اسلام آباد( نمائندہ خصوصی):بین الاقوامی این جی او مرسی کور پاکستان نے عالمی یومِ تپ دق (ٹی بی) 2026 کے موقع پر پاکستان میں اس مہلک مگر قابلِ علاج متعدی بیماری کے خاتمے کے لیے فوری، مربوط اور پائیدار اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔منگل کو جاری بیان میں مرسی کور پاکستان کے کنٹری ڈائریکٹر عارف جبار خان نے کہا کہ پاکستان تپِ دق (ٹی بی) سے شدید متاثرہ ممالک میں شامل ہے ۔یہ عالمی سطح پر متاثرہ افراد کا لگ بھگ 6.3 فیصدبنتے ہیں۔یہ صورتحال فوری، مربوط اور مؤثر اقدامات کی متقاضی ہے۔ انھوں نے کہا کہ تپ دق دنیا بھر میں کسی ایک متعدی جرثومے سے ہونے والی اموات کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق 2024 میں تقریباً ایک کروڑ سات لاکھ افراد ٹی بی کا شکار ہوئے جبکہ 12 لاکھ 30 ہزار افراد اس مرض کے باعث جان کی بازی ہار گئے۔یہ بیماری متاثرہ فرد کے کھانسنے، چھینکنے یا بات کرنے سے فضا میں پھیلتی ہے۔
اگرچہ یہ بنیادی طور پر پھیپھڑوں کو متاثر کرتی ہے، تاہم دماغ، گردوں اور ریڑھ کی ہڈی سمیت دیگر اہم اعضا کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ عالمی سطح پر ٹی بی کے 54 فیصد مریض مرد، 35 فیصد خواتین اور 11 فیصد بچے ہیں جبکہ بچوں میں ٹی بی اب بھی خاطر خواہ توجہ سے محروم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اُن ممالک میں شامل ہے جہاں تپِ دق (ٹی بی) کا بوجھ انتہائی زیادہ ہے۔ ملک میں ہر سال تقریباً 6 لاکھ 70 ہزار نئے کیسز سامنے آتے ہیں، جو عالمی بوجھ کا لگ بھگ 6.3 فیصد ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان میں تپِ دق کے خلاف اقدامات کو سرکاری و نجی شعبوں کے باہمی تعاون سے نمایاں تقویت ملی ہے۔مرسی کور پاکستان نے نیشنل ٹی بی کنٹرول پروگرام اور صوبائی ٹی بی پروگرامز کے اشتراک اور گلوبل فنڈ کے تعاون سے پبلک پرائیویٹ مکس ماڈلز کے تحت ٹی بی خدمات تک رسائی کو وسعت دی ہے، جس کے نتیجے میں خصوصاً پسماندہ علاقوں میں لاکھوں افراد مستفید ہو رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ تپِ دق کے خاتمے کے لیے محض طبی علاج کافی نہیں بلکہ عوامی آگاہی میں اضافہ اور صحت کی سہولیات تک مساوی رسائی بھی ناگزیر ہے۔ اگرچہ سرکاری و نجی شراکت داری کے نتیجے میں نمایاں
پیش رفت ہوئی ہے تاہم بدنامی(اسٹگما)اور غلط فہمیاں اب بھی مریضوں کو بروقت علاج سے دور رکھتی ہیں جس سے بیماری کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوتا ہے۔ہمیں کمیونٹی کی سطح پر آگاہی کو مزید مؤثر بنانا، احتیاطی علاج کو فروغ دینا اور بچوں سمیت تمام افراد کے لیے بلا تعطل صحت خدمات کی فراہمی یقینی بنانا ہوگی۔ آگاہی میں اضافہ، سپلائی چین کی مضبوطی اور پائیدار نظام میں سرمایہ کاری ٹی بی سے پاک پاکستان کے حصول کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔عارف جبار خان نے کہا کہ نیشنل ٹی بی کنٹرول پروگرام اور صوبائی ٹی بی پروگرامز ملک سے ٹی بی کے خاتمے کے لیے قابلِ ستائش کام کر رہے ہیں۔ این ٹی پی کی قیادت میں ہم قومی اہداف کے حصول کے لیے پُرامید ہیں، جبکہ صحت کے مجموعی نظام کو بھی مضبوط بنایا جا رہا ہے تاکہ دیرپا اور پائیدار نتائج حاصل کیے جا سکیں۔
