اسلام آباد۔( نمائندہ خصوصی):سپریم کورٹ کے سینئر وکیل حافظ احسان احمد کھوکھر نے کہا ہے کہ پاکستان کے آئینی فریم ورک میں وفاقی آئینی عدالت (ایف سی سی) اور سپریم کورٹ پر مشتمل دوہری اعلیٰ عدالتی نظام کے قیام سے ایک بڑی تبدیلی رونما ہوئی ہےجسے قانونی اور پالیسی حلقوں میں ادارہ جاتی تخصص، عدالتی کارکردگی اور آئینی حکمرانی کے استحکام کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔اے پی پی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماضی میں سپریم کورٹ ایک واحد اعلیٰ ادارے کے طور پر اصل، اپیلیٹ اور مشاورتی دائرہ اختیار استعمال کرتی رہی، جس کے باعث وقت کے ساتھ مقدمات کا بوجھ بڑھااور ادارہ جاتی دباؤ میں اضافہ ہوا۔حافظ احسان احمد کھوکھر کے مطابق نئی قائم ہونے والی وفاقی آئینی
عدالت کو آئینی معاملات پر خصوصی دائرہ اختیار دیا گیا ہے، جس میں آئین کی تشریح، قوانین کو چیلنج کرنے اور وفاق و صوبوں کے درمیان تنازعات جیسے امور شامل ہیں، جس سے آئینی مقدمات کی سماعت ایک مخصوص فورم پر ممکن ہو سکے گی۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ بدستور اعلیٰ اپیلیٹ عدالت کے طور پر کام جاری رکھے گی اور سول، فوجداری اور آئینی اپیلوں کی سماعت کرے گی۔ اس تقسیم سے ایک متوازن عدالتی ڈھانچہ تشکیل پاتا ہے جہاں ایک عدالت آئینی تحفظ کی ذمہ دار ہوگی جبکہ دوسری قانونی تشریح میں یکسانیت اور حتمیت کو یقینی بنائے گی۔انہوں نے کہاکہ یہ اصلاحات عالمی رجحانات کے مطابق ہیں، جہاں جرمنی، اٹلی اور جنوبی افریقہ جیسے ممالک میں پہلے ہی خصوصی آئینی عدالتیں قائم ہیں، اور پاکستان کا یہ اقدام بین الاقوامی طرز عمل سے ہم آہنگی کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ دونوں عدالتوں کے دائرہ اختیار واضح طور پر متعین کیے گئے ہیں تاکہ باہمی تصادم اور اختیارات کے تداخل سے بچا جا سکے۔وفاقی آئینی عدالت کے آئینی فیصلے تمام فورمز پر لازم ہوں گے جبکہ سپریم کورٹ اپیلیٹ معاملات میں اپنی اتھارٹی برقرار رکھے گی۔حافظ احسان احمد کھوکھر نے کہا کہ دونوں عدالتوں کو کیس مینجمنٹ بہتر بنانے، غیر ضروری التوا کم کرنے اور مقدمات کے بروقت فیصلے یقینی بنانے پر توجہ دینا ہوگی۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وفاقی آئینی عدالت میں ججز کی تعداد میں اضافہ ضروری ہوگا تاکہ بڑھتے ہوئے آئینی مقدمات کے بوجھ کو موثر طریقے سے سنبھالا جا سکے۔انہوں نےکہا کہ ایک وسیع قومی عدالتی مکالمے کی ضرورت ہے جس میں عدلیہ اور پارلیمنٹ شریک ہوں جس کے تحت طریقہ کار میں سادگی، عدالتی نظام کی ڈیجیٹلائزیشن اور استعداد کار میں اضافہ جیسے امور پر توجہ دی جائے۔انہوں نے کہا کہ یہ اصلاحات محض قانونی نہیں بلکہ معاشی اور انتظامی اثرات بھی رکھتی ہیں، کیونکہ ایک موثر اور قابلِ پیشگوئی عدالتی نظام سرمایہ کاری، معاشی ترقی اور حکومتی استحکام کے لیے نہایت اہم ہے۔انہوں نے کہا کہ عوامی اعتماد کی بحالی ایک بڑا چیلنج ہے جس کے لیے شفافیت، تسلسل اور بروقت انصاف کی فراہمی ناگزیر ہے۔آخر میں حافظ احسان احمد کھوکھر نے کہا کہ وفاقی آئینی عدالت کا قیام پاکستان کی آئینی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ہے، اور یہ بروقت انصاف، آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

