزور طبقات کو ہدفی سبسڈیز فراہم کر رہی ہے۔برطانوی ہائی کمشنر نے توانائی کے شعبے میں طویل المدتی تعاون کی اہمیت پر زور دیا اور برٹش جیولوجیکل سروے اور جیولوجیکل سروے آف پاکستان کے درمیان جاری تکنیکی تعاون کا حوالہ دیا۔ وفاقی وزیر نے اوگرا سمیت ریگولیٹری اداروں کی استعداد کار بڑھانے اور ادارہ جاتی اصلاحات میں تعاون کے امکانات پر گفتگو کی جس پر برطانوی ہائی کمشنر نے دلچسپی کا اظہار کیا۔ ملاقات میں دونوں فریقین نے توانائی، سلامتی، معدنی، سرمایہ کاری کے فروغ اور پائیدار ترقی کے لئے تکنیکی تعاون اور ادارہ جاتی شراکت داریکو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا۔

