کراچی کے ان قابل صد احترام اخبار نویس کا نام تو شاید دو دہائی پہلے تب سنا تھا جب مجھے 2003 میں روزنامہ خبریں کے شام کے اخبار "روزنامہ نیا اخبار” کی لانچنگ ٹیم کے ساتھ شہر قائد جانا ہوا لیکن ان سے باقاعدہ مگر مختصر ملاقات 21سال بعد 2024میں ہوئی جب میں لاہور پریس کلب کا نائب صدر تھا اور مجھے صدر ارشد انصاری کی قیادت میں وفد کے ساتھ سندھ حکومت کی دعوت پر کراچی گیا۔۔۔۔وہ لاہور پریس کلب کی گورننگ باڈی کے رکن برادرم بدر سعید کو ہوٹل ملنے آئے تھے اور مجھے بھی بڑے تپاک سے کراچی خوش آمدید کہا۔۔۔یہ اخبار نویس 2003میں شاید کسی اخبار میں اچھی شہرت کے سب ایڈیٹر تھے لیکن 2024میں ان کا تعارف ذرا منفرد تھا اور وہ کارکن صحافیوں کے حقوق کی سب سے توانا آواز کے طور پر جانے جاتے تھے۔۔۔۔۔ون مین آرمی کہہ لیں۔۔۔۔ان اخبار نویس کا اسم گرامی ہے کہ جناب علی عمران جونئیر ہے۔۔۔۔!!!
علی عمران جونئیر نے 9سال پہلے 2 اپریل کو تن تنہا کارکن صحافیوں کی جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا۔۔۔انہوں نے اس مشن کے لیے عمران جونئیر ڈاٹ کام کے نام سے ایک ویب سائٹ لانچ کی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ ملک بھر کے کارکن صحافیوں کے حقوق کے علم دار بن گئے ۔۔۔۔۔کبھی ملک کے طول و عرض میں جناب ضیا شاہد کے سلوگن "جہاں ظلم وہاں خبریں”کا چرچا تھا۔۔آج کل
اسی طرح عمران جونئیر ڈاٹ کام کی گونج ہے لیکن یہ طبل جنگ میڈیا ہائوسز کے ظلم و استحصال کیخلاف ہے۔۔۔۔کسی میڈیا ہائوس میں تنخواہوں میں تاخیر کا مسئلہ ہو یا جبری برطرفیوں کا مسئلہ ہو۔۔۔۔عمران جونئیر صحیح معنوں میں جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق بلند کر رہے ہیں ۔۔۔وہ تاک تاک کا نشانہ لیتے اور ہدف حاصل کرتے ہیں۔۔۔کام تو یہ صحافتی تنظیموں کے کرنے کا ہے لیکن کون سی صحافتی تنظیمیں؟؟؟مجھے یہ بات کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں کہ
ایسے وقت میں جب ملک کی سب سے بڑی صحافتی یونین پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس پانچ چھ دھڑوں میں بٹی ہوئی ہے اور پھر بھی یونین کہلاتی ہے۔۔۔۔یہی حال صوبائی یونینز کا ہے۔۔۔کئی کئی دھڑے اور پھر بھی یونین۔۔ایسے وقت میں جب ہر یونین کسی نہ کسی میڈیا مالک کی لونڈی ہے۔۔۔مایوسی کے ان اندھیروں میں عمران جونئیر کارکن صحافیوں کے لیے امید کی کرن ہے ۔۔۔۔۔عمران جونئیر نے جس راستے کا انتخاب کیا یہ ایک کٹھن راستہ ہے جس پر چلنا کانٹوں پر چلنے کے مترادف ہے۔۔۔انہوں نے اس پرخار سفر کی بھاری قیمت بھی ادا کی ہے۔۔۔۔۔ انہوں نے اپنا کیرئیر تباہ کیا۔۔۔۔فیملی کو فاقے دیے۔۔۔۔بچوں کی تعلیم پر
سمجھوتہ کیا لیکن ان کے قدم ڈگمگائے نہیں۔۔۔گویا وہ آبلہ پا بھی چلے اور خوب چلے۔۔۔۔۔۔!!!شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایک کارکن صحافی ہیں اور کارکن صحافیوں کے دکھ بھی سمجھتے ہیں ۔۔۔۔وہی بات جو پنجابی کے بڑے شاعر بابا نجمی نے کہی تھی کہ مزدوروں کے پیسنے کا لوگوں کو کیا علم ؟مجھے پتہ ہے کہ مزدوروں کی پسینے کی خوشبو کیسی ہوتی ہے کہ میں نے چلچلاتی دھوپ میں کراچی کی سڑکوں پر پتھر کوٹے ہیں۔۔بندہ مزدور کے تلخ اوقات پر بھی میں ہی لکھ سکتا ہوں۔۔۔مجھے لکھنے دیجیے کہ صحافت کے میدان میں کوئی ایوارڈ۔۔۔ستارہ یا تمغہ بنتا ہے تو عمران جونئیر ایسے کارکن صحافیوں کے غم خوار صحافی کے لیے بنتا ہے۔۔۔۔!!!بہر حال عمران جونئیر کو عمران جونئیر ڈاٹ کام کی نویں سالگرہ مبارک ہو۔۔۔۔۔!!!

