اسلام آباد۔( نمائندہ خصوصی):سپریم کورٹ نے چار افراد کے لرزہ خیز قتل کے مرکزی مجرم فیاض اختر کی چار بار عمر قید کی سزا برقرار رکھتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وحشیانہ اور سنگین نوعیت کے جرم میں کسی رعایت کی گنجائش نہیں بنتی۔ عدالت نے شریک ملزم غلام غوث کو ناکافی اور مشکوک شواہد کی بنیاد پر شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا، جبکہ سزائے موت بحال کرنے اور دفعہ 382-B کے تحت رعایت دینے کی استدعا بھی مسترد کر دی۔رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق جسٹس اشتیاق ابراہیم کی جانب سے جاری تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ چار قیمتی جانوں کا ضیاع ایک نہایت سنگین جرم ہے اور ایسے واقعات میں عدالت کو شواہد اور قانون کے مطابق فیصلہ کرنا ہوتا ہےنہ کہ جذبات کی بنیاد پر۔ عدالت نے قرار
دیا کہ فیاض اختر کے خلاف استغاثہ نے ٹھوس اور قابلِ اعتماد شہادت پیش کی جس کی بنیاد پر اس کی سزا برقرار رکھی جا رہی ہے۔استغاثہ کے مطابق فیاض اختر نے گھریلو تنازع پر اپنی بیوی، ساس، سسر اور سالے کو قتل کیا تھا۔ ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مرکزی ملزم کو چار مرتبہ سزائے موت سنائی تھی جبکہ شریک ملزم غلام غوث کو بھی چار بار عمر قید کی سزا دی گئی تھی۔بعد ازاں ہائی کورٹ نے فیاض اختر کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا اور غلام غوث کی سزا برقرار رکھی تھی۔سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے قرار دیا کہ فیاض اختر کی چار بار عمر قید کی سزا قانون کے مطابق ہے اور اس میں مداخلت کی کوئی ضرورت نہیں۔ عدالت نے حکم دیا کہ تمام سزائیں بیک وقت (concurrently) شروع ہوں گی۔عدالت نے -B کے تحت سزا میں رعایت دینے کی استدعا بھی مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ جرم کی سنگینی کے پیش نظریہ رعایت نہیں دی جا سکتی۔سپریم کورٹ نے غلام غوث کے خلاف شواہد کا تفصیلی جائزہ لیا اور قرار دیا کہ اس کا نام ایف آئی آر میں شامل نہیں تھا جبکہ شناخت کا عمل بھی مشکوک پایا گیا۔ عدالت کے مطابق فوجداری قانون کا بنیادی اصول ہے کہ اگر کسی ملزم کے خلاف شک پیدا ہو تو اس کا فائدہ ملزم کو دیا جاتا ہے۔اسی بنیاد پر غلام غوث کو بری کر دیا گیا، جبکہ فیاض اختر کی چار بار عمر قید کی سزا برقرار رہے گی۔
