• پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home کالمز

ایک صحافی کا سفر: نیگیٹوز سے بھٹو فیملی کے ہمراہ کتاب کی رونمائی تک

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
اپریل 5, 2026
in کالمز
0
ایک صحافی کا سفر: نیگیٹوز سے بھٹو فیملی کے ہمراہ کتاب کی رونمائی تک
0
SHARES
7
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

جنوری 2022 میں بلاول ہاؤس سے کال آئی کہ بی بی آصفہ بھٹو زرداری آپ سے ملاقات کی متمنی ہیں اور آپ اپنے ساتھ آصفہ بی بی ، بختاور بی بی اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری صاحب کی بچپن کی تصاویر لیتے آئیں۔ وقت مقررہ پر آصفہ بی بی نے میرے لائنز ایریا کے بوسیدہ علاقے میں اپنی گاڑی بھیج کے بلوا لیا۔ میرے ساتھ میرا بیٹا محسن حسن بھی تھا۔ بلاول ہاؤس پہنچنے پر بی بی کے سیکریٹری زید عزیز نے ہمیں خوش آمدید کہا ۔ ہم ان کے ساتھ لان میں منتظر چھوٹی بی بی تک پہنچے تو وہاں محرممہ صنم بھٹو بھی موجود تھیں جو ایک بے حد خوشی کے اظہار کے ساتھ اٹھ کر میری طرف آئیں اور میرا ہاتھ پکڑ کر آصفہ سے کہا کہ یہ ہمیں بھول گیا ہے ۔ آصفہ بی بی نے بہت ادب سے میری آمد کا شکریہ ادا کیا ، میں نے اپنے بیٹے کا تعارف کرایا اور ہم صنم بی بی کی پرانی یادوں بھر ی باتوں میں کھو گئے ۔ کچھ دیر بعد میں نے تین عدد یو ایس بی اسٹکس آصفہ بی بی کو دیتے ہوئے کہا کہ یہ آپ تینوں (بی بی شہید کے بچوں) کی کچھ تصاویر ہیں۔ صنم بی بی نے آواز لگائی میری تصاویر کہا ں ہیں تو میں نے کہا کہ آپ تصاویر بنواتی کب تھیں بلکہ کبھی اگر میں بیگم صاحبہ اور بے نظیر کی ساتھ آپ کو بیٹھے دیکھ کر کیمرہ سیدھا کرتا تھا تو آپ اُٹھ کر بھاگ جاتی تھیں جس پر وہ ہنستے ہوئے کہنے لگیں کہ تمہیں معلوم ہے میں سیاست سے کتنا دور رہتی تھی۔
آصفہ بی بی نے تصاویر کا شکریہ ادا کیا ۔ میں نے بتایا کہ میں بی بی شہید پر ایک کتاب کی تیاری میں ہوں تو وہ بہت خوش ہوئیں اور پوچھا کہ ہم کب تک وہ کتاب دیکھیں گے ، میں نے بتایا اسی سال بی بی شہید کی سالگرہ کے موقع پر اس کی رونمائی کا پروگرام میرے ذہن میں ہے۔ آصفہ بی بی اور صنم بی بی نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں انتظار رہے گا۔
میری کتاب کے کچھ حصے رہتے تھے جو میں نے مکمل کر لئے اور پہلی ایڈیٹنگ کے لئے میں نے مسودہ اپنی مساوات کی ساتھی مہناز رحمان کے حوالے کیا ۔ انہوں نے اس کی نوک پلک سنواری ، اعراب وغیرہ درست کئے اور کچھ دن بعد مجھے واپس بھجوا دیا۔ دوسری ایڈیٹنگ کےلئے میں نے محترم محمد عامر حسینی کو زحمت دی۔ انہوں نے اس کے ہر باب کی ہیڈ لائنز بنائیں اور تمام ابواب کی فہرست مرتب کی ۔
مھمود شام صاحب سے ہمارےسترکی دہائی سے پیشہ وارانہ تعلقات ہیں ۔ ان سے درخواست کی کہ ایک تو وہ ایک سینئر ساتھی کی حیثیت سے میرے اور میری کتاب کے بارے میں لکھیں اور دوسرے یہ کہ یہ کتاب کہاں سے چھپوائی جائے ۔ انہوں نے ایک بہت عمدہ مضمون میری کتاب کے بارے میں لکھ دیا اور بتایا کہ یہ پی ڈی ایف پرنٹر پر کروائیں کہ اس میں فائدہ یہ ہے کہ آپ کم تعداد میں چھپوا سکتے ہیں اور جب چاہے دوبارہ بھی چھپوا سکتے ہیں جس سے آپ کا خرچہ کم ہو جاتا ہے۔
اس کتاب کا دیباچہ مہناز نے لکھا۔ شام جی نےلکھا، ہمارے برے وقتوں کے صحافی ساتھی جو بعد میں بی بی سی چلے گئے علی احمد خان نے لکھا، ہمارے مساوات کے ساتھی ناصر بیگ چغتائی نے لکھا، مساوات لاہور کے ساتھی جنہوں نے بھٹو صاحب کی لاہور ہائیکورٹ میں مقدمے کی کاروائی کور کی تھی ، انور شاھد نے لکھا اور ہمارے رائٹرز نیوز ایجنسی کے ایک بیور و چیف اینڈی سولومن نے لکھا۔
کتاب بی بی شہید کی سالگرہ 21 جون سے ایک ہفتہ پہلے چھپ کر تیار ہو گئی تھی اور میں چاہتا تھا کہ بی بی شہید کی سالگرہ کے دن اس کی رونمائی ہو جائے مگر میری یہ خواہش پوری نہ ہو سکی۔ آصفہ بی بی اور چیئرمین بلاول سے رابطہ نہ ہو سکا ۔ سالگرہ کا دن گذر گیا۔ پھر جون کا مہینہ بھی گذر گیا۔ جولائی بھی گذر گیا ۔ اگست، ستمبر، اکتوبر گذر گئے۔ بلاول ہاؤس میں موجود کچھ دیگر لوگوں سے کہتا رہا کہ مجھے کتاب کی رونمائی کے لئے وقت درکار ہے مگر کسی نے پلٹ کر رابطہ نہیں کیا۔ ادھر یا ر لوگ پوچھ پوچھ کر تھک گئے کہ رونمائی کب ہو رہی ہے مگر میرے پاس جواب نہ تھا۔ پبلشر نے کتاب خود ہی بیچنا شروع کر دی۔ پریس کلب کے ساتھیوں نے دو تین بار کہلوایا کہ بھائی بلاول ہاؤس کو چھوڑو پریس کلب میں ہی رونمائ کی تقریب کر لو مگر میرا دل نہین مانتا تھا ۔ میں خود ایک عجیب سی وحشت کا شکار ہو رہا تھا۔نومبر آیا اور اس کے تین ہفتے بھی گذر گئے ، 30 نومبر کو پارٹی کا یوم تاسیس آ رہا تھا اور میرے ذہن میں خیال آیا کہ محرتم سید عبداللہ شاہ (سابق وزیر اعلیٰ سندھ) ایک دفعہ ہم مساوات کے رپورٹر عنایت اور فوٹوگرافر (مجھے) دادو میں اپنے آبائی علاقے میں لے گئے تھے جہاں انہوں نے کچھ ترقیاتی کام کروائے تھے اور اس کی کوریج مساوات اخبار میں چھپوانا چاہ رہے تھے ۔ وہاں ان کی اپنے آباواجداد کی ایک تصویر لگی تھی جو بہت خراب حالت میں تھی سید عبداللہ شاہ نے مجھے کہا کہ یار اس تصویر کا کچھ کرو یہ بہت تاریخی تصویر ہے۔ میں وہ تصویر فریم سے نکلوا کر کراچی لے آیا تھا اور اس کی کاپی کر کے اچھی شکل میں نیگیٹو بنا لیا تھا مگر پرنٹ نہیں کی تھی۔ کام کی زیادتی کے بعد وہ میں بھول گیا۔ پھر دن گذرتے گئے ۔ کبھی چیف منسٹر ٖٖصاحب کا فنکشن ہوتا تو وہ یاد کرواتے اور میں وعدہ کر کے پھر بھول جاتا۔ پھر پارٹی کی حکومت چلی گئی مارشل لا لگ گیا اتفاق سے وہ نیگیٹیو میں گھر لے آیا تھا اور گھر میں پڑا رہا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد جب میں نے نیا اسکینر خریدا اور اسکیننگ شروع کی تو وہ نیگیٹیو بھی نظر آیا وہ میں نے اسکین کر لیا اور میرے کمپیوٹر میں پڑا رہا ۔نومبر کے آخری ہفتے میں مجھے یاد آیا کہ عبداللہ شاہ صاحب کا تو انتقال ہوئے ایک عرصہ گذر گیا مگر اب تو ان کا بیٹا سید مراد علی شاہ توموجود ہے جو اتفاق سے اس وقت وزیر اعلیٰ ہے۔ میرے پاس ان کی کچھ اور تصاویر بھی موجود تھیں جو بی بی شہید کی 18-اکتوبر 2007 کو آمد کے موقع پر بنائی تھیں۔ اس میں وہ بی بی شہید کے بالکل قریب کھڑے تھے اور بی بی ان سے تھوڑی تھوڑی دیر بعد کچھ گفتگو بھی کرتی رہی تھیں۔ میں نے اپنے آرکائیو سے وہ تصویریں بھی نکالیں اور ان کی آبائی تصاویر سمیت پرنٹ بنوائے اور اگلے دن چیف منسر ہاؤس فون کیا ۔وہاں میرا ایک پرانا شاگرد کبھی فوٹوگرافر ہوتا تھا۔ آپریٹر سے اس کا پوچھا تو وہ ابھی بھی وہیں کام کرتا تھا۔ اس سے بات ہوئی کہ جیف منسٹر صاحب سے کیسے بات ہو سکتی ہے اس نے کہا کہ آپ گیٹ پر آ جائیں میں آپ کو اند ر لے آؤں گا اور یہاں ان کے پی اے سے اندر آپ کے نام کی چٹ بھجوا دیں گے۔
اگلے روز میں اپنے بیٹے کو لے کر سی ایم ہاؤس پہنچا ۔ گیٹ سے امداد کو فون کرایا وہ خود آٰیا اور استاد کہہ کر لپٹ گیا اور ہمیں اند ر لے گیا۔ وہاں پی اے نے سی ایم صاحب کو چٹ بھیجی کہ فوٹوگرافر زاہد حسین آپ سے ملنا چاہتے ہیں انہوں نے فوراً ہی اندر بلوا لیا اور اپنی سیٹ سے اٹھ کر مجھے ملے۔ میں نے کہا کہ میرا بیٹا بھی ساتھ ہے تو انہوں نے پی اے سے کہا کہ ان کو بھی اندر بھیج دیں۔ مراد علی شاہ صاحب نے کہا کہ وہ مجھے جانتے ہیں میں نے ان کے والد کا بتایا اور ان کی آبائی تصویر دی ، وہ خوشی سے اچھل پڑے اور تصویر میں موجود کچھ بچوں میں ایک پر انگلی رکھ کر بتایا کہ یہ میرے بابا ہیں ۔ میں نے بی بی کے ساتھ ٹرک پر ان کی تصاویر دیں تو وہ اتنے جذباتی ہوئے کہ اپنی کرسی سے اُٹھ کر میرا شکریہ ادا کیا۔ میں نے ان کو بتایا کہ میں نے بی بی شہید پر ایک کتاب لکھی ہے جس کی رونمائی کے لئے پریشان ہوں۔میں نے ان کو کتاب پیش کی ۔ انہوں نے پی اے کو فون کر کے فوٹوگرافر کو بھیجنے کا کہا تاکہ کتاب دیتے ہوئے تصویر بن جائے ۔ فوٹوگرافر نے بھی تصویر بنانے کے بعد سی ایم صاحب سے کہا کہ سر یہ ہمارے استاد ہیں ، جس پر شاہ صاحب نے کہا کہ بھائی زاہد صاحب بہت کمال کے آدمی ہیں۔فوٹوگرافر کے جانے کے بعد میں نے بتایا کہ کتاب تیار ہے رونمائی کے لئے بلاول ہاؤس سے رابطہ نہیں ہو رہا ہے تو مراد علی شاہ صاحب نے کہا کہ آپ یہ کام مجھ پر چھوڑ دیں میں آپ کو چیئرمین صاحب سے وقت لے کر دیتا ہوں۔ انہوں نے پوچھا اور کوئی خدمت ! میں نےکہا کچھ بھی نہیں جناب ! وہ دروازے تک چھوڑنے آئے۔
30-نومبر پارٹی کا یوم تاسیس آیا۔ مجھے آصفہ بی بی کے سیکریٹری کا فون آیا کہ شام کو بلاول ہاؤس کی گاڑی آکر آپ کو جلسہ گاہ لے جائے گی ، کیا آپ کی صحت ایسی ہے کہ آپ جاسکٰیں۔ میں نے کہا کہ میں ضرور جاؤں گا۔جلسے میں اسٹیج پر کافی لوگوں سے ملاقات ہوئی ۔ چیئر مین کی آمد پر میں ایک سائیڈ پر الگ کھڑا تھا۔ چیئرمین بلاول کی نظر پڑی تو میر ی طرف آئے اور بہت تپاک سے ملے میری صحت کا پوچھا۔میں نے کہا کہ آپ سے کچھ وقت درکار ہے انہوں نے کہا اچھا اور دیگر لوگوں سے ملتے ہوئے اپنی سیٹ پر جاکر بیٹھ گئے ۔ میں نے اپنے چھوٹے کیمرے سے ان کی کچھ تصاویر بنائیں ۔ برابر کی کرسی خالی تھی انہوں نے اس پر ہاتھ رکھ کر مجھے اشارہ کیا اور میں ان کے برابر جا کر بیٹھ گیا ۔ میرے ہاتھ میں چھوٹا سا کیمرہ یکھ کر کہا کہ یہ چھوٹا سا کیمرہ آپ کے ہاتھ میں ہے یقیناً اس میں کوئی خاص بات ہے میں نے بتایا کہ ایک بڑے کیمرے جتنا ہی پاورفل ہے اور اس کیمرے کی خوبیاں بیان کیں۔ اس کے بعد میں نے ان کو بتایا کہ ہزاروں کی تعداد میں پارٹی اور بھٹو فیملی کی تصاویر نیگیٹوز کی شکل میں موجود ہیں مگر مناسب انتظام نہ ہونے اور گرمی کے باعث رفتہ رفتہ گل سڑ رہی ہیں۔اس کو محفوظ کرنے کا کچھ کریں۔ چیئرمین نے کہا بالکل کریں گے ۔ میں نے کہا کیسے کریں گے انہوں نے کہا ہمارے پاس زیبسٹ ہے ، اس کے علاوہ بھی کئی اور طریقے ہیں ۔ ایسا کرتے ہیں کہ آپ سے ایک میٹنگ رکھتے ہیں جس میں آپ اپنی ایکسپرٹ رائے دیجئے گا اور یہ کام ہو جائے گا ۔
وہ میٹنگ آج تک نہیں ہوئی۔
جلسے کی کاروائی جاری رہی ۔ مختلف مقررین پارٹی کے یوم تاسیس پر خطاب کرتے رہے۔ سی ایم سید مراد علی شاہ بھی موجود تھے ، میں ان کے قریب سے گذرا تو انہوں نے مجھ بلایا اور بتایا کہ آپ کی کتاب کی رونمائی کے بارے میں ان کی چیئرمین بلاول سے بات ہوئی ہے اور جلد ہی آپ کو آگاہ کر دیا جائے گا۔دسمبر شروع ہوا اور بی بی شہید کی برسی کے دن قریب آتے گئے ۔میری خواہش تھی کہ سالگرہ پر تو رونمائی نہ ہو سکی کاش بی بی کی برسی پر ہی ہوجائے۔ مگر بلاول ہاؤس سے کوئی رابطہ نہ تھا۔برسی سے ایک دن پہلے 26دسمبر کو مجھے بلاول ہاؤس سے آصفہ بی بی کے سیکریٹری زید عزیز کا فون آیا کہ کل صبح سویرے آپ کو کراچی ایرپورٹ سے سکھر کے لئے روانہ ہونا ہے ۔آپ کے لئے پی آئی اے کی فلائیٹ میں بکنگ کر دی گئی ہے ۔ جلسے میں ہزاروں کارکنوں کی موجودگی میں چیئرمین بلاول اور بی بی آصفہ بھٹو آپ کی کتاب کی رونمائی کریں گے۔میں نے کہا کہ میں بیماری کے باعث اکیلے سفر نہیں کر سکتا ، میرا بیٹا محسن بھی جائے گا ۔ زید نے کہا کہ ٹھیک ہے ان کی بھی سیٹ آپ کے ساتھ ہی کر دی جائے گا ۔چیف منسٹر ہاؤس سے ایک مشیر آپ کو ٹکٹ بھیج دے گا۔ جو مجھے اگلےایک گھنٹے میں موصول ہو گئے ۔ پروگرام کے تحت ہمیں سکھر ایرپورٹ سے صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ صاحب کی طرف سے بھیجی گئی گاڑی میں ان کے گھر روہڑی پہنچنا تھا جہاں ناشتہ کے بعد کچھ دیر آرام کے بعد اسی گاڑی میں جلسہ گاہ پہنچنا تھا ۔ ناصر شاہ صاحب نے مہمان نوازی کی انتہا کر دی تھی۔بہت محبت سے ملے اور کہا یہ گاڑی ڈرائیور سمیت آپ کے پاس ہے اور رات کو واپسی کی فلائیٹ تک آپ کے پاس رہے گی۔جلسہ گاہ تک پہنچنے کی ایک الگ کہانی ہے ۔ لوگوں کے ہجوم اور سیکیوریٹی کے مرحلے تمام کرتے ہوئے پہچےن تو ہمیں اسٹیج تک پہنچا دیا گاٹ جہاں پارٹی کے پرانے ساتھی سید قائم علی شاہ کے پاس جا بیٹھے ۔چیئرمین کی آمد اور ان کی گرم جوشی تصویر سے عیاں ہے ۔ آصفہ بی بی نے یہ کہہ کر استقبال کیا کہ آپ کے آنے کا بہت بہت شکریہ! چیئرمین صاحب کی مصروفیت کے باعث اتنی دیر ہوئی۔چیف منسٹر سید مراد علی شاہ ملے اور کہا ” زاہد صاحب میں نے اپنا وعدہ پورا کیا”یہ تصویریں میرے شاگرد ندیم سومرو نے بنائی ہیں – جس کو میں نے اپنی رائٹرز نیوز ایجنسی کا لاڑکانہ میں اسٹنگر بھی مقرر کیا تھا۔

پچھلی پوسٹ

شہید ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی 51 سالہ زندگی میں وہ کام کئے ہیں جس کا آج کوئی تصور تک نہیں کرسکتا۔سعید غنی

اگلی پوسٹ

چین-پاکستان زرعی تعاون کے ثمرات، پاکستانی ماہر فصلوں کی بیماریوں سے نمٹنے کے لئے چین کی بہار کاشتکاری میں شامل

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post

چین-پاکستان زرعی تعاون کے ثمرات، پاکستانی ماہر فصلوں کی بیماریوں سے نمٹنے کے لئے چین کی بہار کاشتکاری میں شامل

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper