لاہور ( نمائندہ خصوصی) :وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے شفاف طریقے سے مسافر بسوں کے مالکان کو ایک لاکھ روپے ماہانہ اور منی بسوں و ویگنوں کے مالکان کو 40 ہزار روپے ماہانہ سبسڈی فراہم کی جارہی ہے تاکہ کرایوں میں اضافہ نہ ہو، اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافے کو روکنے کیلئے ٹرکوں کو 70 ہزار، بڑی مال بردار گاڑیوں کو 80 ہزار جبکہ ڈیلیوری وینز کو 35 ہزار روپے ماہانہ سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ وہ اتوار کو یہاں اپنی زیر صدارت اجلاس میں گفتگو کر رہے تھے جس میں خطے میں حالیہ کشیدگی کے دوران پیٹرولیم مصنوعات پر حکومت کی جانب سے سبسڈی کے نفاذ پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق اجلاس میں سبسڈی کی فراہمی پر پیش رفت سے آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ ملک میں ایندھن کے ذخائر اور کھپت پر بھی بریفنگ دی گئی ۔ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسافر بسوں کو ایک لاکھ روپے ماہانہ اور منی بس و
ویگنوں کو 40 ہزار روپے ماہانہ سبسڈی فراہم کی جارہی ہے تاکہ کرایوں میں اضافہ نہ ہو جبکہ اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافے کو روکنے کیلئے ٹرکوں کو 70 ہزار، بڑی مال بردار گاڑیوں کو 80 ہزار جبکہ ڈیلیوری وینوں کو 35 ہزار روپے ماہانہ سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔وزیرِ اعظم نے کہا کہ نظام میں شفافیت کیلئے یہ رقوم ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے فراہم کی جارہی ہیں۔انہوں نے سبسڈی کی رقوم فی الفور جاری کرنے کی ہدایت کی جس کا آغاز گزشتہ روز سے ہو چکا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ جو سبسڈی پیر کے دن سے فراہم کی جانی تھی، اسکا میری خصوصی ہدایت پر، ہفتے کوچھٹی والے دن سے ہی آغاز ہوچکا ۔ اس سبسڈی کو مہیا کرنے کے لیے تمام صوبائی حکومتوں کی جانب سے ٹرک، بسیں اور مال بردار گاڑیوں کی تفصیلات وفاقی حکومت کو فراہم کی گئیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ بلوچستان کی حکومت کی جانب سے قومی پیکیج کے لیے طے شدہ رقم جمع کرا دی گئی ہے جو کہ لائق تحسین ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا اس سلسلے میں خصوصی طور پر شکریہ ادا کرتے ہوئے اس توقع کا اظہار کیا کہ باقی صوبے بھی اس پیکج کے لئے جلد از جلد طے شدہ رقوم جمع کرا دیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ تین ہفتوں میں 129 ارب روپے کا عوامی ریلیف پیکیج دیا گیا، مشکل کی اس گھڑی میں کسی صورت عوام کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتے۔وزیرِ اعظم نے کہا کہ پیٹرول لیوی میں فی الفور 80 روپے فی لیٹر کی کمی کرکے عوام کو ریلیف دیا گیا، پاکستان ریلویز 6 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کر رہی ہے جس کی بدولت مسافر ٹرینوں اور مال گاڑیوں کے کرایوں میں کسی بھی قسم کا اضافہ نہیں کیا جا رہا، ٹول ٹیکس میں سہ ماہی 25 فیصد اضافہ بھی واپس لے لیا گیا ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ مشکل وقت میں جس قدر ممکن ہے، عوامی ریلیف کے اقدامات اٹھا رہے ہیں اور اٹھاتے رہیں گے۔اجلاس کے دوران بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملکی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ملک میں ایندھن کے مناسب ذخائر موجود ہیں۔اجلاس کو انٹیلیجنس بیورو کی جانب سے حکومتی کفایت شعاری و سادگی اقدامات کے نفاذ پر رپورٹ بھی پیش کی گئی۔ اجلاس میں نائب وزیرِ اعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزراء ڈاکٹر مصدق ملک، عطاء اللہ تارڑ، علی پرویز ملک، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، احسن اقبال، شزہ فاطمہ خواجہ، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، معاونین خصوصی طلحہ برکی، طارق باجوہ، ڈی جی آئی بی اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
