آج خواتین کا عالمی دن منایا جارہا ہے. پاکستان خصوصاً سندھ میں بھی یہ رسم پوری کی جائے گی میں سندھ کی بیٹی ہوں۔ تین دہائیوں سے صحافت سے وابستہ ہوں۔ اس طویل سفر میں میں نے رپورٹنگ بھی کی، ادارت بھی کی اور ایک ایسا قدم بھی اٹھایا جسے میں نے ہمیشہ خدمت سمجھا: میں نے ایک روزنامہ شروع کیا۔ ایک عورت کے لیے یہ فیصلہ آسان نہیں تھا، کیونکہ ہمارے معاشرے میں صحافت اور خصوصاً اخبارات کی اشاعت کا میدان زیادہ تر مردوں کے قبضے میں رہا ہے۔ مگر میں نے یہ راستہ اس یقین کے ساتھ اختیار کیا کہ صحافت صرف پیشہ نہیں بلکہ ایک ذمہ داری بھی ہے۔وقت کے ساتھ مجھے یہ بھی اندازہ ہوا کہ اصولوں پر قائم رہنا کبھی کبھی سب سے مشکل راستہ بن جاتا ہے۔ میں نے کمیشن کے نظام کو قبول کرنے سے انکار کیا، کیونکہ میرا یقین تھا کہ صحافت کا اصل سرمایہ اس کی ساکھ اور خودمختاری ہوتی ہے۔ اگر ایک اخبار اپنے اصولوں سے سمجھوتہ کر لے تو پھر وہ عوام کے اعتماد کی حفاظت کیسے کر سکتا ہے؟
2024 میں سندھ میں اطلاعات کے وزیر کے طور پر Sharjeel Inam Memon نے ذمہ داری سنبھالی اور اطلاعات کے نظام میں نئی انتظامی ترتیب سامنے آئی۔ اسی عرصے میں میرے اخبار کے سرکاری اشتہارات بند ہو گئے۔ وجہ بالکل خاص تھی میں سوال کرتی تھی میں کمیشن دینے پر تیار نہیں تھی. آج ڈیڑھ برس سے زیادہ وقت گزر چکا ہے اور میرا اخبار ان اشتہارات سے محروم ہے جو کسی بھی علاقائی اخبار کی بقا کے لیے اہم سمجھے جاتے ہیں۔
میں نے اس صورتحال پر خاموشی اختیار نہیں کی۔ میں نے مختلف فورمز پر اپنی بات رکھی، سوشل میڈیا پر احتجاج ریکارڈ کرایا اور یہ سوال اٹھایا کہ اگر ایک خاتون پبلشر اپنے اصولوں پر قائم رہنے کی کوشش کرے تو کیا اس کا نتیجہ یہ ہونا چاہیے کہ اس کے ادارے کو نظر انداز کر دیا جائے؟ اسے بتایا جائے کہ وہ ریڈ لائن کراس کررہی ہے. اگر وہ حکومتی اداروں کو ان کی ذمے داری یاد دلانے تو وہ ریڈ لائن کراس کررہی ہے اگر وہ وزیر اطلاعات کو بتائے کہ ان کے محکمہ کے سیکریٹری اور ڈائریکٹر کس طرح کمیشن نہ دینے پر حیلے بہانے کرکے ان کے اشتہارات بند کررہے ہیں تو وہ ریڈ لائن کراس کررہی ہے
یہ سوال آج اس لیے بھی زیادہ معنی رکھتا ہے کیونکہ دنیا بھر میں International Women’s Day منایا جا رہا ہے۔ اس دن خواتین کی جدوجہد، قربانیوں اور کامیابیوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ عورت نے ہر میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔اگر ہم یورپ اور امریکہ کی طرف دیکھیں تو وہاں صحافت کے میدان میں خواتین کی قیادت کی کئی مثالیں ملتی ہیں۔ امریکہ میں Katharine Graham نے The Washington Post جیسے بڑے اخبار کی سربراہی کرتے ہوئے یہ ثابت کیا کہ خواتین نہ صرف اداروں کا حصہ بن سکتی ہیں بلکہ انہیں کامیابی سے آگے بھی لے جا سکتی ہیں۔ ان معاشروں میں خواتین کی پیشہ ورانہ کامیابی کو ترقی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
لیکن ہمارے معاشرے میں یہ سوال اب بھی باقی ہے کہ کیا ہم واقعی خواتین کو وہی مواقع دے رہے ہیں جن کی بات ہم عالمی دنوں پر کرتے ہیں؟ اگر ایک خاتون تین دہائیوں تک صحافت سے وابستہ رہے، اپنا اخبار چلائے اور اصولوں پر قائم رہنے کی کوشش کرے، مگر پھر بھی اسے مسلسل رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے تو یہ صورتحال صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں رہتی بلکہ ایک بڑے سماجی سوال میں بدل جاتی ہے۔
میرا احتجاج اسی سوال کی علامت ہے۔ میں آج بھی یہ سمجھنے کی کوشش کر رہی ہوں کہ کیا اصولوں پر قائم رہنا واقعی اتنا سنگین جرم ہے؟ کیا ایک خاتون صحافی کی آواز اتنی کمزور ہے کہ اسے سننے والا کوئی نہیں؟آج جب دنیا خواتین کے عالمی دن کی بات کر رہی ہے تو میں پاکستان کی اعلیٰ قیادت سے بھی ایک سوال پوچھنا چاہتی ہوں۔ میرا سوال Asif Ali Zardari اور Shahbaz Sharif سے ہے:کیا سندھ کی ایک خاتون جرنلسٹ پبلشر کی تیس سالہ صحافتی جدوجہد کو سننے والا کوئی ہے؟
یا واقعی اس کے لیے راستہ صرف ایک بند گلی تک ہی محدود رہ گیا ہے؟کیا وزیر اطلاعات صرف اپنی سوچ پنک بسوں اور اسکوٹی تک ہی رکھیں گے کیا ان کے نزدیک سندھ کی خواتین کی ترقی یہی تک محدود ہے.


