جیسا کہ سب اس سے واقف ہیں، اس وقت کچھ عجیب طرح کے حالات و واقعات اور ایک بحران نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ۔ جس سے تمام ممالک نپٹنے اور اپنی اپنی بقا کی جنگ لڑنے کے لیے مسلسل نئی تدابیر اختیار کر رہے ہیں ۔۔تمام دنیا کی طرح پاکستان میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن لگنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے اور ساتھ ہی آن لائن اسکول کو مکم طور پر نافذ کرنے کا ارادہ نظر آتا ہے ۔۔مگر آن لائن تعلیم یونیورسٹی یا کالج تک تو شاید کارامد ہے مگر اسکول کی سطح پر ہم اس سے وہ نتائج حاصل نہیں کر سکتے جو نتیجہ جماعت میں تعلیم دینے سے طلباء کو میسر آتا ہے ۔۔
پاکستان ابھی ترقی یافتہ ممالک کی دوڑ میں بہت پیچھے ایک ترقی پذیر ملک ہے۔۔ ہمارے یہاں تعلیم کی شرح 60.65 فیصد ہے وہ بھی ابتدائی جماعتوں تک, اعلی تعلیم حاصل کرنے کا موقع ہمارے ملک کے بہت کم نوجوان پاتے ہیں۔ہمارے ملک میں تعلیم کا بجٹ تقریبا 1.19 فیصد ہے جو کہ یقینا بہت کم ہے. اگر ہماری حکومت آن لائن تعلیم نافذ کرنے کا ارادہ کرتی ہے تو یقیناً ایسی صورت میں شعبہ تعلیم کے لیے بجٹ میں اضافہ ناگزیر ہے۔
آن لائن تعلیم کے نفاز کی صورت میں سب سے پہلے بجلی اور انٹرنیٹ کی فراہمی مستقل بنیادوں پر ہر طالب علم تک ہونا ضروری ہے ۔۔جب کہ ہمارے ملک کی ایک بڑی آبادی بنیادی سہولیات سے ہی محروم ہے، اور لوگ ان آلات یعنی کمپیوٹر، لیپ ٹاپ یا موبائل فون جن کا ہونا ان لائن تعلیم کے لیے لازمی ہے، کو ضرورت کی چیزیں نہیں بلکہ آسائش سمجھتے ہیں۔۔آن لائن کلاسز کے ذریعے تعلیم یونیورسٹی یا کالج کی سطح پر مگر پھر بھی کچھ حد تک موثر ثابت ہوسکتی ہے ۔ہمارے نوجوان تعلیم کے اعلی مدارج تک پہنچ کر کسی نہ کسی طرح ان سب سہولیات کا اپنے لیے بندوبست کر لیتے ہیں ۔۔
مگر چھوٹی جماعتوں خاص طور پر پرائمری اسکول میں خود بچے اور ان کے والدین دونوں ہی کو ان سب چیزوں کا انتظام و اہتمام کرنے کے لیے اکثر مشکل مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔۔پانچویں یا آٹھویں جماعت تک کے طلباء اور ان کے والدین کے لیے مشکل مرحلہ صرف گھر میں وہ سب کچھ مہیا کرنا ہی نہیں جن کی وجہ سے ان لائن تعلیم کا بہتر بندوبست ہو سکے ، کیونکہ بات صرف بجلی، انٹرنیٹ یا آلات کی نہیں گھر کا کوئی کونا یا مخصوص حصہ بھی اس کے لیے ہونا ضروری ہے، پھر شور و غل سے مبرہ ماحول بھی چاہیے۔لیکن اگر یہ سب چیزیں آسانی سے ہو جاتی ہیں پھر بھی جذباتی اور نفسیاتی طور پر آن لائن تعلیم اتنے چھوٹے بچوں کے لیے بالکل بھی مناسب نہیں۔
یہ بات میں وثوق سے کہہ سکتی کہ میں خود اٹھائیس سال تک درس و تدریس سے وابستہ رہی ہوں۔۔میرا یہ ماننا ہے کہ تعلیم تو شاید گھر کے کسی کونے میں بیٹھ کر ہو جائے مگر وہ تربیت اور خاص طور پر ذہنی، سماجی یا تخلیقی تربیت جو اسکول میں رہ کر اساتذہ کی زیر نگرانی ہم جماعت بچوں کے ساتھ مل کر پڑھنے اور سمجھنے سے حاصل ہوتی ہے اس کا ہونا ناممکن ہے ۔۔کچھ بچوں کے لیے اسکول ناگزیر ہوتے ہیں ۔خاص طور پر اپنے ماں باپ کے اکلوتے بچے کے لیے بے حد ضروری ہے کہ اسے اپنے ہم عمر دوستوں کے ساتھ ملنے جلنے کا موقع فراہم ہو۔۔
پھر اسکول آنے جانے سے طلبہ میں جو وقت کی پابندی اور نظم و ضبط پیدا ہوتا ہے وہ آن لائن کلاس میں نہیں ہو سکتا۔بہت سی باتیں جو بچے اپنے ماں باپ کی نہیں سنتے وہ اکثر اپنے پسندیدہ ٹیچر کی سن بھی لیتے ہیں اور مان بھی لیتے ہیں، پرائمری جماعتوں کے بچے اپنے ساتھی بچوں کے ساتھ رہ کر بہت سارے کھانے پینے کی وہ چیزیں جو وہ گھر میں کھانا پسند نہیں کرتے اس سے اسکول میں دوستوں کے ساتھ لطف اندوز ہونا سیکھ جاتے ہیں۔کبھی کبھار کچھ اپنے گھروں سے شاکی بچے ٹیچر کی شفقت بھری مسکراہٹ کو اپنی جائے پناہ سمجھتے ہیں۔کھیل کود کے جیسے مواقع اسکول کی چار دیواری کے اندر میسر آتے ہیں وہ بلڈنگ کے کمپاؤنڈ یا گلی میں کھیلنے سے کبھی نہیں ملتے۔
جن طلباء کو باقاعدگی سے جیب خرچ ملتا ہے وہ اسے اسکول کی کینٹین میں خرچ کرنے یا بچانے کا سلیقہ سیکھتے ہیں ۔۔بچے ان لائن کلاسز میں موسیقی، ڈرائنگ ، آرٹ اینڈ کرافٹ یا مختلف پروجیکٹ میں حصہ لینے سے بھی محروم رہتے ہیں ، ان تمام سرگرمیوں کو طلبہ کے کردار کی تعمیر کے لیے بے حد ضروری گردانا جاتا ہے۔۔بچوں کا مسلسل گھر میں رہنا صرف انہیں ہی جذباتی یا نفسیاتی طور پر متاثر نہیں کرتا یا اس سلسلے میں بچوں کے مسائل پیدا نہیں ہوتے بلکہ ان کے ساتھ ساتھ دوسرے افراد پر بھی اس کا اثر پڑتا ہے۔سب سے زیادہ مائیں متاثر ہوتی ہیں۔ پرائمری تک کے بچوں کو بالکل اکیلے کمپیوٹر ، لیپ ٹاپ یا ہاتھ میں موبائل دے کر چھوڑا نہیں جا سکتا ان کی نگرانی کے لیے کسی کا ہونا ضروری ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ اس طرح کے ذمہ داری ماؤں کے حصے میں ہی آتی ہے۔۔
اس کے علاوہ ہمارے ہاں ٹیچرز کے پاس سہولیات نہیں کہ وہ اپنے آپ کو ان لائن ٹیچنگ کے حوالے سے اب ڈیٹ کر سکیں۔۔ حکومت کو اس سلسلہ میں بھی کچھ سوچ بچار کرنا لازم ہے۔بہرحال دعا ہے کہ دنیا کے حالات تبدیل ہوں تاکہ ہماری تعلیمی ناؤ بھی صحیح سمت کی طرف رواں دواں ہو جائے ۔۔خدانخواستہ دیر نہیں ہونی چاہیے کہ ایندھن بچانے سے زیادہ ہمارے بچوں کے مستقبل کا محفوظ ہونا ضروری ہے ۔۔
