رمضان کی آمد صرف ایک مذہنی فریضے کی یاددہانی نہیں بلکہ ایک مکمل تہذیبی ، سماجی اور روحانی انقلاب کی دستک ہوتی ہے، جیسے ہی شعبان کی آخری شام ڈھلتی ہے اور چاند نظر آنے کی اطلاع ملتی ہے تو فضار مضان المبارک کی صداؤوں سے گونج اٹھتی ہے، بازاروں میں رونق بڑھ جاتی ہے، مساجد میں تھیں لمبی ہونے لگتی ہیں، گھروں میں سحری و افطار کی تیاری شروع ہو جاتی ہے، اور دلوں میں ایک عجیب سی طمانیت اترنے لگتی ہے، یہ وہ مہینہ ہے جس کے بارے میں قرآن میں واضح اعلان ہے، کہ یہ ہدایت کا مہینہ ہے، برکتوں کا مہینہ ہے اور تقوی سکھانے کا مہنیہ ہے، رمضان کا بنیادی پیغام روزہ ہے لیکن پیروز محض سحری سے افطار تک بھوک اور پیاس برداشت کرنے کا نام نہیں ، یہ صبر ، بر داشت، دیانت داری اور خوداحتسابی کی عمل تربیت ہے جب ایک فردشدید گرمی میں پانی سامنے ہونے کے باوجود خود کورو کے رکھتا ہے ، تو دراصل وہ اپنے نفس کو قابو میں کرنا سیکھ رہا ہوتا ہے، یہی نصب انفس معاشرے کی کرپشن چھوٹے ، دھوکہ دہی اور بے انصافی سے بچا سکتا ہے، یہ قیمتی سے ہمارے ہاں بعض لوگ روزہ رکھتے ہوئے بھی زبان کی بے احتیاطی کارو باری بد دیانتی اور دوسروں کے حقوق کی پامالی سے باز نہیں آتے ، رمضان ہمیں یا دولا تا ہے کہ اگر کردار نہ بدلا تو محض ظاہری عبادات ہمیں حقیقی کامیابی نہیں دے سکتیں ، اس مہینے کا اصل امتحان افطار کی میز پر نہیں بلکہ کاروباری لین دین ، دفتر کے ماحول گھر یلو تعلقات اور عوامی رویوں میں ہوتا ہے،رمضان آتے ہی مساجد آبادہوتی ہیں، تراویح کی طویل نمازوں میں لوگ قرآن سننے اور سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، یہ اجتماعیت ہمارے معاشرتی رشتوں کو بھی مضبوط کرتی ہے، ایک ہی صف میں امیر وغریب ، افسر و مزدور ، سب کو برابر کھڑے ہوتے ہیں، یہی مساوات اسلام کا حسن ہے، ہمیں اس برابری کو صرف مسجد تک محدود نہیں رکھنا چاہئے بلکہ عملی زندگی میں بھی اور مساوات کو اپنا نا ہوگا، ہر سال امضان کی آمد کے ساتھ مہنگائی کا سوال، قیمتیں بڑھنے اور تاجروں کی منافع خوری کے معاملات بھی اٹھتےہیں، منافع خور خصوصی موقع دیکھتے ہوئے اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ، مصنوعی قلت ، زخیرہ اندوزی جیسےمعاملات سامنے آتے ہیں، جو اس بابرکت مہینے کی روح کے منافی ہے، ہر بار حکومتیں رمضان بازار لگانے اورسبسڈی دینے کا اعلان کرتی ہیں لیکن اصل ضرورت اخلاقی اصلاح کی ہے، اگر روزہ ہمیں خدا کا خوف سکھاتا ہے تو ایک تاجر کو سب سے پہلے اپنے نرخوں میں انصاف لانا چاہئے ، تراویح میں قرآن اور بعد میں ناپ تول میں کمی کرنا غلط ہے ،رمضان کا اصل پیغام اسی تضاد کو ختم کرنا ہے،رمضان دوسروں کے درد کا احساس بھی دلاتا ہے، جب ہم خود بھوک محسوس کرتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ سال بھر کروڑوں لوگ کس کرب سے گزرتے ہیں، زکواہ ، فطرانہ اور صدقات کا نظام دراصل معاشی توازن قائم کرنے کا ایک موثر ذریعہ اگر نظام شفافیت اور دیانت داری سے چلایا جائے تو معاشرے میں غربت کی شدت کافی حد تک کم کی جاسکتی ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ خیرات وقتی جوش کی بجائے مستقل منصوبہ بندی کے ساتھ دی جائے، مستحق افراد کو ہنر سکھانا چھوٹے کاروبار کے لیے مددفراہم کرنا اور تعلیمی وظائف دینا یادہ پائیدار اقدامات ہیں ، رمضان ہمیں یہی شعور دیتا ہے کہ صدقہ صرف پیسہ دینا نہیں بلکہ کسی کو پاؤں پر کھڑا کرنے میں مدد دیتا ہے، آج کا نوجوان سوشل میڈیا کے دور میں جی رہا ہے، رمضان اُس کے لیے ایک سنہری موقع ہے کہ وہ اپنی توانائیاں مثبت سمت میں استعمال کرے، قرآن فہمی کی نشستیں فلاحی کیمپ بلڈ ڈونیشن ڈرائیوز اور صفائی مہمات نو جوانوں کو نہ صرف مصروف رکھتی ہیں بلکہ انہیں قوم کی تعمیر میں عملی کردار ادا کرنے کا موقع دیتی ہیں، یہ مبینہ خود کو آپ گریڈ کرنے کا ہی ہے، وقت کی پا دیندی، نماز کی عادت مطالعے کا شوق اور منفی سرگرمیوں سے دوری اگر نو جوان نسل نے رمضان کی روح کو سمجھ لیا تو آنے والے برسوں میں ہمارا معاشرہ نمایاں تبدیلی دیکھ سکتا ہے، رمضان میں خواتین کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں بحری اور افطاری کی تیاری ، گھر کی ترتیب اور بچوں کی تربیت یہ سب اہم کام ہیں لیکن خواتین کو صرف کچن تک محدود کر نارمضان کی اصل روح نہیں، مردوں کو بھی گھریلو ذمہ داریوں میں حصہ ڈالنا چاہئے تا کہ عبادت اور روحانی ترقی کے مواقع سب کو یکساں مل سکیں ، رمضان گھروں میں محبت ، برداشت اور تعاون کی فضا قائم کرنے کا مہینہ ہے،اگر ہر رشتہ ایک دوسرے کے ساتھ نرمی سے پیش آئیں تو یہی گھر میلوسکون معاشرے کے استحکام کاباعث بنتا ہے،افطار کے دستر خوان پر رنگارنگ پکوان ہمارے کلچر کا حصہ بن چکے ہیں، مگر ہمیں اعتدال کو نہیں بھولنا چاہیے ، زیادہ تلی ہوئی اور میٹھی اشیاء بصحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں، روزہ در اصل جسم کو ڈیٹا کس کرنے اور نظام ہا تم کو آرام دینے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے، اگر ہم سادگی اور متوازن غذا اپنا ئیں تو رمضان جسمانی طور پر بھی فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے ، دنیا بھر کے مسلمان ایک ہی جذبے کے ساتھ مناتے ہیں، چاہے وہ پاکستان ہو ہتر کی ہو ہسعودی عرب ہو یا یورپ امریکہ میں آباد مسلمان، سب ایک ہی احترام اور بھائی چارے کا درس دیتی ہے، ہمیں فرقہ وار بیت اور تعصب سے بالا
تر ہو کر رمضان کو اتحاد کا ذریعہ بنانا چاہیئے ، رمضان کی آمد دراصل ایک سالانہ احتساب کا موقع ہے،
ہمیں خود سے سوال کرنا چائیے
کیا پچھلے رمضان کے بعد ہماری نماز بہتر ہوئی ؟
کیا ہمارے معاملات میں دیانت آئی ؟
کیا ہم نے کسی کی دل آزاری کم کی ؟
کیا ہم نے کسی مستحق کی مستقل مدد کی ؟
اگر ان سوالوں کے جواب مثبت نہیں تو یہ رمضان ہمارے لیے ایک نیا آغاز ہونا چاہیئے، رمضان ہر سال آتا ہے ،سوال یہ ہے کہ کیا ہم ہر سال بدلتے ہیں؟ اگر یہ چیز صرف عبادات تک محدو در ہے اور ہمارے رویوں میں کوئی پائیداری تبدیلی نہ آئے تو ہم اس کے اصل مقصد سے محروم رہ جائیں گے ، رمضان کا پیغام واضح ہے اتقوی اختیار کرو، انصاف کرو، دوسروں کے حقوق ادا کرو اور اپنے نفس پر قابو پا ؤ، آپ اس رمضان عہد کریں کہ ہم صرف سحری و افطاری کے اوقات نہیں دیکھیں گے بلکہ اپنی زندگی کے ہر پہلو کو بہتر بنانے کی کوشش کریں گے ،بازار میں دیانت ، گھر میں محبت ، دفتر میں ذمہ داری اور معاشرے میں ہمدردی ، یہی وہ تبدیلیاں ہیں جو رمضان کو محض ایک مہینہ نہیں بلکہ ایک مستقل انقلاب بنا سکتی
ہیں
