اسلام آباد( نمائندہ خصوصی):وفاقی سیکرٹری وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی شاہد بلوچ نے کہا ہے کہ کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد تحقیق کو تجارتی بنیادوں پر فروغ دے کر ملک میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے حصول میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کے کیمپس کے دورے کے موقع پر کیا، جہاں ان کا استقبال ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر راحیل قمر، پرنسپل افسران اور سینئر انتظامیہ نے کیا۔ اس موقع پر ریکٹر نے یونیورسٹی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ کامسیٹس یونیورسٹی آن لائن، آن لائن ڈگری ویری فکیشن اور اسمارٹ تھیسس مینجمنٹ سسٹم جیسے اقدامات کے ذریعے ادارے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے۔ ان اقدامات کے
نتیجے میں تقریباً دو ہزار درختوں کے برابر کاغذ کی بچت اور 50 ملین روپے تک کی ممکنہ مالی بچت حاصل ہوئی ہے، جبکہ گزشتہ تین ماہ کے دوران 8,400 عملے کے گھنٹے بچائے گئے اور ڈاک کے ذریعے ہونے والے عمل کے 18 ہزار سے زائد دن ختم کیے گئے۔ریکٹر یونیورسٹی نے مزید بتایا کہ 40ویں سلیکشن بورڈ کے دوران تقرری اور ترقی کے 1,500 سے زائد کیسز مکمل طور پر پیپر لیس، شفاف اور مؤثر نظام کے تحت صرف تین ماہ میں نمٹائے گئے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یونیورسٹی اپنی افرادی قوت کو جدید صنعتی تقاضوں کے مطابق تیار کر رہی ہے۔ اپنے اسٹریٹجک وژن پر روشنی ڈالتے ہوئے پروفیسر راحیل قمر نے کہا کہ کامسیٹس یونیورسٹی ایک AI-enabled ادارہ بننے کی جانب گامزن ہے، جہاں گورننس، تدریس، تحقیق اور فیصلہ سازی میں مصنوعی ذہانت کو شامل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے گورننس اور انفراسٹرکچر کے مسائل کے حل کے لیے وزارت کے مسلسل تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ وفاقی سیکرٹری شاہد بلوچ نے یونیورسٹی کے اقدامات کو سراہتے ہوئے آئندہ مالی سالوں میں بلوچستان اور سندھ میں کامسیٹس یونیورسٹی کی موجودگی کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔اس موقع پر ورکر ویلفیئر فنڈ کے طلبہ کی بڑی تعداد کے باعث درپیش مالی مسائل پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ وزارت، اسلام آباد کیمپس میں یونیسکو کیٹیگری II سینٹر برائے مصنوعی ذہانت اور یونیسکو سٹیم چیئر کے قیام کے لیے یونیورسٹی کی تجاویز کی حمایت کر رہی ہے۔ انہوں نے پیپر لیس اجلاسوں کو ادارہ جاتی شکل دینے کی بھی ترغیب دی۔ وفاقی سیکرٹری نے پاکستان میں اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کے فروغ کے لیے پالیسی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ہدایت کی کہ تحقیق کو تجارتی بنیادوں پر فروغ دے کر پیٹنٹس کو براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں تبدیل کیا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ IRCBM لاہور میں جاری بایومیڈیکل تحقیق کو مقامی سطح پر قابلِ برآمد مصنوعات میں ڈھالا جانا چاہیے تاکہ قومی معیشت کو فائدہ پہنچ سکے۔ بعد ازاں، انہوں نے کامسیٹس یونیورسٹی کی سنٹرل لائبریری اور آرٹ گیلری کا دورہ کیا، جہاں نمائش میں پیش کیے گئے فن پاروں کو سراہا اور مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات قلم بند کیے۔ دورے کا اختتام پاکستان میں جدت، ڈیجیٹل تبدیلی اور اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے عزم کے اعادہ کے ساتھ ہوا۔
