کراچی ( نمائندہ خصوصی)
تیرہ سالہ ابھرتی ہوئی مُصنفہ سیّدہ مِنسا زہرا کی انگریزی تصنیف “Before the Sirens Came” کی پروقار تقریبِ رونمائی کا انعقاد آرٹس کونسل آف پاکستان، کراچی میں ہوا۔ تقریب میں شہر کی ممتاز ادبی و فکری شخصیات نے شرکت کی اور نو عمر مصنفہ کے تخلیقی سفر کو سراہا۔ تقریب کی نظامت ڈاکٹر سلیم مغل نے کی۔ مہمانِ خصوصی ڈاکٹر ساجد حسین تھے جبکہ تقریب کی صدارت معروف دانشور اور ادیب سحر انصاری نے کی۔ اس موقع پر عثمان جامعی اور فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر صابر اُبو مریم سمیت دیگر ممتاز اہلِ قلم نے خطاب کیا۔ مقررین نے اپنے خطابات میں سیّدہ مِنسا زہرا کی فکری پختگی، موضوع کے انتخاب اور اسلوبِ بیان کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کم عمری میں اس سطح کی تحریر
ادبی دنیا کے لیے خوش آئند اضافہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین جیسے حساس اور انسانی موضوع پر ایک نوعمر قلمکار کی سنجیدہ اور باوقار آواز نہ صرف حوصلہ افزا ہے بلکہ مستقبل میں ایک مضبوط ادبی شناخت کی نوید بھی دیتی ہے۔ اپنے خطاب میں مصنفہ سیّدہ مِنسا زہرا نے کتاب کی تصنیف کے محرکات اور اسباب بیان کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین کا کاز ان کے شعور اور تربیت کا حصہ رہا ہے۔ انہوں نے اس کامیابی کا تمام تر کریڈٹ اپنے والدین، اساتذہ اور دانشورانِ ملت و بُزرگانِ قوم کو دیا، جن میں ڈاکٹر فاطمہ حسن، ڈاکٹر سید شاہد رضا، معروف شاعر و ایڈووکیٹ مجاھد شاھ، ھُما سروسز کے شاھد رضوی،
سر محمد عباس زیدی، پروفیسر نثار شیخ، عابد شیخ، آفتاب میرانی، شاعر قیصر عباس قیصر، ادیب رضوان نقوی, بزرگ صحافی و ادیب شاعر محمود شام, ڈاکٹر پروفیسر سحر انصاری, سِپلا صدر پروفیسر منور عباس، ڈاکٹر تنوین مغل، شاعرہ یاسمین یاس، پروفیسر آغا شیر گل سرکی, ایجوکیشنلسٹ عبد الکریم سومرو, نعت خواں حاجی پرویز گُل سرکی،اسٹوری ٹیلر مجید ملاح، ایجوکیشنلسٹ میڈم ارم سُہیل, ڈاکٹر انصار الدین مدنی, جناب عزیز الاسلام، ایڈووکیٹ ثمر عباس، آرٹسٹ آغا مجتبیٰ زمانی، پروفیسر ڈاکٹر نزہت انیس, جیوگرافر نیاز کاچو, اسکاؤٹ لیڈر سید ارتضیٰ, جناب شوکت علی چنگیزی اور دیگر شامل ہیں۔ کتاب کا دیباچہ فلسطین سے قلبی وابستگی، خاندانی تربیت اور عالمی حالات کے تناظر میں ایک حساس ذہن کی بیداری کا عکاس ہے۔ مصنفہ نے اپنی تحریر میں امید، مزاحمت اور یادداشت کی طاقت کو مرکزی حیثیت دی ہے۔ تقریب کے اختتام پر مقررین نے سیّدہ مِنسا زہرا کے روشن مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور دعا کی کہ وہ ادب کی دنیا میں پاکستان کا نام مزید روشن کریں۔
[7:37 AM, 2/14/2026] MTJ:

