اسلام آباد۔( نمائندہ خصوصی)قومی کمیشن برائے وقار نسواں نے اسلام آباد میں خواتین کارکنان اور رہنمائوں کی حراست سے متعلق خبروں کا سنجیدہ نوٹس لیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق عالمی یوم خواتین کے موقع پر منعقد ہونے والی عورت مارچ ریلی سے قبل اسلام آباد پولیس نے متعدد خواتین کارکنان کو حراست میں لیا۔رپورٹس کے مطابق کئی سرگرم کارکنان جن میں نمایاں خواتین حقوق کی علمبردار بھی شامل تھیں، سیکٹر ایف۔6 کے علاقے سپر مارکیٹ کے قریب اس وقت تحویل میں لے لی گئیں جب وہ قومی پریس کلب کی جانب جانے کے لیے جمع ہو رہی تھیں۔ حکام کے مطابق ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144 کے نفاذ اور اجتماع کے لیے عدم اعتراض سرٹیفکیٹ نہ ہونے کی بنیاد پر اس اجتماع کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے گرفتاریاں عمل میں لائی
گئیں۔قومی کمیشن برائے وقار نسواں خواتین رہنمائوں اور کارکنان کے ساتھ مبینہ طور پر کیے گئے غیر انسانی اور غیر مہذب سلوک کی سخت مذمت کرتا ہے۔یہ وہ خواتین ہیں جنہوں نے اپنی زندگیاں پاکستان میں خواتین کے حقوق کے فروغ اور تحفظ کے لیے وقف کر رکھی ہیں۔ انہوں نے انصاف، مساوات اور خواتین کے وقار کے لیے طویل عرصہ جدوجہد کی ہے، لہٰذا ان کے ساتھ تضحیک آمیز یا غیر شائستہ رویہ انتہائی تشویشناک اور ناقابل قبول ہے۔کمیشن کا موقف ہے کہ ان خواتین کو اپنے بنیادی آئینی حق یعنی پرامن اظہار رائے اور اجتماع کے حق کے استعمال پر گرفتار نہیں کیا جانا چاہیے تھا تاہم اگر کسی صورت میں حکام کسی فرد کو حراست میں لینا ضروری سمجھیں تو قانون اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ان کے ساتھ مکمل وقار اور احترام کے ساتھ برتائو کیا جائے اور تمام قانونی تقاضوں اور انسانی حقوق کے معیارات کی پابندی کی جائے۔کمیشن متعلقہ حکام پر زور دیتا ہے کہ حراست میں لی گئی تمام خواتین کے ساتھ انسانی اور باوقار سلوک کو یقینی بنایا جائے، انہیں محفوظ حراستی حالات فراہم کیے جائیں، اور انہیں قانونی عمل تک مکمل رسائی، وکیل کی سہولت اور اپنے اہلِ خانہ سے رابطے کا حق دیا جائے۔قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں بطور قومی قانونی ادارہ پاکستان میں خواتین کے حقوق کے تحفظ اور فروغ کا ذمہ دار ہے۔ کمیشن اس صورتحال کی مسلسل نگرانی جاری رکھے گا اور اس امر کو یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہے کہ ملک میں ہر خاتون کے وقار، تحفظ اور بنیادی حقوق کا ہر حال میں احترام کیا جائے۔
