اسلام آباد( نمائندہ خصوصی):سابق رکن قومی کمیشن برائے اقلیتی امور البرٹ ڈیوڈ نے کہا ہے کہ پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کی حکمت عملی اور بصیرت کے نتیجہ میں آج دنیا اسلام آباد کو امن کے مرکز کے طور پر دیکھ رہی ہے، پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ وہ نہ صرف اپنے عوام بلکہ پورے خطے کے لیے امن اور استحکام کا ضامن ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو یہاں جاری بیان میں کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قیادت نے جس تدبر اور حکمت عملی سے عالمی طاقتوں کو ایک میز پر لانے کی کوشش کی ہے، وہ نہ صرف پاکستان کے وقار میں اضافہ ہے بلکہ خطے کے مستقبل کے لیے بھی امید کی کرن
ہے۔ البرٹ ڈیوڈ نے کہا کہ پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازعہ کے تناظر میں ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے عالمی سطح پر اپنی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔پاکستانی فوجی قیادت بالخصوص چیف آف ڈیفنس فورسز و آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور سیاسی قیادت وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی رہنمائی میں عالمی طاقتوں کے ساتھ براہِ راست رابطے قائم کیے گئے تاکہ امن، مکالمہ اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کیے جاسکیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت اس حقیقت کی غمازی کرتی ہے کہ 9 مئی 2025 کے بعد پاکستان نے نہ صرف داخلی استحکام حاصل کیا بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنی حیثیت کو ایک ذمہ دار اور امن پسند ریاست کے طور پر منوایا۔وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے متعدد بار بات چیaت کی اور امریکا کے ساتھ بھی براہِ راست رابطے قائم کیے گئے جس نے پاکستان کو ایک قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام اقدامات پاکستان کے اس عزم کی عکاسی کرتے ہیں کہ وہ نہ صرف اپنے عوام کے لیے امن و استحکام چاہتا ہے بلکہ خطے اور دنیا کے لیے بھی ایک پرامن اور تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
