ٹی وی نیوز روم میں ایک طویل عرصہ گزارنے اور اس سے قبل اخبار و ٹی وی میں بطور رپورٹر فیلڈ کی خاک چھاننے کے بعد، میں اس تجربے کی بنیاد پر یہ بات پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ پاکستانی نیوز روم کا مزاج دنیا کے کسی بھی دوسرے خطے سے مختلف ہے۔ اگر آج دنیا کی کوئی بھی طاقتور شخصیت یا بااثر ادارہ پاکستانی نیوز روم کے کسی جونیئر ترین نوآموز صحافی کو بھی یہ حکم دے کہ اسرائیلی فوجی کے لیے شہید کا لفظ استعمال کرو تو وہ نہ صرف صاف انکار کر دے گا بلکہ قوی امکان ہے کہ ایسی خبر پر لعنت بھیج کر حکم دینے والے کو دو چار شاندار گالیوں سے نواز دے گا اور دفتر سے باہر نکل جائے گا۔ یہ ہماری قومی اور مذہبی غیرت کا وہ حصہ ہے جو صحافتی ضابطوں سے کہیں زیادہ مضبوط ہے
تاہم نیوز روم کی اپنی ایک نفسیات اور دباؤ ہوتا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ ایک طرف اسرائیلی ہلاکتوں کی خبر بن رہی ہو اور عین اسی وقت ایرانی انٹیلی جنس کے کسی افسر کی شہادت کی بریکنگ نیوز آ جائے۔ ایسے میں کام کے شدید دباؤ، گھبراہٹ اور جلد بازی میں الفاظ آگے پیچھے ہو سکتے ہیں۔ اسے صرف اور صرف ایک غلطی کہا جائے گا، بھیانک غلطی یہاں ہمیں غلطی اور پالیسی کے درمیان فرق کو سمجھنا ہوگا۔ پالیسی وہ ہوتی ہے جو شعوری طور پر اپنائی جاتی ہے۔ مثلاً، بعض میڈیائی اداروں کی واضح پالیسی ہے کہ تحریک انصاف کو بدنام کرنا ہے چنانچہ وہ ہر خبر کو اسی مخصوص زاویے سے نشر کرتے ہیں جس سے پی ٹی آئی کی ساکھ متاثر ہو۔ یہ ریاست کی پالیسی بھی نظر آتی ہے (اور اگر میڈیا نے اتنے عرصے میں یہ نہیں سیکھا کہ جس کے خلاف ریاست کھڑی ہو عوام اسے سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں، تو یہ ان میڈیائی افلاطونوں کی اپنی کم عقلی کا قصور ہے)۔ پالیسی کے تحت لکھی گئی خبر میں سرخی اور الفاظ ایسے چنے جاتے ہیں کہ ایک مثبت خبر بھی منفی تاثر دینے لگتی ہے
ہمیں اگر کسی چینل پر اعتراض کرنا ہے تو اس کی پالیسی پر کرنا چاہیے، اور اس پالیسی کے تحت چلنے والی خبروں، تجزیوں اور پیکجز کو نشانہ بنانا چاہیےغلطی تو کسی بھی انسان سے ہو سکتی ہے، اور صحافی بھی اس سے مبرا نہیں ہیں۔ جس کا خمیازہ بھی بھگتنا پڑتا ہے، لیکن جب کسی انفرادی غلطی کو ادارتی پالیسی ثابت کرنے کی کوشش کی جائے اور پورے ادارے کو گالیاں دی جائیں، تو ہم دراصل مالکان یا غیر صحافی افسران کا کچھ نہیں بگاڑ رہے ہوتے، بلکہ اپنی ہی صحافتی برادری کی پیٹھ میں چھرا گھونپ رہے ہوتے ہیں۔ مالکان اور غیرصحافی افسران تو فوراً نیوز روم کے عملے یا رپورٹر کو قربانی کا بکرا بنا کر فارغ کر دیتے ہیں اور اپنے ہاتھ جھاڑ لیتے ہیں۔ وہ یہ ذمہ داری کبھی قبول نہیں کرتے کہ آخر نیوز روم یا رپورٹر کس غیر ضروری پریشر میں تھا؟ کیا اسے مطلوبہ وسائل میسر تھے؟ یا وہاں تربیت یافتہ افراد کی کمی تھی؟ یا ان پر کمزور صحافی جو بدمزاج بھی ہوں مسلط کردیئے گئے ہیں۔ اس تمام تماشے میں نقصان صرف اور صرف صحافت سے وابستہ محنت کشوں کا ہوتا ہے۔
پاکستان میں نجی نیوز چینلز کو آئے پچیس سال ہونے کو ہیں۔ اب وقت ہے کہ بطور صحافی اور بطور ناظر ہم بھی تھوڑی میچیوریٹی کامظاہرہ کریں ۔ کسی چینل کی غلطی پر اسے پالیسی قرار دے کر تیر و تبر چلانا ہمیں جذباتی اور غیر سنجیدہ ثابت کرتا ہے۔ بازاری زبان میں کہیں تو یہ چھچھورا پن لگتا ہے۔
ہماری صحافت کی تاریخ بڑی بڑی غلطیوں سے بھری پڑی ہے۔ بھٹو کے لیے "ادھر ہم ادھر تم” کی متنازع سرخی ہو، محترمہ بینظیر بھٹو کے لیے "مہاجر چوہے” والی بات یا پھر پاکستان کو "ایک ارب نہیں، ایک عرب ملنے” کی مشہورِ زمانہ سرخی۔ یہاں تک کہ معتبر انگریز اخبار سے بھی ماضی میں اسپیلنگ کی ایسی فاش غلطی ہوئی جس کے معنی انتہائی بیہودہ نکلتے تھے۔
حقیقت یہ ہے کہ غلطی سب سے ہوئی ہے۔ وہ صحافی ہی نہیں جس سے کبھی غلطی نہ ہوئی ہو غلطی دراصل اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ کام کر رہے ہیں۔ اس بار اے آر وائی سے وابستہ دوستوں سے بھی ایک غلطی ہوئی ہے۔ اسے ادارتی پالیسی سمجھ کر حملہ آور نہ ہوں۔ جس دن یہ ادارے کی شعوری پالیسی بن جائے، اس دن معافی نا دیجیئے گا لیکن فی الحال ہمیں انفرادی غلطی اور اداراتی سوچ میں فرق کرنا سیکھنا ہوگا۔ اب ہمیں میچیور ہوجانا چاہیے۔
