موجودہ عالمی منظرنامہ تاریخ کے ایک ایسے نازک موڑ پر ہے جہاں ایک غلط فیصلہ پوری دنیا کو بارود کے ڈھیر میں بدل سکتا ہے۔ ایسے میں پاکستان کا ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کے لیے صفِ اول میں آنا محض ایک سفارتی پیش رفت نہیں، بلکہ اسلام آباد کی خارجہ پالیسی کی بڑی فتح ہے۔ عمان میں ہونے والے مذاکرات کی ناکامی اور اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر امریکی حملوں نے تہران کو بدظن کر دیا تھا، لیکن اس مایوسی کے دور میں پاکستان کا میزبان بننا ڈپلومیسی کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کرنے کے مترادف ہے۔ایران اور امریکا کے درمیان سب سے بڑی رکاوٹ اعتماد کا فقدان ہے۔ عمان کے تلخ تجربے کے بعد اگر ایران دوبارہ مذاکرات کی میز پر آنے کو تیار ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ پاکستان کے پاس ٹھوس ضمانتیں موجود ہیں۔ یہ ضمانتیں محض زبانی جمع خرچ نہیں، بلکہ عالمی طاقتوں کے باہمی مفادات سے جڑی ہیں۔گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان نے ایران کے حوالے سے جس دوٹوک اور اصولی موقف پر پہرہ دیا، اس نے تہران کی نظر میں اسلام آباد کو ایک قابلِ بھروسہ دوست کے طور پر منوایا ہے۔
اس سفارتی مشن کو یقینی طور پر سعودی عرب کی بھرپور تائید حاصل ہوگی ہے۔ خلیجی ممالک جو کبھی خود کو مکمل محفوظ سمجھتے تھے حالیہ جنگ کے بعد اس حقیقت سے آگاہ ہو چکے ہیں کہ ایران کے ساتھ براہِ راست تصادم ان کے معاشی وژن اور استحکام کو خاک میں ملا دے گا۔سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اب خطے میں امن چاہتے ہیں تاکہ ان کے ترقیاتی منصوبے متاثر نہ ہوں۔سعودی عرب اس وقت امریکا پر جنگ روکنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی پوزیشن میں ہے لیکن اس کے لیے ایران کو مذاکرات کی میز پر لانا ناگزیر تھا اور تہران صرف پاکستان کی ثالثی پر آمادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قطر اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک کے پاس بھی اب پاکستان کی اسٹریٹجک اہمیت پر انحصار کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔
اس پوری بساط کا سب سے منفرد اور خفیہ پہلو صدر ٹرمپ کے خاندان کے پاکستان میں کاروباری مفادات ہیں۔ ٹرمپ کے بیٹوں کی کمپنی ورلڈ لبرٹی فنانشل اور اسٹیو وٹکاف کے خاندان کا پاکستان کی ڈیجیٹل کرنسی مارکیٹ میں سرگرم ہونا ایک بڑی گیم چینجر ہے۔ جب کسی سپر پاور کے صدر کے ذاتی مفادات کسی ملک سے وابستہ ہو جائیں تو اسے دھوکا دینا مشکل ہوجاتا ہے۔ پاکستان ڈیجیٹل کرنسی کونسل کے ذریعے ٹرمپ خاندان کی موجودگی نے اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان ایک ایسا پل بنا دیا
ہے جس کی بنیاد خالصتاً کاروباری مفادات پر استوار ہے۔ اور یہ پالستان کو واشنگٹن میں بھی قابل اعتماد مصالحت کار بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہےچین کو بھی پاکستان پر اعتماد ہے اور چین ایران کو قائل کررہا ہے کہ بات چیت سے جنگ کے خاتمے کا حل نکالیں ۔ چین نے بھی اسلام آباد کو بہتر آپشن قرار دیا ہےاس سب کے بیچ اسپوائلر کا خطرہ موجود ہے۔ یعنی ایک فسادی موجود ہے۔ اسرائیل اور بھارت کا گٹھ جوڑ کل کچھ گُل کھلا سکتا ہےبنجمن نیتن یاہو اس پورے عمل میں سب سے بڑے اسپوائلر(Spoiler) یا فسادی کے طور پر سامنے آ سکتا ہے۔ اسرائیل کی بھرپور کوشش ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان تصادم کی آگ بھڑکتی رہے، اور اس مقصد کے لیے بھارت ان کا مہرہ بن سکتا ہے۔دوسری طرف بھارت تنہا محسوس کررہا ہے۔ اس کی اہمیت اس معاملے ختم ہوچکی ہے۔ جس کی بڑی وجہ بھارتی وزیراعظم کے حالیہ دورہ اسرائیل کے بعد تہران اور نئی دہلی کے تعلقات میں پڑنے والی دراڑیں واضح ہیں۔خدشہ ہے کہ اسرائیل ان مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کے لیے بھارت میں کسی فالس فلیگ آپریشن کا ڈرامہ رچا سکتا ہے تاکہ عالمی برادری کی توجہ ایران امریکا امن سے ہٹا کر پاک بھارت جنگ کی طرف موڑ دی جائے۔پاکستان اس وقت تاریخ کے ایک سنہری دور میں داخل ہو چکا ہے۔ اگر اسلام آباد اسرائیل کی سازشوں کا ادراک کرتے ہوئے تہران اور واشنگٹن کو کسی منطقی نتیجے پر پہنچا دیتا ہے، تو یہ نہ صرف عالمی امن کی ضمانت ہوگا بلکہ پاکستان کو دنیا کے نقشے پر خطے کی ایک ناگزیر سیاسی قوت کے طور پر مستحکم کر دے گا۔

