اسلام آباد( نمائندہ خصوصی)ترکیہ کی آئینی عدالت کے صدر قادر اوزکایا نے کہا ہے کہ پاکستان میں شہریوں کو مرکزِ نگاہ رکھ کر عدالتی نظام میں کی جانے والی اصلاحات قابلِ تحسین ہیں اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے سہولیات کی فراہمی ایک مثبت پیشرفت ہے۔سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق یہ بات انہوں نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے پبلک
فیسیلیٹیشن سینٹر کے دورے کے موقع پر کہی جہاں ترکیہ کی آئینی عدالت کے اعلیٰ سطحی وفد نے بطور سرکاری مہمان شرکت کی۔ وفد میں معزز ججز اور سینئر حکام بھی شامل تھے۔دورے کے دوران کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے ایک سائل غلام نبی نے ترکیہ کے وفد کے سربراہ کو گلدستہ پیش کیا جو عدالت کے شہری دوست اقدامات اور عوامی روابط کی عکاسی کرتا ہے۔ادارہ جاتی افسر الطاف الرحمان نے وفد کا استقبال کیا جس کے بعد پبلک فیسیلیٹیشن ایکسپرٹ شمائلہ ناز نے بریفنگ دیتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان کے وژن سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک ون ونڈو ماڈل کے تحت شہریوں کو مؤثر، آسان اور تیز تر عدالتی خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔وفد کو عدالتی اصلاحات کے مختلف اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا جن میں ڈیجیٹل ڈیش بورڈ اور
ای-رپورٹنگ پورٹل، ای-پیمنٹ سسٹم، کیو میٹک قطار مینجمنٹ سسٹم اور جدید انفارمیشن کیوسکس شامل ہیں جن کا مقصد سائلین کو زیادہ سہولت فراہم کرنا ہے۔اس موقع پر ترکیہ کی آئینی عدالت کے صدر نے دورے کی یاد میں ایک ڈیجیٹل تختی کی نقاب کشائی بھی کی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والا مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) دونوں ممالک کے درمیان ادارہ جاتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کا ذریعہ بنے گا جبکہ پبلک فیسیلیٹیشن سینٹر کا دورہ سپریم کورٹ میں جاری ڈیجیٹل اصلاحات اور جدید عدالتی نظام کی عملی جھلک پیش کرتا ہے۔

