اسلام آباد( نمائندہ خصوصی):پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی اورقائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی برسی ہفتہ 4 اپریل کو منائی گئی۔ انہوں نے ایک شخص ایک ووٹ سے لے کر ملک کوایٹمی قوت بنانے تک بے شمار کارنامے سرانجام دیئے۔ ذو الفقار علی بھٹو 5 جنوری 1928 کو لاڑکانہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سر شاہ نواز بھٹو مشیر اعلیٰ حکومت بمبئی اور جوناگڑھ کی ریاست میں دیوان تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو کوقائدعوام اوربابائے آئین بھی کہا جاتا ہے۔ انہوں نے 1950 میں برکلے یونیورسٹی کیلیفورنیا سے سیاسیات میں گریجوایشن کی اور 1952میں آکسفورڈ یونیورسٹی سے اصول قانون میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کرنے کے
بعد مڈل ٹمپل لندن سے بیرسٹری کا امتحان بھی پاس کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے 3دسمبر 1967 کو پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی۔ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان پیپلزپارٹی کی بنیاد کے ساتھ ملک میں سیاست اور اقتدار کوعام آدمی کے سپرد کیا۔ ان کے بغیر پاکستانی سیاست کی تاریخ نامکمل ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی جدوجہد بڑی دلچسپ ہے۔ انہوں نہ صرف وطن کو سنبھالا بلکہ اس کے دفاع کو بھی مضبوط کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے چین کے ساتھ دوستی، مسلم ممالک کا بلاک، ایٹمی طاقت اور ون مین ون ووٹ کا نظام متعارف کرایا۔ خارجہ پالیسی اور عالمی اُفق پر چند فیصلے قائد عوام کو دنیا میں ممتاز لیڈر ز کی صف میں شامل کرتے ہیں۔شہید ذوالفقار علی بھٹو ایک کرشماتی شخصیت کے مالک اور ایک ایسے رہنما تھے جنہوں نے عوام کے دلوں پر راج کیا۔ذوالفقار علی بھٹو کے سیاسی نظریات سے اختلاف کے باوجود ملک کی سیاسی قیادت ان کے کردار کی معترف ہے۔ منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو 4 اپریل 1979 کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ ان کی برسی کے موقع پر ملک کی سیاسی قیادت اور بالخصوص پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے ان کی خدمات کے اعتراف میں بھر پور انداز میں خراج تحسین پیش کیا گیا۔
