مشرق وسطی اس وقت تاریخ کے ایک نازک ترین موڑ پر کھڑا ہے بغزہ میں جاری خونریز جنگ نے نہ صرف انسانی بحران کو جنم دیا بلکہ عالمی سیاست کے کئی پر دے بھی چاک کر دئیے، اس جنگ کے اثرات محض فلسطین اور اسرائیل تک محدود نہیں رہے بلکہ پورا خطہ حتی کہ عالمی طاقتیں بھی اس کی لپیٹ میں آچکی ہیں، دوسری طرف ایران پر بڑھتا ہوا سیاسی، سفارتی اور عسکری دباؤ اس بات کی علامت ہے کہ خطے کا توازن تیزی سے بدل رہا ہے غزہ کی حالیہ جنگ نے یہ ثابت کردیا کہ فلسطین کا مسئلہ محض ایک مقامی تنازع نہیں بلکہ عالمی ضمیر کا امتحان ہے، Hamas کی کاروائیاں اور اس کے بعد اسرائیلی رعمل نے ایک بار پھر دنیا کو دو واضع کیمپوں میں تقسیم کر دیا مغربی طاقتیں اسرائیل کے ساتھ کھڑی دکھائی دیں جبکہ مسلم دنیا شدید دباؤ اور داخلی تقسیم کا شکار نظر آئی، ماضی میں عرب ممالک فلسطین کے مسئلے پر نسبتا متحد دکھائی دیتے تھے، مگر اب منظر مامہ مختلف ہے بعض عرب ریاستیں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کو معمولی پر لا چکی ہیں، جبکہ بعض ممالک داخل ، معاشی مسائل اور سلامتی کے خدشات کی وجہ سے کھل کر کوئی موثر کردار ادا نہیں کر پارہے، یہی وجہ ہے کہ غزہ کا بحران مسلم دنیا کے لیے ایک سیاسی آزمائش بن چکا ہے، سعودی عرب متحدہ عرب امارات اور قطر جیسے ممالک کی سفارتی کوششیں اپنی جگہ اہم ہیں لیکن مجموعی طور پر ایک مربوط حکمت عملی دکھائی نہیں دیتی ، یہی خلاء خطے
میں نئی صف بندیوں کو جنم دے رہا ہے، امریکہ اور مغرب کی حکمت عملی کی پالیسی واضح طور پر اسرائیل کی حمایت میں رہی ہے ، واشنگٹن کا موقف یہ رہا ہے کہا اسرائیل کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے، تا ہم جنگ کے دوران عام شہریوں کی ہلاکتوں نے امریکہ کی اخلاقی پوزیشن کو کمزور کیا ہے، امریکہ کے ساتھ NATO اور یو پی طاقتوں بھی اس صف میں دکھائی دیں، اگر چہ یورپ کے اندر عوامی سطح پر شدید اختلاف پایا گیا، مغربی ممالک میں فلسطفیوں کے حق میںبڑے مظاہرے اس بات کا اشارہ ہے کہ ریاستی پالیسی اور عوامی رائے میں واضح فرق موجود ہے، دوسری دوسری جانب ایران ایک با پھر عالمی توجہ کا مرکزی بن چکا ہے، ایران پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ خطے میں اپنے اتحاری گرو ہوں کے زریعے اثر ورسوخ بڑھا رہا ہے ، لبنان میں حزب اللہ ، یمن میں حوثی تحریک اور عراق و شام کے بعض مسلح گرو ایران کے قریب سمجھے جاتے ہیں، امریکہ اور مغربی طاقتیں برسوں سے ایران کے جوہری پروگرام پر تشویش کا اظہار کرتی رہی ہیں، United Nations کی قراداد میں اقتصادی پابندیاں اور سفارتی دباؤ ایران کو محدود کرنے کی کوشش کا حصہ ہیں مگر سوال یہ ہے کہ پابندیاں واقعی ایران کو کمزور کر پائی ہیں ؟ ایران نے پابندیوں کے باوجود نہ صرف اپنے دفاعی پروگرام کو جاری رکھا بلکہ خطے میں اپنا اثر بھی قائم اور برقرار رکھا، البتہ معاشی مشکلات نے ایرانی عوام کو ضرور متاثر کیا ہے، مہنگائی ، بے روزگار یاور کرنسی کی قدر میں کمی نے داخلی سطح پر دباؤ بڑھایا ہے غزہ کی جنگ کے دوران یہ خدشات بار با ظاہر کیئے گئے کہ کہیں یہ تناز سے بر اور است ایران، اسرائیل اور امریکہ کے تصادم میں نہ بدل جائے ،اگر چہ ابھی تک دونوں جانب سے مکمل جنگ سے گریز کیا گیا ہے، لیکن پر کسی جھڑ ہیں جاری ہیں، بخیر و احمر میں کشیدگی ،شام میں حملے اور لبنان کی سرحد پر چھٹر ہیں اس بات کی علامت ہیں کہ خطے میں بارود کے ڈھیر پر بیٹھا ہے ، ایک معمولی غلطی خطے میں وسیع پیمانے پر جنگ کو جنم دے سکتی ہے، مشرق وسطی میں اب طاقت کا کھیل صرف امریکہ اور اس کے اتحادیوں تک محدود نہیں رہا ، روس اور چین بھی خطے میں اپنا کردار بڑھا رہے ہیں، چین نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی میں کردار ادا کر کے ثابت کہ مشرق وسطی کی سیاست میں ایک نئے ثالث کے طور پر ابھر رہاہے ، روس جو پہلے ہی شام میں عسکری طور پر موجود ہے خطے میں مغرب کے اثر کو چیلنج کرنے کی کوشش کر رہا ہے ، یہی بدلتی ہوئی صف بندیاں مشرق وسطی کوئی عالمی سیاست کا مرکز بنارہی ہیں، غزہ کی حالیہ تباہی کے بعد ایک بار پھر دور یاستیحل کی بات کی جارہی ہے، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں ، بستیوں کی توسیع سیاسی اعتماد اور شدت پسندانہ بیانیے اس حل کو مزید پیچیدہ بنارہے ہیں، اگر عالمی طاقتیں واقعی امن چاہتی ہیں تو انھیں محض بیانات تک محدودرہیں گے یا کوئی عملی اور متحد حکمت عملی ترتیب دیں گے ؟ مشتر کہ اقتصادی اقدامات سفارتی دبا ؤ اور انسانی امدادوه راستے ہیں جن کے ذریعے موثر کردار ادا کیا جا سکتا ہے، مگر داخلی سیاسی اختلافات اور باہمی عدم اعتماد اس اتحاد کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں غزہ کی جنگ اور ایران پر بڑھتاد با مشرق وسطی کو ایک نئے دوراہے پر کے آئے ہیں، اگر سفارت کاری کو ترجیح کر دی گئی تو خطہ ایک بڑی جنگ کی لپیٹ میں آسکتا ہے، جس کے اثرات عالمی معیشیت اور امن پربھی مرتب ہوں گے، دنیا کو یہ تسلیم کرنا ہو کہ طاقت کے زور پر دیر پا امن قائم نہیں کیا جاسکتا، انصاف ،مکالمہ اور مساوی حقوق ہی وہ راستہ ہیں جو خطے کو استحکام دے سکتا ہے مشرق وسطی نیا نقشہ ابھی تشکیل پارہا ہے ہو چنا یہ ہے کہ کیا یہ نقشہتصادم تقسیم اور جنگ کا ہوگا یا مفاہمت تو ازن اور امن کا ؟ تاریخ اس موڑ پر دنیا ہے فیصلوں کی منتظر ہے۔
