اسلام آباد۔ ( نمائندہ خصوصی):آپریشن ”غضب للحق“ کے دوران 18 مارچ 2026ء کو شام 7 بجے (سیز فائر کے اعلان) تک فتنہ الخوارج / افغان طالبان کے 707 دہشت گرد ہلاک اور 938 سے زائد زخمی ہوگئے۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے بدھ کو سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ”ایکس“ پر اپنی ایک پوسٹ میں بتایا کہ آپریشن ”غضب للحق“ کے دوران افغان طالبان کی 255 چیک پوسٹیں تباہ ہوئیں جبکہ 44 چیک پوسٹوں پر قبضہ کیا گیا۔ اسی طرح 237 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپیں تباہ کی گئیں۔
افغانستان میں دہشت گروں کے ٹھکانوں اور ان کے معاون انفراسٹرکچر کے 81 مقامات کو فضائی کارروائی میں موثر طریقے سے نشانہ بنایا گیا۔ 16 مارچ کی شب پاکستان کی مسلح افواج نے کابل اور ننگر ہار میں افغان فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ ان کارروائیوں کے دوران پاکستان کی مسلح افواج نے کابل اور ننگر ہار میں ڈرون سٹوریج، تکنیکی معاونت کا مرکز اور اسلحہ و سازوسامان کے ذخیرے کی تنصیب بھی تباہ کر دی جسے افغان طالبان اور دہشت گرد عناصر پاکستان کے معصوم شہریوں کے خلاف استعمال کر رہے تھے۔اسی طرح پاکستان کی مسلح افواج نے باجوڑ، کرم، تورخم، خیبر، شمالی و جنوبی وزیرستان کے سیکٹرز میں افغان طالبان کی چوکیوں کو موثر انداز میں نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔ جاری کی گئی ویڈیو میں پاکستان کی جانب سے ان تنصیبات، چوکیوں اور دہشت گرد کیمپوں کے خلاف کئے گئے درست اور ہدفی کارروائی کی جھلک دکھائی گئی ہے جو افغان سرزمین سے دہشت گردی کی براہ راست یا بالواسطہ معاونت کر رہے تھے۔ افغان حکومت اور میڈیا کے بعض حصوں کی طرف سے جھوٹے دعوئوں کے برعکس ان کارروائیوں کے دوران کسی بھی شہری آبادی یا سول انفراسٹرکچر کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔
