اسلام آباد۔( نمائندہ خصوصی):وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے حکومت کی مستقبل پر مبنی حکمت عملی اور پورٹ اتھارٹیزکی غیر معمولی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرانس شپمنٹ سرگرمیوں میں ریکارڈ اضافہ پاکستان کی عالمی بحری صلاحیت کو اجاگر کر رہا ہے اور ملکی بندرگاہوں کو تجارت و کاروبار کے ممتاز مراکز کے طور پر مستحکم بنا رہا ہے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹرانس شپمنٹ سرگرمیوں میں مسلسل اضافہ نئے سنگ میل قائم کر رہا ہے، قومی صلاحیت کو نمایاں کر رہا ہے اور بندرگاہوں کو تجارت اور علاقائی روابط کے فعال مراکز میں تبدیل کر رہا ہے۔ انہوں نے اس کامیابی پر پوری قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ پیش رفت بحری شعبے میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی طاقت کا مظہر ہے۔انہوں نے کہا کہ عالمی چیلنجز کے باوجود پاکستان نے لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے کراچی پورٹ پر مواقع سے بھر پور فائدہ اٹھایا۔ وفاقی وزیر نے اس کامیابی کا سہرا موثر حکومتی حکمت عملی اور وزارت بحری امور، بندرگاہوں کے چیئرمینز
اور ان کی ٹیموں کی انتھک محنت کو دیا اور ان کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اس رفتار کو برقرار رکھا جائے گا تاکہ پاکستان کو علاقائی تجارتی اور ٹرانس شپمنٹ مرکز کے طور پر مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی پورٹ، پورٹ قاسم اور گوادر پورٹ سمیت دیگر پاکستانی بندرگاہوں نے ریکارڈ کارکردگی حاصل کی ہے۔انہوں نے بتایا کہ 2025 کے دوران پاکستان نے تقریباً 8,300 ٹرانس شپمنٹ یونٹس استعمال کیے جبکہ صرف 24 دنوں میں ہی نیا ریکارڈ قائم ہو چکا ہے جو تیز رفتار ترقی اور بہتر آپریشنل کارکردگی کی عکاسی کرتا ہے۔ وفاقی وزیر نے اعلان کیا کہ حکومتی وژن کے تحت مزید تین بندرگاہیں تعمیر کی جائیں گی اور صنعتی توسیع اور بحری تجارت کے فروغ کے لیے ایک جدید انرجی سٹی قائم کیا جائے گا جس سے غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ، روزگار کے مواقع کی فراہمی، لاجسٹک اخراجات میں کمی اور پاکستان کو خطے میں ایک مسابقتی بحری و تجارتی مرکز بنانے میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ جہاں عالمی منڈیاں بحران کا شکار ہیں، وہیں پاکستان نے بحری شعبے میں ریکارڈ کارکردگی دکھائی کی ہے اور کراچی پورٹ پر ٹرانس شپمنٹ سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جو عرب خلیج میں شپنگ کی علاقائی رکاوٹوں کے باعث جہازوں کے پاکستان کا رخ کرنے کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2025 میں تقریباً 8,300 ٹی ای یوز ہینڈل کیے گئے جبکہ گزشتہ 24 دنوں میں ہی 8,313 ٹی ای یوز کا انتظام کیا ہے جو گزشتہ سال کے حجم سے زیادہ ہیں اور غیر معمولی ترقی اور آپریشنل کارکردگی کو ظاہر کرتے ہیں۔
